تازہ تر ین

چوری شدہ موبائل کے خفیہ کوڈ تبدیل کر کے فروخت کرنے کا دھندہ عروج پر

لاہور(نادر چوہدری سے)صوبائی دارالحکومت میں چور ، ڈاکو اور انکے سہولت کارمتحرک ، چوری اور ڈکیتی میںچھینے جانے والے موبائل فونز کے آئی ایم ای آئی نمبرز تبدیل کر نے کا دھندہ عروج پر ، 3سے 5ہزار روپے میں اصل آئی ای ایم ای آئی نمبر تبدیل کر کے موبائلز کی فروخت کا انکشاف ، پی ٹی اے کی جانب سے تبدیل شدہ آئی ایم ای آئی نمبر والے موبائل کا کسی بھی نیٹ ورک سے رابطہ نہ ہونے کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ، مدر بورڈ سمیت دیگر اہم پرزہ جات خراب ہونے والے والے موبائلز کے آئی ایم ای آئی نمبرز دیگرسیٹوں کو منتقل کر نے کا انکشاف ،قانون نافذ کرنے والے ادارے روک تھام میںمکمل طور پر ناکام ۔ذرائع کے مطابق ہال روڈ سمیت لاہور کی مختلف مارکیٹوں اور دکانوں میں موبائلز کو فلیش کرنے سمیت ان میں سافٹ ویئرز انسٹال کر نے کا کاروبار جاری ہے جس کی آڑ میں دکانداروں کی جانب سے موبائل فونز کا ای ایم ای آئی نمبر تبدیل کرنے کا مکروہ دھندہ بھی اپنے عروج پر ہے ۔ کوئی بھی موبائل فون ای ایم ای آئی نمبر کے بغیر نہیں ہوتا جبکہ موبائل گم ہونے یا چھینے جانے کی صورت میں مالک اپنا آئی ایم ای آئی نمبر پولیس دیتا ہے جس کے ذریعے موبائل فون کو ٹریس کر کے اسکی لوکیشن معلوم کرتے ہوئے ملزم تک پہنچا جاتا ہے لیکن پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تفتیش کے راستے میںموبائل مارکیٹوں میں سافٹ ویئر کے نام پر موبائلز کا آئی ایم ای آئی نمبرتبدیل کر نے والے دکاندار کھلے عام حائل ہورہے ہیں ۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ہال روڈ مارکیٹ ، پی ایم اے ٹریڈ سینٹر اور حفیظ سینٹر سمیت شہر بھر میں موبائل سافٹ ویئر کا کام کر نے کی آڑ میں دکاندار چوری ،ڈکیتی اور اغواءبرائے تاوان سمیت دہشتگردی اور دیگر سنگین نوعیت کی وارداتوں میں استعمال ہونے والے موبائل فونز کا ای ایم ای آئی نمبر 3سے 5ہزار روپے میںتبدیل کردیا جاتا ہے جس کے بعد نئے آئی ایم ای آئی نمبر کے ایکٹیوہوتے ہی اصل ملزمان تک رسائی مکمل طور پر ناممکن ہوجاتی ہے ۔ یہ سافٹ ویئر کا کاروبار کر نے والے دکانداروں نے اپنے مخصوص گاہک لگائے ہوئے ہیں جن کا یہ کام کر تے ہیں اور ان کے علاوہ یہ کسی کا بھی کام نہیں کرتے ۔ بیرن ممالک سے سمگل ہوکر پاکستان لائے جانے والے موبائل فونز کے کنٹری کوڈ بھی ان سافٹ ویئر انجینئرز کی جانب سے چند سوروپے کے عوض کھول دیے جاتے ہیں جبکہ مختلف شہریوں کے موبائلز سے ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا ریکور کرنے کا بھی غیر قانونی کام کیا جاتا ہے ۔ نام نہ ظاہر کر نے کی شرط پر ایک تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ میرے پاس ایک موبائل چھینے جانے کا کیس آیا جس کا میں نے جب آئی ایم ای آئی نمبر ٹریس کروایا تو معلوم ہوا کہ ایک ہی ایم ای آئی نمبر کے 2موبائل چل رہے ہیں جن میں سے ایک متاثرہ شہری کا جبکہ دوسرا چند روز قبل شاہدرہ کے علاقہ سے نیا ڈبہ پیک خریدا گیا ہے ۔ تفتیشی کا کہنا تھا کہ ایک آئی ایم ای آئی نمبر دو مختلف موبائلز پر لگا ہوناان سافٹ ویئر والوں کی کارستانی ہے جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اگر سافٹ ویئر شاپ پر چوری یا ڈکیتی سمیت کسی بھی واردات والے موبائل کا آئی ایم ای آئی نمبر جس پر قانون نافذ کرنے والے ادارے تفتیش کررہے ہوتے ہیں کسی بھی دوسرے شہری کے موبائل کا آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل کر کے اس کے موبائل پر انسٹال کیا جاسکتا ہے جس سے ممکنہ طور پر اصل ملزم کی جگہ شریف شہری کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ اس طرح کے واقعات رونماءہوبھی رہے ہوں۔مارچ 2014ءمیں ایف بی آر کی جانب سے جاری حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی اے کے ٹائپ سرٹیفکیشن کے بغیر موبائل فون درآمد نہیں کیے جا سکیں گے۔ایف بی آر کے اس حکم نامے کے بعد لاکھوں موبائلز بندرگاہوں پر پھنس گئے تھے جبکہ پر امپورٹرز کا کہناتھاکہ اس حکم کے بعد مزید موبائل امپورٹ کے آرڈر کینسل کر دیے گئے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی طرف سے نومبر 2015ءکو ایک بار پھر آئی ایم ای آئی نمبر کی منظوری کے بغیر موبائل فونز کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ری آرگنائزیشن ایکٹ 1996 کی شق 29 کے تحت تمام مینوفیکچررز اور امپورٹرز کیلئے موبائل فونز کی ٹائپ اور آئی ایم ای آئی نمبر کی پی ٹی اے سے منظوری لازم قرار دیدی گئی۔ پی ٹی اے کی طرف سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ بغیر آئی ایم ای آئی نمبر یا پھر جعلی آئی ایم ای آئی نمبر کے حامل موبائل فونز استعمال ہونے کا انکشاف ہونے پر سکیورٹی رسک کے تحت کسٹم حکام اور متعلقہ کمپنیوں کو جاری مراسلہ کے مطابق صر ف پی ٹی اے سے منظور شدہ موبائل فونز کنسائنمنٹ کی ہی کلیئرنس ہو سکےں گی جبکہ مینوفیکچررز اور امپورٹرز پی ٹی اے کو موبائل فونز کی تمام تفصیلات فراہم کرنے کے پابند ہو نگے۔جولائی 2017ءکو پی ٹی اے کی جانب دی جانے والی ایک بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں اس وقت 5سب میرین کیبلز استعمال ہو رہی ہیں، موبائل براڈ بینڈ کے باعث ملک میں پہلا برانچ لیس بینک سم قائم ہو گیا اور اس وقت سالانہ 74 ہزار ٹیرا بائیٹ ڈیٹا استعمال ہو رہا ہے جبکہ موبائل فونز کی چوریاں کم کرنے کیلیے نیا سسٹم لایا جا رہا ہے جس کے بعد چوری شدہ موبائل فون کا اگر آئی ایم ای آئی نمبر تبدیل ہو بھی گیا تو وہ استعمال نہیں ہو سکے گا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain