تازہ تر ین

روپے کی تاریخی بے قدری

لاہور، کراچی (نمائندگان خبریں) پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر 128روپے 26 پیسے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا۔انٹر بینک فارن ایکسچینج مارکیٹ میں کاروبار کے دوران امریکی ڈالر کی قیمت میں 6 روپے 75پیسے کا اضافہ دیکھا گیا جس کے بعد ایک الر 128روپے 26پیسے کا ہوگیا۔کاروبار کے دوران ایک موقع پر ڈالر 126روپے کی سطح پر پہنچا جس کے بعد اس میں کمی دیکھی گئی اور ایک ڈالر 125روپے 50پیسے پر ٹریڈ ہوتا رہا۔ٹریڈنگ کے دوران امریکی ڈالر کی قدر میں مجموعی طور پر ساڑھے 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ڈالر 128روپے 26 پیسے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈالر مہنگا ہونے سے حکومت کے بیرونی قرضوں میں 800ارب روپے کا اضافہ ہوا جو بڑھ کر 8ہزار 120ارب روپے ہوچکا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق مئی کے اختتام پر حکومت کا بیرونی قرض 7ہزار 324ارب روپے تھا اور مئی میں بیرونی قرضوں کی مالیت روپے میں 115.61کی شرح تبادلہ سے نکالی گئی۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور ادائیگیوں کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور ڈالر مہنگا ہونے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔جمعے کو کاروبار کے اختتام پر ڈالر 121 روپے 54 پیسے کا تھا جس میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔یاد رہے کہ رواں سال کی ابتدا میں کاروبار کے دوران ڈالر 110روپے 50پر ٹریڈ کر رہا تھا اور مختلف اوقات میں اس میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان دیکھا گیا۔انٹر بینک میں پیسے کی قدر میں کمی اور ملکی تاریخ میں ڈالر کی بلند ترین سطح کے بعد سرمایہ کار بھی بے یقینی کی کیفیت میں نظر آ ئی۔پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان ہے اور کاروباری ہفتے کے پہلے روز ڈالر کی بلند ترین سطح کے باعث 100انڈیکس میں 800پوائنٹس کی کمی دیکھی گئی۔مارکیٹ میں شدید مندی اور پوائنٹس کی کمی سے ہنڈرڈ انڈیکس پہلے سیشن میں 39ہزار 500کی سطح سے بھی نیچے آگیا۔ انٹربینک ڈالر ریٹ نے خطرے کی گھنٹی بجا دی،ملک کو بھاری قرضوں ، مایوس کن برآمدات اور بڑھتے تجارتی خسارے جیسے بھاری مسائل کا سامنا، صنعتی پیداوار میں کمی قرضوں میں ازخود اضافہ برآمدات مزید مشکلات کا شکار اور افراط زر کی شرح بڑھنے لگی جس سے عوام کی قوت خرید کم ہو جا ئے گی، ڈالر 3سا ل کی کی بلند ترےن سطح پر آنے کی وجہ سے معاشی چیلنجز مزید شدت اختیار کرگئے، ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافے کے منفی اثرات سے صنعت و تجارت اور زراعت سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں ، تیل کے علاوہ کھادیں، اشیائے خورد و نوش، مشینری اور صنعتی خام مال جےسی تمام اشیاءمہنگی جس سے تمام طبقات متاثر ، بیرون ممالک سے رزمبادلہ کی شرح میں کمی ،وصولیوں کا پاکستان میں نہ آنا اور پاکستان کو مختلف سیکٹر میں حاصل ہونے والے قرضوں کے باعث ڈالر128.26 روپے کی بلند ترےن سطح تک پہنچ گیا ، ڈالر کی قیمت میں اضافے کے باعث ذخیرہ اندوزں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، جبکہ قیمتوں میں اضافہ سے محصوص سرمایہ کاروں نے ڈالر کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی ،ڈالر کی خفیہ خریدو فروخت اور حکومت کی طرف سے چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے سے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ممکن ہوا ، ڈالر کی قمیت بڑھنے کی وجہ سے ملکی قرضوں میں بھی اضافہ ہو گیا، تفصیلات کے مطابق انٹربینک ڈالر ریٹ نے خطرے کی گھنٹی بجارہاہے پاکستان میں ہر طرف ڈالرز کی قیمتوںمیں اضا فہ کا تذکرہ عروج پر ہے اسی طرح ملکی کرنسی جس کی قدر میں روز بروز کمی ہو رہی ہے اس کی وجوہات، اسباب اور ان کے سدباب کے حوالے سے ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافے کے منفی اثرات سے صنعت و تجارت اور زراعت سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا پاکستان کو ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل کے علاوہ کھادیں، اشیائے خورد و نوش، مشینری اور صنعتی خام مال درآمد کرنے پڑتے ہیں یہ تمام اشیاءمہنگی ہوجائیں گی جس سے تمام طبقات متاثر ہونگے مختلف معاشی ماہرین اورماہر سٹاک بروکرز اورملکی مصنوعات کو ایکسپورٹ کرنے والی تاجر برادری کے علاوہ عوام نے بھی ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کو باعث تشویش قرار دیا ہے ۔ معاشی بحران سے بچنے کے لیے سٹیٹ بینک کو فوری طور پر حرکت میں آنا ہوگا ۔ملکی ایکسپورٹ کی شرح کم ہونے اور کرنسیوں کے اتار چڑھاﺅ میں ذحیرہ اندوزوں کے غیر معمولی کردار ادا کرنے سے ملکی حالات میںمنفی تبدیلی رونما ہو رہی ہے ملک روپے کی قدر میں مسلسل کمی کی بنیادی وجہ حکو متی اداروں اور تاجربرادری کے ساتھ ساتھ صنعتکاروں کا آپس میں باہمی اتفاق اور مشترکہ تعاون کا شدید فقدان ہے ملکی زرمبالہ کی شرح میں اضافہ ہونے کرنے کےلئے پاکستان کو امپورٹ اور ایکسپورٹ کے فرق کو برابرکرنا ہو گاڈالر کی قیمت کو کنٹرول میں رکھنے کے لئے ملک میں کرنسی ایکس چینج کے کاروبارکو خفیہ طریقے سے کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرنے کی ضرورت ہے بد قسمتی سے ماضی کی حکومتوں کے ساتھ ساتھ موجودہ نگران حکومت نے بھی کوئی قانون سازی نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کی روک تھام کے لئے کوئی قانون وضع نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ذخیرہ اندزوں کے حلاف کوئی منظم کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے ڈالر کی سمگلنگ اور اس کے اتار چڑھاو¿ کرنے والے مافیا کی جانب سے اکثر اوقات کرنسی کے بڑھنے کی پیشن گوئی یا اس کا ریٹ بڑھانے کی غرض سے اس کو ذخیرہ کر لیتے ہیں ڈالر کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے تدارک کےلئے نگران وفاقی وزیر خزانہ کا متعلقہ اداروں کو مصنوعی طریقہ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کرنے اور غیر قانونی فروخت کرنیوالوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاو¿ن کرنے کی ہدایات جاری کر دیںتاکہ ڈالر کی قیمت میں استحکام لایا جا سکے-

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain