لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) کالم نگار میاں حبیب نے کہا ہے کہ اس سے قبل لگتا تھا شہباز شریف اور نواز شریف کی سوچ میں اختلاف ہے لیکن اب ایسا لگتا ہے شہباز شریف نواز شریف کے بیانیے کو ہی لے کر آگے چل رہے ہیں چینل ۵ کے پروگرام کالم نگار میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لگتا نہیں نوازشریف کا ڈیو بیان جیل سے نہیں آیا ہو سکتا ہے پہلے سے ریکارڈ کر لیا گیا ہو ایسا لگتا ہے مسلم لیگ ن میں مایوسی کی فضا ہے نوازشریف کے وکلاءکا موقف ہے وہ نوازشریف کو ریلیف دلانے میں کامیاب ہو جائیں گے ایون فیلڈ فلیٹس کے معاملہ پر لندن میں لوگوں نے نواز فیملی کا جینا حرام کر دیا ہے مغربی معاشرے میں کرپشن کو قتل سے بڑا جرم گردانا جاتا ہے۔ کالم نگار ڈاکٹر راشدہ قریشی نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں جب کسی مجرم کو جیل میں ڈال دیا جاتتا ہے تو اس پر جیل کے قواعد لاگو ہوتے ہیں جیل میں جانے والا وزیراعظم نہیں رہتا پھر ان کو چند سہولیات مل جانا ہے لیکن ملک صرف نوازشریف کو مجرم قرار دے کر نہیں بچتا جو بھی کرپٹ ہو اس کو سزا دینا ہو گی نوامشریف کو جیل پارٹی کے لئے دھچکا ہے ن لیگ میں بددلی ہے الیکشن بروقت ہوں گے۔ کالم نگار میاں سیف الرحمن نے کہا ہے کہ جیل میں اگر بہتر کلاس دینی ہو تو اس کے لئے باقاعدہ اپلائی کرنا پڑتا ہے بہتر کلاس گریجوایٹ کو بھی مل جاتی ہے اور ایک مشقتی دے دیا جاتا ہے ہمارے دور میں جیل میں اے سی کی سہولت نہیں ہوتی تھی البتہ پنکھے ہوتے ہیں میڈیکل کی سہولیات سب کے لئے ایک برابر ہوتی ہیں اگر شواہد ناکافی ہوں تو ضمانت مل سکتی ہے۔ کالم نگار ضمیر آفاقی نے کہا کہ میڈیا میں خبریں شائع ہوتی ہیں کہ نوازشریف اور مریم کو وہ سہولیات نہیںدی گئیں جو بی کلاس کو ملنی چاہئیں آخر انسانی حقوق بھی ہوتے ہیں جیلوں کا ماحول خراب ہے نوازشریف دل کے مریض بھی ہیں ایسا نہیں کہ شہباز شریف جان بوجھ کر نیب کے سامنے پیش نہیں ہوہوتے وہ انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔





































