اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں بلکہ پوری مسلم لیگ ن ہی فارورڈ بلاک ہے ، نوازشریف طویل عرصے تک پاکستان واپس نہیں آئیں گے ، پارٹی کے بیشتر لوگ کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو پارٹی کی صدارت کے عہدے سے
دستبردار ہو جانا چاہئے، یہ انکشافات سینئر تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو میں کئے، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت ایک اجلاس ہوا جس میں شہباز شریف ، حمزہ شہباز ، میر ظفر اللہ جمالی ، ریاض پیر زادہ اور چوہداری نثار سمیت دیگر رہنماﺅں نے شرکت کی کافی لوگ آئین اور قانون کےساتھ کھڑے ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یا عدم اعتماد کی قرارداد آ جا ئے گی یا شاہد خاقان عباسی اسمبلی توڑیں گے۔ نواز شریف کی جانب سے ا پاکستان میںنتشار پھیلائے جانے کی وجہ سعودی عرب میں بہت غصہ پایا جاتا ہے، نواز شریف کو پتہ کرنا چاہئے کہ اکرم شیخ نے ان کو پھنسانے کے لئے کس کس سے کتنا پیسہ لیا ۔ ،فریال تالپور پوری سندھ حکومت چلا رہی ہیں اور انہوں نے مراد علی شاہ کو سائیڈ پر کیا ہوا ہے ابھی عذیر بلوچ کا اصل کھیل تو سامنے ہی نہیںآیا جب آئے گا تو قوم کو بہت دکھ ہو گا وہ جرائم پیشہ تو تھا ہی لیکن ساتھ ہی غیر ملکی طاقتوں کے لئے بھی کام کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریکس ٹلر کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اسحاق ڈار کو نہیں بلایا گیا ، وزیر خارجہ خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میں بہت خوش آئند بات کی اور پاکستان کا موقف مضبوط انداز میں پیش کیا۔سیاسی و عسکری قیادت کے اکٹھے امریکی وزیرخارجہ سے ملاقات سے پاکستان کا ایک مضبوط موقف دنیا کے سامنے گیا۔ نیب کی جانب سے سابق وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن کی کرپشن کیس میں گرفتاری پر وفاقی اور پنجاب حکومت نے نوازشریف کو جلد وطن واپس نہ آنے کا مشورہ دیدیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی ملاقات ہوئی جس میں کرپشن کیسز میں زیر عتاب میاں نوازشریف کو گرفتار ہونے سے بچانے کیلئے حکمت عملی طے کی گئی ۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے مشاورت کے دوران مفاہمت کی سیاست کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، ملاقات کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے وزیراعظم سے کہا کہ وفاقی وزراءاور بالخصوص مریم نواز کی جانب سے اداروں پر جو الزامات کی بوچھاڑ کی جارہی ہے اس سے مزید حالات خرابی کی جانب بڑھ رہے ہیں لہٰذا وفاقی کابینہ کے وزراءاپنی بیان بازی کے دوران اداروں کے تقدس کو ملحوظ خاطر رکھیں اس پر وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ ان کا کوئی وزیر قومی اداروں کیخلاف بیان بازی نہ کرے۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب نے شرجیل میمن کی گرفتاری کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا کہ نوازشریف کی موجودہ حالات میں وطن واپسی کا فیصلہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ملک کے حالات پر تشویش ہے شہبازشریف سے ملاقات میں کہا کہ آپ بھائی کو سمجھائیں نوازشریف کے ساتھی اداروں سے محاذ آرائی نہیں چاہتے یہ انکشافات سینئر صحافی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے شہبازشریف سے ملاقات میں تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آپ نوازشریف کو سمجھائیں تھوڑا سا وقت کے ساتھ اداروں سے محاذ آرائی نہیں چاہتے۔ نوازشریف کی حیثیت اب پہلے جیسی نہیں رہی اب سعودیہ کے ذریعے این آر او ممکن نہیں ہے موجودہ حالات میں جنرل (ر) راحیل شریف کوئی کردار ادا نہیں کرسکتے۔





































