تازہ تر ین

’پاکستان سے کوئی کشمیر لڑنے گیا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا‘

طورخم(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری کے خلاف ہونے والا تشدد ملک کے خلاف سازش ہوگا۔طورخم سرحد پر نئے ٹرمینل کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے گھوٹکی میں ہندو برادری کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچانے اور مظاہروں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ گھوٹکی میں پیش آنے والا واقعہ اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ان کی تقریر کو سبوتاڑ کرنے کی سازش ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے تمام اقلیوں کو یہ یقین دہانی کروائی تھی وہ اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین پاکستان اور دین اسلام میں بھی اقلیتوں کو برابر کے شہری حقوق دیے گئے ہیں۔خیال رہے کہ چند روز قبل گھوٹکی کے سندھ پبلک اسکول کے ایک طالب علم نے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے اسکول پرنسپل پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگایا تھا، جس کے بعد اس طالب علم کے والد عبدالعزیز راجپوت نے پرنسپل کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ دائر کردیا تھا۔مبینہ طور پر توہین مذہب کی اطلاع کے بعد پرنسپل کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے تھے جبکہ مظاہرین نے فوری طور پر پرنسپل کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔بعد ازاں مبینہ توہین مذہب کے الزام پر اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں اور املاک کو نقصان پہنچانے، ہنگامہ آرائی کرنے اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کے خلاف 3 مقدمات درج کرلیے گئے تھے۔
’اقوام متحدہ میں کشمیر کا کیس ایسے پیش کروں گا جیسا کبھی کسی نے نہیں کیا ہوگا‘

بھارت سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت پر انتہاپسندوں نے قبضہ کرلیا ہے کیونکہ ایسے ذہن کے لوگ ہی کسی علاقے کو اتنے دنوں تک بند کرسکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت کی پالیسی آر ایس ایس کی پالیسی ہے جو پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز ہے، جبکہ مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنادیا ہے۔وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر باور کروایا کہ جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والا آرٹیکل ختم نہیں کرتی تب تک اس سے بات چیت نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی قوم سے وعدہ کرکے جارہا ہوں کہ میں اس طرح کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں پیش کروں گا جو آج تک کسی نے نہیں کیا۔‘ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان میں اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ کشمیر میں جاکر جہاد کرے گا تو وہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرے گا۔اپنی بات جو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کو اس وقت کشمیر میں بہانہ چاہیے، وہاں اس نے 9 لاکھ فوج جمع کی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پوری کشمیری قوم بھارت کے خلاف ہے، جو ان کے ساتھ تھے اب وہ بھی بھارت کے خلاف ہوگئے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ ’مقبوضہ کشمیر میں بھارت بری طرح پھنسا ہوا ہے، بین الاقوامی برادری اس کے خلاف بیانات دے رہے ہیں، عالمی فورم پر دہائیوں بعد بات ہورہی ہے جس کی وجہ سے ان پر دباﺅ بڑھتا جارہا ہے اور اس کی رہی سہی کسر میں اقوام متحدہ میں پوری کردوں گا۔‘

طورخم سرحد پر 24 گھنٹے سروس کا افتتاح
قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے طورخم سرحد کو باقاعدہ طور پر 24 گھنٹے کھلے رکھنے کی سروس کیلئے کے لیے ٹرمینل کا افتتاح کردیا۔اپنے خطاب میں طورخم سرحد پر 24 گھنٹے سروس پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس سرحد کے کھلنے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوجائے گا جبکہ خطے میں تبدیلی آئی گی۔وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے وسطیٰ ایشیائی ممالک کے دورے کے دوران یہ دیکھا کہ ان میں کسے کئی ممالک پاکستان کے ساتھ تجارت کے خواہشمند ہیں۔اپنے خطاب سے قبل وزیراعظم عمران خان نے طورخم سرحد کو باقاعدہ طور پر 24 گھنٹے کھلے رہنے کے لیے اس کا افتتاح کیا۔وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان بھی موجود تھے۔خیال رہے کہ اس ٹرمینل کو جدید بنانے کے لیے یہاں تعمیرات کا آغاز جون میں افغان صدر کے دورہ پاکستان کے دوران وزیراعظم عمران خان سے سرحد پار تجارت میں نرمی کی درخواست کے بعد ہوا تھا۔واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2 ارب 60 کروڑ ڈالر سالانہ کی باہمی تجارت ہوتی ہے۔نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) نے کسٹمز، نادرا، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)، اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) اور فرنٹیئر کورپس سمیت دیگر محکموں کیلئے کارگو اور مسافروں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔اس کے علاوہ ٹرمینل کے لیے کنٹینرز، بیگ اسکینر، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، لائٹنگ اور دیگر سامان نصب کردیا۔طالبان اور امریکا مذاکرات سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ’افغان امن عمل ہم سے جو سکتا تھا ہم نے کیا، ان کی ملاقاتیں کروائیں، طالبان قیادت کو قطر پہنچایا جس کا اعتراف خود امریکا بھی کرتا ہے۔‘انہوں نے کہا کہ ’ہمیں یہ نہیں معلوم کہ یہ بات چیت کہاں تک پہنچیں کیونکہ پاکستان نے کبھی ان میں شرکت نہیں کی کیونکہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ مسائل کہاں ہیں تو شاید پاکستان مزید اپنی کوشش کرتا۔‘وزیراعظم نے کہا کہ اگر طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ا?گے نہ بڑھے تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا، تاہم اس نیویارک میں امریکی صدر سے ملاقات کے دوران انہیں بات چیت آگے بڑھانے پر ا?مادہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ’افغانستان میں بدامنی کی وجہ سے پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، تاہم ہم بات چیت کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے زور لگائیں گے۔‘ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ ’امریکا اور طالبان کے درمیان ایک معاہدے طے پانے والا تھا جو نہیں ہوسکتا اور منصوبے کے مطابق اس معاہدے کے بعد مجھے ان سے ملنا تھا۔‘انہوں نے کہا کہ طالبان امریکا سے بات کرتے ہیں لیکن اس وقت افغان حکومت سے بات چیت نہیں کرتے، تاہم معاہدے کے بعد ہماری کوشش ہوتی کہ طالبان اور افغان حکومت کو ایک ساتھ بٹھا کر ان کے درمیان مذاکرات کروائے جائیں۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ اگر طالبان نے افغانستان کے آئندہ انتخابات میں حصہ نہیں لیا تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔


اہم خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved