کراچی (ویب ڈیسک) : آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ کی طالبہ کی پراسرار ہلاکت سے متعلق اہم خبر سامنے آئی ہے،میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز پولیس نے نمرتا کا کال ریکارڈ حاصل کیا تھا، سب سے زیادہ کالز نوجوان مہران ابڑو کو کی گئی تھیں۔ نمرتا کےدوست مہران ابڑو کو تفتیش کرنے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا،اب مہران ابڑو کا بیان قلمدان کر لیا گیا ہے۔مہران ابڑو کا کہنا ہے کہ نمرتا سے 4 سال قبل دوستی ہوئی تھی۔نمرتا مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن میں نے منع کر دیا۔نمرتا کی موت کی اطلاع دوستوں سے ملی۔پولیس نے ایک اور طالب علم کا بیان بھی قلمدان کیا ہے۔پولیس نے نمرتا کے دوست علی شان نامی طلبا کو گذشتہ رات گرفتار کیا گیا تھا۔دونوں طلبا کے بیانات میں تضاد پایا گیا تھا۔جب کہ واقعے کے بعد متعدد والدین نے اپنی بچیوں کو چانڈکا اور ڈینٹل کالج کیمپس سے واپس بلا لیا۔یاد رہے کہ 16 ستمبر کو لاڑکانہ کے چانڈکا میڈیکل کالج کے ہاسٹل سے 22 سالہ طالبہ نمرتا کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ نمرتا کی نعش کو کمرے کا دروازہ توڑ کر نکالا گیا، نمرتا کے گلے میں دوپٹہ بندھا ہوا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نمرتا کی اس پ±ر اسرار موت کی تحقیقات کی جا رہی ہیں اور نمرتا کی موت کی حقیقی وجہ کا تاحال تعین ہونا باقی ہے۔ دوسری جانب نمرتا کی لاش آخری رسومات کے لیے گھوٹکی لائی گئی جہاں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے تاجروں نے طالبہ کی ہلاکت کے سوگ میں کاروبار بند رکھا تھا۔
طالبہ کی پراسرار ہلاکت سے متعلق اہم خبر،نمرتا کے بوائے فرینڈ کے چونکا دینے والے بیان نے کیس کا رخ بدل دیا
