لاہور (چینل۵ رپورٹ) ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار جونیئر نے اپنے انٹرویو میں کہا میرے والد قتل ہوئے میرے دادا مارے گئے میری پھوپھو ہلاک ہوئیں، میرے چچا کو مار دیا گیا، مگر ہر وقت شہادت کی اُمید کیوں کی جاتی ہے، پاکستان اس خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے پرورش پانا، ظاہر ہے ایسے میں تتحفظ کی ضرورت ہے اور اس سوچ کیضرورت ہے کہ دوسروں کو کیسے محفوظ رکھا جائے، وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے لئے تیار ہیں، میں یہ نہیں کرنا چاہتا، یہ وجہ ہے کہ میں نے آرٹس کو اپنی سیاسی آواز بنائی، میرے والد قتل، دادا مارے گئے میری پھوپھو ہلاک ہوئیں ظاہر ہے ایسے میں تحفظ کی ضرورت ہے اس سوچ کی ضرورت ہے کہ دوسروں کو کیسے محفوظ رکھا جائے یہ وجہ ہے کہ میں نے آرٹس کو اپنی سیاسی آواز بنایا جب دنیا میں سیاسی خاندانوں کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے کینیڈی خاندان کا نام لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد انڈیا کے نہرو گاندھی خاندان اور پاکستان کے بھٹو خاندان کا نام آتا ہے۔ ان تینوں گھرانوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ ان کے بیشتر افراد طبی موت نہیں مرے۔ جان ایف کینیڈی، رابرٹ کینیڈی، اندرا گاندھی، راجیو گاندھی، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر بھٹو اور ان کے بھائی شاہنواز بھٹو اور مرتضیٰ بھٹو کی موت فطری نہیں تھی۔ مرتضیٰ بھٹو کی کہانی کی ابتدا چار اپریل سنہ 1979ءکو ہوتی ہے جب پاکستان کے فوجی آمر جنرل صیاءالحق نے پوری دنیا کی اپیل کو مستردکرتے ہوئے پہلے منتخب رہنما ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی تھی لندن میں جلا وطنی کی زندگی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بینظیر نے پاکستان میں ہی رہ کر جنرل ضیا کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن ان کے دونوں بیٹے شاہنواز اور مرتضیٰ بھٹو پاکستان سے باہر چلے گئے اور اپنے والد کو بچانے کی مہم چلائی جو کہ بے سود ثابت ہوئی۔ جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تو مرتضیٰ اور شاہنواز بھٹو لندن کے ایک فلیٹ میں رہ رہے تھے۔ جیسے ہی انہیں یہ خبر ملی وہ باہر آئے اور دنیا بھر کی میڈیا کے سامنے کہا’اس (ضیا) نے دو برس تک انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ ان کا سیاسی نام ختم کرنے کی کوشش کی اور ب اس نے انہیں مار ڈالا۔ ہمیں کسی بھی چیز پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے آج ایک شہید کو دفن کیا ہے۔ سنہ 1985ءمیں شاہنواز بھٹو مردہ حالت میں پائے گئے اور یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ انہیں زہر دیا گیاتھا۔ بعد ازاں مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب سانگز آف بلڈ اینڈ سورڈ میں لکھا کہ جب میرے والد کمرے میں داخل ہوئے تو انہوں نے شاہنواز کے جسم کو کمرے میں صوفے اور کافی ٹیبل کے درمیان منہ کے بل اوندھا پڑے دیکھا۔ مرتضیٰ نے بعد میں کہا کہ اسی وقت انہیں احساس ہو گیا کہ وہ زندہ نہیں ہیں۔ ’جب مرتضیٰ نے ان کے جسم پر نیلے رنگ کے دھبے دیکھے تو انہیں لگا کہ ان کے ساتھ کوئی غیر فطری واقعہ پیش آیا ہے۔ انہیں شک تھا کہ انہیں زہر دیا گیا ہے۔ مرتضیٰ نے پورے گھر کی تلاشی لی تو انہیں کچن کے کوڑے دان میں ایک شیشی ملی جس پر پینٹرکسائڈلکھا تھا۔‘ بعد میں پولیس نے تصدیق کی کہ انہیں شاہنواز کے جسم میں زہر ملا تھا اورزہر ان کے جسم میں خون کے ذریعے نہیں بلکہ نتھنے کے ذریعے پہنچا تھا۔ لیکن کوئی یہ نہیں بتا سکا کہ انہیں یہ زہر کیسے دیا گیا۔‘ ان کی ہلاکت پر ان کی بڑی بہن بینظیر بھٹو نے کہا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ان کی موت گھریلو جھگڑے کی وجہ سے ہوئی ہے۔ وہ ایک سیاسی کارکن اور مارشل لا کے بھی سخت مخالف تھے۔ جس طرح کی زندگی وہ گزار رہے تھے وہ کافی خطرناک تھی۔ میرا خیال ہے کہ ان کی موت کو ایک وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔
سیاست میں آکر زندگی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا آرٹ کو سیاسی آواز بنا لیا،ذوالفقار جونیئر
