لاہور (خصوصی رپورٹ) جعلی پولیس مقابلے‘ کرپشن‘ اقدام قتل‘ قتل‘ اغوا‘ اغوا برائے تاوان‘ چوری‘ ڈکیتی‘ دھمکیاں و دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہونے کے باوجود سی آئی اے پولیس کے 37افسر واہلکار عرصہ سے پرکشش سیٹوںپر تعینات ہیں جبکہ ملزموں سے برآمد کروڑوں مالیت کا مسروقہ بھی متاثرین کودینے کے بجائے ہڑپ کر گئے۔ ذرائع کے مطابق سپیشل برانچ کی جانب سے اعلیٰ پولیس افسروں کو رپورٹ بھجوائی گئی ہے کہ سی آئی اے میں ایسے پولیس افسر واہلکار موجود ہیں جو عرصہ سے پرکشش سیٹوں پر کام کر رہے ہیں۔ ان میں بیشتر ایسے ہیں جن کے خلاف مختلف تھانوں میں سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں‘ بعض پولیس اہلکاروں اور افسروں کو جرم ثابت ہونے کے بعد برطرف بھی کیا جا چکا ہے لیکن کچھ ہی عرصہ بعد تگڑی سفارش کی بنا پر دوبارہ تعینات ہوجاتے ہیں‘ بعض انسپکٹر ڈی ایس پی کی سیٹوں پر کام کر رہے ہیں۔ ایک ہی سیٹ پر عرصہ سے تعینات ہونے والوں میں انسپکٹر میاں شفقت‘ انسپکٹر طارق کیانی‘ اے ایس آئی بشیر نیازی‘ انسپکٹر فیاض‘ انسپکٹر انور سعید‘ انسپکٹر خالد فاروقی‘ انسپکٹر شمیم پال‘ سجوار طارق انسپکٹر‘ ذوالقرنین سب انسپکٹر‘ زاہد پہلوان سب انسپکٹر‘ انسپکٹر شرجیل ضیا بٹ‘ انسپکٹر ملک داﺅد‘ ریاض شاہ سی آئی اے ڈی ایس پی اقبال ٹاﺅن اور دیگر شامل ہیں۔ سابق آئی جی پنجاب خان بیگ نے سنگین الزامات ثابت ہونے پر سلیم بٹ کو برطرف کر دیا تھا لیکن وہ اب ڈی ایس پی اینٹی کار سکواڈ کے عہدہ پر کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی پولیس افسروں و اہلکاروں کو عدالتوں نے سخت سزائیں سنائیں اور بیشتر کو اشتہاری بھی قرار دیا لیکن اس کے باوجود متعدد ملازم سی آئی اے ماڈل ٹاﺅن‘ نواں کوٹ‘ اقبال ٹاﺅن‘ سول لائنز‘ کینٹ اور کوتوالی میں کام کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق ڈی ایس پی اینٹی کار لفٹنگ ملک منیر پر کار چور گینگ اورڈی ایس پی امتیاز بھلی کے خلاف تھانہ گلبرگ میں خاتون سے زیادتی کرنے کا بھی مقدمہ درج ہوا۔ وارداتوں میں لٹنے والے متاثرین کو ریکوری بھی نہ دی گئی۔ اگر کسی کو ملی تو آٹے میں نمک کے برابر۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سی آئی اے میں عرصہ سے پرکشش سیٹوں پر کام کرنے والے ہر نئے سی آئی اے کے سربراہ ایس پی عہدہ کے افسر کو ناکام کرنے کیلئے پیشہ ورانہ رقابت شروع کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے کوئی بھی افسر زیادہ دیر تک نہیں رہ پاتا۔ تاہم اس سلسلے میں پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اچھے اور برے ملازم ہر جگہ موجود ہیں۔ کرپٹ پولیس افسروں اور اہلکاروں کے خلاف مقدمات بھی درج کئے گئے‘ بعض کے کیسز ختم ہوچکے ہیں اور بعض کے خلاف ابھی تک انکوائریاں چل رہی ہیں۔





































