شائقین کرکٹ کیلئے خوشخبری، جنوبی افریقہ ٹیم آئندہ سال پاکستان کا دورہ کریگی

لاہور:  پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے جنوبی افریقہ سیریز کے لئے منصوبہ بندی کر لی ہے۔ مہمان ٹیم آئندہ سال جنوری فروری میں پاکستان کا دورہ کریگی۔

پی سی بی ذرائع کے مطابق جنوبی افریقی ٹیم کا دورہ چار ہفتوں پر مشتمل ہوگا۔ ساؤتھ افریقین ٹیم کی بیس جنوری کو پاکستان آمد متوقع ہے۔ مہمان ٹیم سیریز میں دو ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی میچز کھیلے گی۔

جنوبی افریقہ سیریز لاہور اور کراچی میں کھیلی جائیگی۔ سیریز کا پہلا ٹیسٹ میچ کراچی میں 28 جنوری سے کھیلا جائیگا جبکہ2009ء کے بعد لاہور کو پہلی بار ٹیسٹ میچ کی میزبانی ملنے کا امکان ہے۔

پاک جنوبی افریقہ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ میچ قذافی سٹیڈیم میں فروری کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے۔ ٹی ٹونٹی سیریز کا آغاز فروری کے دوسرے ہفتے میں ہوگا۔ پاک جنوبی افریقہ سیریز بھی زمبابوے کی طرح کوویڈ نائنٹین پروٹوکولز کے تحت کھیلی جائیگی۔

فضل الرحمان کی آصف زرداری سے نجی اسپتال میں ملاقات، سیاسی صورتحال پر گفتگو

جمعیت علمائے اسلام اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف علی زرداری سے کلفٹن کے نجی اسپتال میں ملاقات کی۔

مولانا فضل الرحمان نے سابق صدر آصف علی زرداری کی عیادت کی اور خیریت دریافت کی۔

ملاقات کے دوران سیاسی صورتِحال اور اپوزیشن مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔

دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔

خیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری ان دنوں کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں جب کہ کراچی میں پی ڈی ایم کے جلسے کے باعث اپوزیشن کی اعلیٰ قیادت کراچی میں موجود ہے۔

گیارہ جماعتیں احتساب اور عمران خان کے خوف سے جلسے کر رہی ہیں: شاہ محمود

ملتان: ویب ڈیسک  وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گیارہ جماعتوں کے جلسے نے ان کی قلعی کھول دی، یہ صرف اورصرف اپنی بقا، احتساب اورعمران خان کے خوف سے جلسے کرتے پھررہے ہیں، اداروں پرتنقید سے یہ ہندوستان کے بیانیے کے حصہ داربن رہے ہیں، عوام نے ان سے لاتعلقی کا اظہارکردیا ہے۔

ملتان کے رضا ہال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ معاشی مشکلات اورمہنگائی کا ہمیں احساس ہے جس کے کنٹرول کیلئے ہم اقدامات اٹھارہے ہیں۔ گیارہ جماعتوں کا یہ اتحاد جتنے مرضی جلسے کرے یہ ایک منتخب حکومت کورخصت نہیں کرسکتے، یہ لوگ معیشت کے راستے میں روڑے اٹکانے کی سازش کررہے ہیں، پوری قوم جانتی ہے کہ یہ ایک غیرفطری اتحاد ہے جبکہ گوجرانوالہ میں وزیراعظم نوازشریف کے نعرے لگے توجیالوں پرسکتہ طاری تھا، بلاول بھٹوخطاب کیلئے آئے تون لیگ والے لاتعلق تھے اورمولانا فضل الرحمن کوتوخالی پنڈال سے خطاب کروایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر، سی پیک ودیگرقومی ایشوز پرحکومت بھرپوراقدامات اٹھارہی ہے، دہشت گردی ، کورونا ، ٹڈی دل ، فلڈ ، زلزلے اورقومی آفات پرافواج پاکستان نے لازوال کردار ادا کیا ہے، اس لئے اپنی سیاست کیلئے انہیں تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے منصوبے کواب کوئی بھی ریورس نہیں کرسکتا، مہنگائی کا ہم اعتراف کرتے ہیں، گندم کی امدادی قیمت کا جلد اعلان کیا جائے گا ، اپوزیشن اگر اس نظام کورخصت کرنا چاہتی ہے توان کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا، ن اورپی پی پی جیسی حکومتوں نے پانچ سال پورے کئے ہم بھی انشااللہ پانچ سال پورے کریں گے۔

آذربائیجان کا یوم آزادی، وزیراعظم عمران خان کی آذری صدر اور عوام کو مبارکباد

پاکستان نگورنو کاراباخ کا حل یو این قرارداد کے مطابق چاہتا ہے، انہوں نے مزید لکھا کہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے پر ہم آذربائیجان کی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، عمران خان کا ٹوئٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان نے آذربائیجان کے صدر الہام علیئف اور عوام کو یوم آزادی کی مبارک باد دی ۔ میڈیا ذرائع کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے آذر بائیجان کے یوم آزادی کے موقع پر آذری عوام اور ان کے صدر کو مبارک باد پیش کی ہے۔ وزیر اعظم نے آرمینیا کے ساتھ حالیہ تنازع پر لکھا کہ پاکستان نگورنو کاراباخ کا حل یو این قرارداد کے مطابق چاہتا ہے، انہوں نے مزید لکھا کہ اپنی سرزمین کا دفاع کرنے پر ہم آذربائیجان کی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

واضح رہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان جنگ بندی ہوگئی ہے جس کے بعد فریقین نے ایک دوسرے پر حملے روک دیے ہیں ۔

آذربائیجان نے بھی آرمینیا سے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کر دی ہے ، آذربائیجان کا کہنا ہے کہ انسانی ہم دردی کی بنیاد پر جنگ بندی معاہدہ کیا گیا ہے ۔ یاد رہے کہ فریقین کا تقریباً 3 ہفتوں سے جاری جنگ کے بعد سیز فائر پر اتفاق ہوا ہے ۔

نگورنو کاراباخ میں دونوں ممالک میں جھڑپوں میں سیکڑوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں ۔ واضح رہے کہ رواں ماہ 11 اکتوبر کو بھی فریقین کے درمیان سیزفائر ہوا تھا، روس کی ثالثی میں فریقین نے جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن چند گھنٹے بعد جھڑپیں پھر شروع ہو گئیں ، اور دونوں اطراف سے ایک دوسرے پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں

پی ڈی ایم والے اس مرتبہ مولانا سے پہلے تقریر کرا لیں ، شبلی فراز

 سینیٹر شبلی فرازکا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم والے اس مرتبہ مولانا سے پہلے تقریر کرا لیں ، خالی کرسیوں سے تقریر کرانا ان کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی را بطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے لکھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم ) صرف شو کررہی ہے ،جس میں پاور نہیں  ہے ۔

انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی  نہ کوئی سمت ہے نہ کوئی پلان اورنہ ہی ان کے نظریات اورموقف ایک ہیں ، ان کے پاس صرف ذاتی دکھ ہیں، عوام کیلئے کچھ نہیں ۔

ایف بی آر بڑے تاجروں کو ٹیکس میں رعایت دینے پر تیار

اسلام آباد: وفاقی حکومت ایک بار پھر تاجروں کو ٹیکس میں رعایت دینے پر تیار ہوگئی ہے بڑے تاجروں کو یہ رعایت اس وعدے پر دی جارہی ہے کہ وہ اپنے کاروباروں کو دستاویزی بنائیں گے جب کہ اس اقدام سے قانون کا نفاذ کرنے میں اعلیٰ حکام کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان ہونیوالے معاہدے کے مطابق حکومت پہلے دستیاب موقع پر انکم ٹیکس آرڈیننس میں ترامیم کے ذریعے ٹیکس کی شرح میں کمی لائے گی ۔ یہ موقع منی بجٹ کی شکل میں آسکتا ہے، بصورت دیگر بجٹ کے موقع پر ٹیکس کی شرح گھٹائی جائے گی ۔ ایف بی آر کے حکام نے ایکسپریس ٹریبیون کو تصدیق کی کہ ریٹیل چین اسٹورز اور ایف بی آر کے درمیان یہ معاہدہ رواں ہفتے طے پایا ہے۔

ایف بی آر کے ممبر آپریشنز محمد اشفاق جو قانون پر عمل درآمد کروانے کے ذمے دار تھے انھوں نے ایف بی آر کی جانب سے یہ معاہدہ کیا۔ گذشتہ 7 ماہ میں یہ دوسرا موقع ہے جب بڑے ریٹیل چین اسٹورز اور ایف بی آر کے درمیان مفاہمت ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ قبل ازیں ہونیوالے معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہوسکا تھا۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر ریٹیل سیلز کو دستاویزی بنانے کی شرط پر آڈٹ کنڈیشن اور انکم ٹیکس کی شرح میں نرمی پر راضی ہوا ہے۔ ایف بی آر نے بڑے چین اسٹورز سے یہ معاہدہ پوائنٹ آف سیلز ( پی او ایس) کی انسٹالیشن کے لیے کیا ہے۔ یہ فروخت کو دستاویزی بنانے کا ریئل ٹائم نظام ہے۔ بڑے اسٹورز کو یہ نظام دسمبر 2019تک انسٹال کرلینا تھا مگر اب اس کی ڈیڈ لائن نومبر کے اختتام تک بڑھا دی گئی ہے۔

روضہ رسول ﷺ کو زیارت کیلئے کھول دیا گیا،سعودی وزیراسلامی امور

مسجد قبا بھی نمازیوں کے لیے کھول دی گئی، ایس اوپیز کے ساتھ زائرین کو حرم میں نماز اور طواف کی اجازت دیدی ،بیان

مدینہ منورہ (ویب ڈیسک ) مدینہ منورہ میں یکم ربیع الاول سے ایس او پیز کے ساتھ روضہ رسول ﷺ کو زیارت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔وسری جانب شاہی ہدایت پر مسجد قبا بھی نمازیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ مسجد قبا روزانہ فجر سے پہلے کھولی جائے گی اور اسے عشا کے بعد بند کر دیا جائیگا۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس ایس اوپیز کے ساتھ زائرین کو حرم میں نماز اور طواف کی اجازت بھی مل گئی ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق سعودی عرب کے وزیر برائے اسلامی امور کا کہنا تھا کہ نمازی کورونا وائرس ایس او پیز کے ساتھ مسجد نبوی ﷺ میں عبادت اور روضہ رسول ﷺ کی زیادت کر سکیں گے۔وسری جانب شاہی ہدایت پر مسجد قبا بھی سے نمازیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔ مسجد قبا روزانہ فجر سے پہلے کھولی جائے گی اور اسے عشا کے بعد بند کر دیا جائیگا۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس ایس اوپیز کے ساتھ زائرین کو حرم میں نماز اور طواف کی اجازت بھی مل گئی ہے۔واضح رہے سعودی عرب نے یکم ربیع الاول سے عمرے کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا ہے جس کے تحت ڈھائی لاکھ مقامی شہریوں کو عمرہ کی اجازت ہو گی۔سعودی وزارت حج و عمرہ کے مطابق دوسرے مرحلے میں زائرین کو ایپ کے ذریعے اجازت نامہ لینا ہوگا۔

جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی بار اوپن گالف ایونٹ منسوخ

آسٹریلیا میں ہونے والے اوپن گالف ٹورنامنٹ کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ یہاں پہلا موقع ہے کہ اوپن گالف ایونٹ کو جنگ عظیم دوئم کے بعد پہلی بار منسوخ کیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی وبا کرونا وائرس کے باعث بننے والی صورت حال کے تناظر میں آسٹریلین اوپن گولف ٹورنامنٹ کو دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار منسوخ کیا گیا ہے۔

ورنامنٹ آفیشل کے مطابق آسٹریلیا میں لاک ڈاؤن کی مشکل صورت حال کی وجہ سے پہلے ہی گالف آسٹریلیا اور پی جی اے آسٹریلیا نے اپنے تمام ایونٹ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا گیا تھا۔

کرونا وائرس کی صورت حال کے پیش نظر اب آسٹریلیا کا سب سے پرانا گالف ٹورنامنٹ آسٹریلین اوپن بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

ٹورنامنٹ کی نئی تاریخوں کا اعلان کرتے ہوئے اب یہ ایونٹ اگلے سال جنوری کی 18 تاریخ سے 31 جنوری تک جاری رہے گا۔ ٹورنامنٹ کا انعقاد میلبورن کنگسٹن ہیلتھ گالف کلب میں کیا جانا تھا۔

یہ اوپن گالف کا 105 واں ایونٹ تھا۔ اس ایونٹ کا پہلا آغاز سال 1905 میں ہوا۔

متحدہ عرب امارات: یہودیوں کیلئے کوشر ریستوران کھولنے کی تیاریاں

دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ کے تحت چلنے والے ارمانی ہوٹل میں یہودیوں کیلئے پہلا کوشر ریستوران کھولنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے کے بعد ریستورانوں اور کیٹررز کی جانب سے یہودی صارفین کیلئے کوشر ریستوران کھولنے کی تیاریوں میں تیزی آگئی ہے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق دبئی میں قائم ریستورانوں کے مالکان کو امید ہے کہ اسرائیل سے براہِ راست پروازوں کے ذریعے بڑی تعداد میں یہودی متحدہ عرب امارات آئیں گے، کوشر ریستوان میں یہودی عقائد کے مطابق ذبح کیے گئے جانوروں کا گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔

امارات کے متعدد قوانین کوشر پکوانوں کی تیاری کیلئے ساز گار نہیں، جس کے سبب کوشر پکوانوں کی تیاری کیلئے اجزاء کا حصول کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا، کیوں کہ یہ اجزا مقامی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہیں۔

تعلقات کو معمول پر لانے سے متعلق طے پانے والے معاہدے کے تحت امارات اور اسرائیل فضائی رابطے قائم کریں گے، ان رابطوں کا آغاز دو ماہ بعد جنوری 2021ء میں ہوگا۔

دونوں ممالک ایک دوسرے کے شہریوں کی آمد و رفت کیلئے ویزا کا طریقۂ کار بھی طے کریں گے۔ ارمانی، لگژری ہوٹلز کے جھرمٹ کے درمیان واقع ریستورانوں میں سے ایک ہے، چالیس نشستوں تک کی گنجائش والے ارمانی ریستوران کے شیف فیبین فائیولے کا کہنا ہے کہ ہم مہینوں سے اپنے عملے کو کوشر ڈشز تیار کرنے اور دوسرے کاموں کی تربیت دے رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریستوران کے کچن میں ہم انہیں تعلیم دیتے ہیں کہ وہ کیا استعمال کرسکتے ہیں اور کیا نہیں۔

فیبین نے ‘اے ایف پی’ کو بتایا کہ کوشر ریستوران کھولنے کا مقصد یہودیوں یا کوشر فوڈ کھانے کا تجربہ کرنے کے خواہشمند کسی بھی فرد کو فائیو اسٹار ہوٹل جیسی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان آج سے عارضی جنگ بندی پر اتفاق

آرمینیا اور آذر بائیجان کی افواج کے درمیان متنازع علاقے نگورنو کارا باخ کے معاملے پر شروع ہونے والی جھڑپوں میں  آج سے عارضی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے نگورنو کاراباخ کے معاملے پر 27 ستمبر سے جھڑپیں جاری تھیں، جھڑپوں میں دونوں طرف کے شہریوں اور فوجیوں سمیت 700 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دونوں ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے جنگ بندی پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا۔

وسط ایشیائی ممالک آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان نگورنو کاراباخ کے متنازع علاقے میں حالیہ فوجی کشیدگی کی تاریخ سوویت یونین سے جڑی ہے اور اب تک اس علاقے پر دونوں ممالک میں خون ریز جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔

دونوں ممالک اس متنازع سرحدی علاقے پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں، ‘نگورنو کاراباخ’ کا علاقہ باضابطہ طور پر آذربائیجان کا حصہ ہے لیکن آرمینیا کے نسلی گروہ نے 1990 کی جنگ میں آرمینیا کی مدد سے یہاں قبضہ کرلیا تھا اور اب یہ آرمینیائی فوج کے کنٹرول میں ہے۔

آرمینیائی اور آذربائیجان کی فوجوں کے درمیان اکثر اس علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے، رواں سال جولائی میں بھی اسی طرح کے ایک تصادم میں دونوں جانب کے 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔