اسلام آباد(ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی جانے والی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہورہی ہے۔جسٹس محسن اخترکیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ اپیلوں کی سماعت کررہا ہے۔گزشتہ روز تینوں مجرمان کی جانب سے سزا کے خلاف اپیل اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائر کی گئیں جس کے بعد رجسٹرار آفس نے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیلیں مارکنگ کے لیے چیف جسٹس آفس بھجوائیں اور سماعت آج کے لیے مقرر کی گئی۔ہائیکورٹ میں دائر اپیلوں میں احتساب عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دینے اور اپیل پر فیصلہ آنے تک سزا معطل کر کے مجرموں کو ضمانت پر رہا کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔اپیل کے مطابق کرپشن اور بدعنوانی سے متعلق نیب آرڈیننس کی سیکشن 9 اے 5 کے تحت الزام ثابت نہیں ہوا، ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی قیمت خرید بتائے بغیر سزا دینے کا جواز نہیں تھا جب کہ ضمنی ریفرنس میں نیا الزام لگایا گیا اور نواز شریف کو اسی ریفرنس کی بنیاد پر سزا سنائی گئی۔اپیلوں میں مو¿قف اختیار کیا گیا ہے کہ ضمنی ریفرنس میں نواز شریف پر دوبارہ فرد جرم عائد کی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا کیے بغیر سزا سنائی گئی اور احتساب عدالت نے شواہد کے بغیر فیصلہ سنایا۔
اپیل میں استدعا کی گئی ہے نواز شریف کو سزا دینے کا کوئی قانونی جواز نہ تھا اس لیے ان کے خلاف غیر قانونی فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔





































