تازہ تر ین

پی ڈی ایم جلسے کی قیادت کالعدم ٹی ٹی پی کے دوست کر رہے ہیں: فواد چوہدری

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسے کی قیادت کالعدم تحریک طالبا پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دوست کر رہے ہیں۔

آج سے ٹھیک 13 سال قبل کراچی میں کارساز کے قریب محترمہ بے نظیر بھٹو کے قافلے پر دھماکا کیا گیا تھا جس میں 150 سے زائد افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے تھے۔

پیپلز پارٹی آج کراچی کے باغ جناح میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے ساتھ مل کر جلسہ کر رہی ہے جس میں تمام بڑی اپوزیشن جماعتوں کے مرکزی رہنما بھی شرکت کریں گے۔

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اس حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک ٹوئٹ کی ہے۔

فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ آج سے 13 سال قبل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا خود کش حملہ ہوا، بےنظیر بھٹو شہید کے قافلے کو ٹارگٹ کیا گیا، 180 لوگ شہید اور 500 سے زیادہ لوگ ہاتھوں اور پاؤں سے محروم ہو گئے۔

وفاقی وزیر نے مزید لکھا کہ اس دہشت گردی کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی۔

فواد چوہدری نے کسی کا نام لیے بغیر اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ آج اسی جگہ پی ڈی ایم کا جلسہ ہے اور قیادت ٹی ٹی پی کے دوست کر رہے ہیں۔

کٹھ پتلی وزیراعظم کی دھمکیوں کے باوجود جدوجہد جاری ہے: بلاول

کراچی: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ 18 اکتوبر 2007 کو کارساز دھماکے میں شہید ہونے والے کارکنوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

سانحہ کارساز کی 13ویں برسی پر اپنے پیغام میں بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی نے شہداء کارساز کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کارکنوں نے جمہوریت، آئین کی بالادستی، پارلیمان اور بنیادی حقوق کے لیے شہادتیں دیں، شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں نے دہشت گردی، جھوٹے مقدمات اور گرفتاریوں کا سامنا کرکے قربانیاں دی ہیں، کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ وزیراعظم کی دھمکیوں کے باوجود جدوجہد جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت پسند سیاسی پارٹیاں و قیادت شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے آج جمع ہوں گی۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم جمہوریت پسند پارٹیوں کا سیاسی اتحاد ہے، پی ڈی ایم جمہوریت، معیشت اور خارجہ پالیسی کو درپیش تمام برائیوں سے نجات کے لیے ہے۔

لاہورحفیظ سینٹر میں لگی آگ شدت اختیار کرگئی

لاہور کے علاقے گلبرگ میں مین بولیوارڈ پر واقع الیکٹرونکس کے بڑےکاروباری پلازہ میں لگنے والی آگ بے قابو ہو گئی۔

ریسکیو ذرائع کے مطابق گلبرگ کے علاقے مین بولیوارڈ پر واقع کاروباری پلازہ میں آگ لگنے کا واقع صبح 6 بجے پیش آیا، آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پلازہ کے بڑے حصے کو لپیٹ میں لے لیا۔

آگ پلازہ کی دوسری عمارت پر شارٹ سرکٹ کے باعث لگی جس نے تیسرے فلور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ فائر بریگیڈ کی 33 گاڑیاں اور 60 سے زائد رضاکار آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے پلازہ کے چوتھے فلور پر لوگ موجود ہیں جنہیں نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ریسکیو ترجمان کا بتانا ہے کہ آگ شاپنگ سینٹر کے تیسرے اور چوتھے فلور پر لگی ہوئی ہے، اور 30 سے 40 دکانیں آگ کی لپیٹ میں ہیں۔

ترجمان کا یہ بھی بتانا ہے کہ دکانوں میں لیپ ٹاپ اور موبائل فونز کی وجہ سے آگ کی شدت میں تیزی ہے اور آگ پلازہ کے عقبی حصے میں بھی پھیلنے لگی ہے۔

شیخوپورہ سے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں طلب

ترجمان ریسکیو پنجاب کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے اسپرنکلر سسٹم نہیں ہے جس کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ڈی سی لاہور کا کہنا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے شیخوپورہ سے بھی فائر بریگیڈ کی گاڑیاں منگوائی گئی ہیں۔

دکانداروں کی سامان نکالنے کی کوشش

آگ سے متاثرہ پلازہ میں دکانداروں نے اپنی دکانوں سے سامان نکالنے کی کوششیں کی اور کاروبار جلتا دیکھ کر کئی دکاندار بے بسی کے عالم میں رو بھی پڑے۔

آگ کے باوجود کئی تاجر نچلی منزل سے سامان نکالنے پلازہ میں گھس گئے اور تاجروں نے کپٹروں میں سامان ڈال کر باہر نکالا۔

پلازہ سے سامان نکالنے کے لیے تاجر شاپنگ بیگ ڈھونڈتے رہے اور بعض تاجروں نے قمیضیں اتار کر موبائل فون ڈال کر باہر نکالے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شاپنگ پلازہ میں لگی آگ کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ۔

عثمان بزدار نے حکم دیا کہ چھت پر موجود افراد کو سب سے پہلے ریسکیو کیا جائے، پھنسے ہوئے افراد کو بحفاظت نکالنا پہلی ترجیح ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ لاہور کے پلازہ میں آگ پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں، انتظامی افسران اور ریسکیو 1122 کے حکام کو  بھی آگ سے متاثر پلازہ پہنچنےکی ہدایت کی گئی ہے۔

صوبائی وزراء کی آمد پر تاجروں کا احتجاج

وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد اور صوبائی وزیر برائے ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد آگ سے متاثرہ پلازے پر امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے پہنچے تو تاجروں نے صوبائی وزراء کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی شروع کر دی۔

تاجروں نے ڈاکٹر یاسمین راشد، وزیر ڈیزاسٹر مینجمنٹ میاں خالد کی گاڑیوں کاگھیراو کر لیا اور صوبائی وزراء کے ساتھ تلخ کلامی بھی کی۔

لگتا ہے نواز شریف نہیں مودی کی روح بول رہی ہے: چوہدری پرویز الٰہی

لاہور: پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز  الٰہی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف آرمی چیف کے خلاف بول رہے ہیں، لگتا ہے نواز شریف نہیں مودی کی روح بول رہی ہے۔

لاہور میں ریسکیو 1122 کی 16ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ نواز شریف یاد رکھیں جو جمہوریت نظر آرہی ہے وہ جنرل باجوہ اور تمام اداروں کی کاوشوں سےقائم ہے، انہی اداروں نے جمہوریت کو آگے لے کر چلنا ہے، نواز شریف نے جس جمہوریت کے سائے تلے بیٹھنا ہے اُسے ہی کاٹ رہے ہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ نوازشریف کان کھول کر سن لیں مضبوط ادارے ہی جمہوریت کی ضمانت ہیں۔

چوہدری پرویز الٰہی کا مزید کہنا تھا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، اندورنی اور بیرونی سازشوں کا مقابلہ اداروں کی مضبوطی سے ہی مشروط ہے۔

برطانوی عدالت کا بانی ایم کیو ایم کے 6 ٹرسٹ اثاثے منجمند کرنے کا حکم

لندن: برطانوی عدالت نے بانی ایم کیو ایم کے زیر انتظام 6 ٹرسٹ کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کردیا۔ 

برطانوی ڈپٹی ہائیکورٹ جج پیٹر ناکس کے احکامات پر منجمد کی گئی پراپرٹیز میں ایبے ویو ہاؤس، ہائی ویو گارڈنز فرسٹ ہاؤس، وائٹ چرچ لین فرسٹ ہاؤس، بروک فیلڈ ایونیو ہاؤس، ہائی ویوگارڈنز سیکنڈ ہاؤس، وائٹ چرچ لین سیکنڈ ہاؤس اور ایم کیو ایم کا فرسٹ فلور الزبتھ ہاؤس دفتر شامل ہے۔

عدالتی احکامات کے تحت بانی متحدہ اور ان کے ساتھی مقدمے کا نتیجہ نکلنے تک ان پراپرٹیز میں رہ سکتے ہیں تاہم انہیں بیچا نہیں جاسکتا۔

خیال رہے کہ اثاثوں کے حق میں مقدمہ ایم کیو ایم پاکستان نے دائرکیا ہے جس کا مؤقف ہے کہ یہ اثاثے اس کی ملکیت ہیں اور ان اثاثوں کی ملکیت 15 ملین پاؤنڈ یعنی تقریبا 3 ارب روپے سے زیادہ ہے جب کہ ٹرائل میں چند ماہ لگنے کا امکان ہے۔

ایس 400 میزائل سسٹم کا تجربہ، ترکی نے امریکہ کیساتھ نیا محاذ کھول دیا

انقرہ (ویب ڈیسک )ترکی نے روس سے حاصل کردہ ایس 400فضائی دفاعی نظام کے تحت ایک دیسی ساختہ میزائل کا تجربہ کر کے امریکہ کے ساتھ ایک نیا محاذ کھول دیا ہے ،ترک فوج نے بحر اسود کی فضا میں ایک میزائل داغا ،تجربے کی ویڈیو ساحلی شہرسینوب میں بنائی گئی۔اس سے قبل لیبیا میں فوجی مداخلت، مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کی وجہ سے پڑوسی اور یورپی ممالک کے ساتھ تنازعات اور آرمینیا اور آذر بائیجان کے درمیان جاری لڑائی میں کاراباخ میں جنگجو بھیجنے پر ترکی سخت تنقید کا نشانہ بنا ہوا ہے ۔عرب ٹی وی کے مطابق ترک وزارت دفاع نے بحر اسود کی فضا میں ایک میزائل داغا۔ میزائل داغے جانے کے بعد اس کے نتیجے میں اٹھنے والا دھواں عمودی ہالت میں دیکھا جاسکتا ہے ۔حالیہ ایام میں ترکی نے ساحلی علاقے میں جہاز رانی اور فضائی آمد ورفت کے حوالے سے ایک الرٹ جاری کیا تھا۔روس سے حاصل کردہ ایس400 دفاعی نظام پر ترکی اور امریکہ کے درمیان سخت کشیدگی رہی ہے ۔ امریکہ کا کہناتھاکہ نیٹو کے کسی رکن ملک کا روس سے جدید ترین اسلحہ خرید کرنا نیٹو کے رکن ممالک کیلئے خطرہ ہے ۔

نواز شریف کا حملہ آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر ہے، وزیر اعظم

وزیراعظم عمران خان نے حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پہلے جلسے کو سرکس قرار دے دیتے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا حالیہ بیان آرمی چیف پر نہیں بلکہ پوری فوج پر حملہ ہے۔

اسلام آباد میں ٹائیگر فورس کنونشن سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ پاک فوج کے خلاف بیانیہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنایا، مودی نے متعدد مرتبہ بیان دیا کہ انہیں نواز شریف پسند ہے لیکن آرمی چیف دہشت گردہے، مودی بار بار ایسا کہتے رہے لیکن نواز شریف خاموش رہے’۔

علاوہ ازیں عمران خان نے کہا کہ گزشتہ روز پی ڈی ایم کا سرکس ہوا جہاں کئی فنکاروں نے مظاہرہ کیا لیکن سوئی ڈیزل پر رک گئی’۔

علاوہ ازیں انہوں نے ٹائیگر فورس کو خوش آمدید کہا اور کہا کہ ان کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 28 مارچ کو ہم نے ٹائیگر فورس بنائی اس وقت سے اب تک رضا کاروں نے جو بھی مثبت کام کیے میں اس پر قوم کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے غیر مناسب وقت میں بارش ہوئی جس کی وجہ سے گندم کی پیداوار میں کم ہوئی۔

عمران خان نے کہا کہ جب گندم کی قلت ہوئی تو اس کی قیمت میں اضافہ ہوا اور ہمیں دیر سے معلوم چلا کہ گندم کی پیداوار کم ہوئی کیونکہ گندم کی پیداوار سے متعلق آگاہی دینے کا جو سسٹم موجود ہے وہ خراب تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘گندم کی کمی کا جتنا بھی خسارہ تھا وہ درآمدی طریقے سے پورا کرلیا گیا’۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران ذخیرہ اندوزی شروع ہوگئی جو ملک میں سب سے بڑی لعنت ہے اور اسی کی جانب قائد اعظم نے بھی اشارہ دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ذخیرہ اندوزوں کے خلاف موثر حکمت عملی کے لیے مجھے ٹائیگر فورس کی ضرورت ہے، ٹائیگر فورس کے رضا کار خود جا کر مداخلت نہیں کریں گے بلکہ موبائل فون پر تصویر لے کر حکومت کے شکایتی پورٹل پر اپ لوڈ کریں تاکہ انتظامیہ ایکشن لے’۔

انہوں نے کہا کہ ‘اس طرز عمل سے ٹائیگرفورس کے رضاکار انتظامیہ کی مدد کرسکیں گے’۔

وزیراعظم عمران خان نے زور دیا کہ رضا کار خود مداخلت نہیں کریں گے ورنہ ایسے لوگ ٹائیگر فورس کا حصہ بننے لگیں گے جو دکانداروں کو بلیک میل کرکے پیسہ کمائیں گے’۔

عمران خان نے چینی بحران سے متعلق کہا کہ پہلی مرتبہ تفصیلی انکوائری میں ساری چیز معلوم ہوگئی اس لیے جو منصوبہ لے کر آرہے ہیں آئندہ چینی مہنگی نہیں ہوگی۔

وزیراعظم عمران خان نے 11 برس قبل پہلے دیے گئے اپنے ویڈیو پیغام بھی نشرکیا جس میں کہا گیا تھا کہ جب چوروں کی چوری پر ہاتھ پڑے گا تو سارے جمع ہوجائیں گے’۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات پی ڈی ایم کے جلسے میں دو بچوں نے تقریر کی تھی میں اس پر بات نہیں کروں، ان میں سے ایک نانی ہوگئی لیکن وہ میرے لیے بچوں کی طرح ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ان بچوں نے اپنی پوری زندگی میں ایک گھنٹہ حلال کا کام نہیں کیا، اپنے دونوں باپوں کی حرام کی کمائی پر بننے ہیں’۔

انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا نام لیے بغیر کہا کہ ان دونوں پر تبصرہ کرنا وقت کا ضیاع ہے۔

وزیراعظم نے پی ڈی ایم رہنماؤں کو ٹیم کا 12 واں کھلاڑی قرار دے دیا۔

عمران خان نے کہا کہ ‘مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف جو زبان استعمال کی، یہ گیڈر دم دبا کر بھاگ گیا، وہاں بیٹھ کر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف باتیں کررہا ہے’۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ‘یہ وہ شخص ہے جو جنرل جیلانی کے گھر کے اوپر سریا بناتے ہوئے وزیراعظم بنا تھا، یہ وہ شخص ہے جو ضاالحق کے جوتے پالش پالش کرتے وزیراعلیٰ بنا تھا’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘نواز شریف نے آئی ایس آئی کے اس وقت کے چیف جنرل درانی کی ایما پر مہران بینک سے کروڑوں روپے وصول کیے تھے تاکہ الیکشن لڑ سکے’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی سپریم کورٹ کو رپورٹ دی لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کی عدالتوں نے نواز شریف کی مدد کی۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف وہ شخص ہیں جنہوں نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو دو مرتبہ جیل میں رکھا تھا۔

انہوں نے کہا آصف علی زرداری نے نواز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ دائر کرایا تھا، جنرل باجوہ نے مقدمہ نہیں کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے ایک کتاب کا حوالہ دے کر کہا کہ ‘نواز شریف اپنی فوج سے خوفزدہ تھے اور امریکی فوجیوں کو ملک میں آنے کی دعوت دے رہے تھے’۔

انہوں نے کہا ‘آصف علی زرداری اور نواز شریف نے وہ کیا ہے جو میر صادق اور میر جعفر نے اپنی قوموں سے کیا تھا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف کا حملہ آرمی چیف پر نہیں بلکہ فوج پر ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ یہ ہی بیانیہ نریندرمودی نے دیا جب مودی نے متعدد مرتبہ بیان دیا کہ نواز شریف پسند ہے لیکن پاکستان کا آرمی چیف دہشت گرد ہے، مودی بار بار ایسا کہتا لیکن نواز شریف خاموش تھا’۔

انہوں نے کہا کہ ‘مودی مجھے کیوں نہیں کہتا ہے کہ عمران خان ٹھیک ہے لیکن جنرل باجوہ غلط ہے، کیونکہ ایسے معلوم ہے کہ میں نے بھارت کی اصل صورت پوری دنیا کو دکھائی ہے کہ بھارت کتنا بڑا انتہا پسند ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘نواز شریف کا آرمی چیف کے خلاف بیان کو بھارتی میڈیا میں غیرمعمولی اہمیت دی جاری ہے اور نواز شریف جمہوری قرار دیا جارہا ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘کیا بھارت کو نہیں معلوم کہ ضیا الحق نے نواز شریف کو گود میں بیٹھا کر چوسنی لگائی تھی’۔

انہوں نے کہا کہ کیا بھارت کو نہیں معلوم ہے نواز شریف نے ڈنڈوں سے سپریم کورٹ پر حملہ کرایا تھا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘ظلم دیکھیں کہ باقی ججز کو بریف کیس دے کر خریدا تھا، یہ وہ نواز شریف ہے جو آج جمہوری بنا ہوا ہے، یہ نواز شریف ہی تھا جس نے جسٹس قیوم کو فون کر کے کہا تھا کہ بےنظیر کو 3 نہیں بلکہ 5 سال سزا دو’۔

انہوں نے کہا کہ ‘نواز شریف نے کرپٹ ترین انسان قمر زمان کو قومی احتساب بیورو (نیب) کا چیئرمین بنا کر اپنے خلاف تمام کیسز بند کرائے اور جب تک نواز شریف کے ساتھ عدلیہ کھڑی ہے تب تک عدلیہ ٹھیک ہے، حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ بند ہوتا ہے تو عدلیہ اچھی ہے، 5 رکنی بینچ نواز شریف کو سزا دیتا ہے تو ‘کیوں نکالا’ کہہ کر عدلیہ کو بدنام کرتا ہے’۔

عمران خان نے کہا کہ ‘نواز شریف کی پارٹی نے ضمنی انتخاب میں قوم کا ڈھائی سو کروڑ روپے خرچ کیے’۔

انہوں نے کہا کہ عثمان ڈر کے انتخاب میں سیالکوٹ کا ایک رنگ باز آرمی چیف کو فون کرکے روتے ہوئے کہتا ہے کہ میں عثمان ڈر سے الیکشن ہار رہا ہوں میری مدد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے صرف ایک عمران خان نے دیکھا ہے یہ جو اب عمران خان دیکھیں گے یہ قدرے مختلف ہوگا.

عمران خان نے کہا کہ ‘اب کسی بھی ڈاکو کو پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا’.

انہوں نے مزید کہا کہ ‘شہباز شریف کے اوپر 23 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے، جب تک عدالتوں میں جواب نہیں دیا جاتا تب تک پروڈکشن آرڈر نہیں ملے گا اور نہ ہی کسی دوسرے کو ملے گا’.

وزیر اعظم عمران خان نیب اور عدلیہ کو اپنے پیغام میں کہا کہ لوگ تنگ آگئے ہیں، لوگ انصاف کے منتظر ہیں، جو حکومت کی جانب سے جو لوجسٹیکل سپورٹ درکار ہے وہ ہم دینے کو تیار ہیں، آپ سیاسی ڈاکوؤں کے خلاف قانونی کارروائی جلد از جلد مکمل کریں.

انہوں نے نیب پر زور دیا کہ وہ کیسز کو منطقی انجام تک پہنچائیں.

وزیراعظم نے کہا کہ ‘نواز شریف کی گزشتہ روز کی تقریر سن کر اب نیا عمران خان بھی بن گیا اور کسی بھی سیاسی قیدی کو وی آئی پی جیل نہیں ملے گی بلکہ عام جیل میں رکھیں گے’.

ایک مرتبہ پھر پی ڈی ایم کے جلسے کو سرکس قرار دیتے ہوئے انہوں نے اپوزیشن اتحاد کو پیغام دیا کہ آپ سب کسی نہ کسی کا کندھا استعمال کرکے اوپر پہنچے ہیں لیکن 20 سال دنیا بھر کے بہترین کھلاڑیوں سے مقابلہ کیا اور میں واحد سیاسی رہنما ہوں جس نے 22 سال کی محنت سے عوامی پارٹی بنائی ہے، کسی کا سہارا نہیں لیا.

انہوں نے کہا کہ ‘اب آپ کو میں مقابلہ کرکے دکھاؤں گا، حکومت کے ماتحت آنے والے اداروں کو تیار کروں گا اور ملکی دولت لوٹ کر فرار ہونے والوں کو پکڑیں گے’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نواز شریف اپنی تقریر سے امریکا میں موجود اسرائیل اور بھارتی لابی کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پاکستانی اداروں میں انتشار پھیلانے کے لیے ان کے سربراہوں کے خلاف بیان دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف جو گیم کھیل رہے ہیں اس بارے میں مکمل ادراک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘آرمی چیف نے حکومت کی ہر سطح پر مدد کی، 2 برس دفاعی بجٹ میں کمی لائے کیونکہ انہیں فکر تھی پاکستان کے پاس پیسہ نہیں ہے، کورونا میں بھرپور تعاون اور کراچی میں بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیش پیش رہے’۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری خارجہ پالیسی کے تناظر میں آرمی چیف نے بھرپور ساتھ دیا۔

انہوں نے نواز شریف کو مخاطب کرکے کہا کہ ‘آج سے میری پوری کوشش ہوگی تو تم کو ملک میں واپس لایا جائے’۔

جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی

نیوزی لینڈ کی موجودہ وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی ہے جس کے بعد   ان کے دوسری مدت  کے لیے وزیراعظم بننےکی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی نے 48.9 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جو کہ نیوزی لینڈ کے  1996 سے موجودہ سیاسی نظام کے آغاز کے بعد سے کسی بھی پارٹی کو حاصل ہونے والے سب سے زیادہ ووٹ ہیں۔

اپوزیشن کی اہم جماعت نیشنل پارٹی نے 27 فیصد ووٹ حاصل کیے۔نیشنل پارٹی کی سربراہ جوڈتھ کولنزنے انتخابات میں اپنی شکست تسلیم  کرتے ہوئے جیسنڈا آڈرن اور ان کی جماعت کو مبارکباد پیش کی۔

جیسنڈا آرڈرن نے اس موقع پر نیوزی لینڈکی عوام کا شکریہ اداکیا۔

ٹائیگر فورس کے نوجوان بغیر کسی تنخواہ کے ذمہ داری ادا کر رہے ہیں ، عثمان ڈاز

وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے کہا ہے کہ ٹائیگر فورس کے نوجوان بغیر کسی تنخواہ کے ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی عثمان ڈار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دس لاکھ سے زائد نوجوان ٹائیگر فورس میں شامل ہو چکے ہیں۔

عثمان ڈار نے کہا ہے کہ ٹائیگر فورس کے ان نوجوانوں کو جو ذمہ داری دی گئی ہے وہ ایمانداری سے ادا کی گئی ہے اسی لئے ٹائیگر فورس کے نوجوان ہمارے قومی ہیروز ہیں۔

 معاون خصوصی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کان کھول کر سن لے ٹائیگر فورس ایک نظریہ کا نام ہے، ٹائیگر فورس کے نوجوان قومی فریضہ ادا کرتے ہیں تم جیسے بے شرموں کی طرح رات گئے تنظیم سازی نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ٹائیگر فورس کے نوجوان بغیر کسی تنخواہ کے ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، تمھارے لیڈرز کی طرح ٹائیگر فورس آدگی رات کو تنظیم سازی نہیں کرتی ہے۔

تیل اور گیس کے شعبے میں 15 کھرب 35 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

12 ارب 75 کروڑ روپے وصولی کے چارجز کی مد میں مزید کٹوتی کی گئی. آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) موجودہ حکومت کے پہلے سال کے دوران تیل اور گیس کے شعبے میں 15 کھرب 35 ارب روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں اور ریونیو نقصانات کی نشاندہی کرتے ہوئے آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے وزارت خزانہ پر آڈٹ کے لیے ریکارڈ کی عدم فراہمی، خطیر قرض اور اپنے عملے کو غیر مجاز بونس کی تقسیم کا الزام لگادیا.رپورٹ کے مطابق تقریباً 8 ماہ کی تاخیر کے بعد قومی اسمبلی کے سامنے رکھے گئے آڈٹ سال 2019-20 کے لیے اپنی رپورٹ میں اے جی پی نے کہا کہ وزارت خزانہ نے متعدد درخواستوں کے باوجود مالی سال 2019 کے کم از کم 13 اہم اکاﺅنٹس سے متعلق آڈٹ کا ریکارڈ فراہم نہیں کیا.

آڈٹ کے لیے پیش نہ ہونے والے ریکارڈ میں اخراجات کے حتمی اسٹیٹمنٹس، وزارت خزانہ کی جانب سے کی گئی ہر قسم کی سرمایہ کاری، منصوبوں کی تکمیل اور پیشرفت رپورٹس، عارضی طور پر تعینات کیا گیا عملہ اور کنسلٹنٹس، بقایا ریکوریز، قومی و بین الاقوامی بانڈز اور درآمدکنندگان و برآمدکنندگان کو ادا کیے گئے قرضوں اور سود اور ریفںڈز کی تفصیلات شامل ہیں.

آڈٹ میں مشاہدہ کیا گیا کہ مارچ 2019 کے آخر تک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کا عوامی قرضہ جی ڈی پی کا 74.2 فیصد تھا جو مالی ذمہ داریوں اور قرض کی حد بندی کے قانون کے تحت 60 فیصد سے کہیں زیادہ تھا. نیز آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزارت خزانہ نے ٹیکس کے حصص پر مالی سال 2019 کے دوران صوبوں کو 7 ارب 30 کروڑ روپے تک کی رقم کی ادائیگی کم کی اور کلیکشن چارجز میں کٹوتی کی اس میں کہا گیا کہ وزارت خزانہ نے سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہدایت کی تھی کہ وہ ایک فیصد وصولی کے چارجز کی کٹوتی کے بعد نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) کے مطابق صوبوں کے اکاﺅنٹس میں ان کے ٹیکس محصولات جمع کرے.تاہم آڈٹ نے مشاہدہ کیا کہ 12 ارب 75 کروڑ روپے وصولی کے چارجز کی مد میں مزید کٹوتی کی گئی جس سے صوبوں کو 7 ارب 25 کروڑ روپے سے محروم کردیا گیاآڈٹ میں کہا گیا کہ وزارت نے مالی سال 2019 کے دوران اپنے ملازمین کو 26 کروڑ40 لاکھ روپے کے مراعات کی غیر مجازی ادائیگی کی تھی. آڈٹ نے اس خلاف ضابطہ اور غیر مجازی ادائیگیوں اور آڈت کا ریکارڈ فراہم نہ کرنے پر ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا مطالبہ کیااسی طرح اے جی پی نے پیٹرولیم ڈویژن میں مالی انتظامات کی سنگین کمزوریوں کا بھی انکشاف کیا اور بتایا کہ ریونیو وصولیوں کے جائزہ لینے اور جمع کرنے، گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج والے علاقوں کی ریکوری، گیس انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس، پیٹرولیم لیوی اور رائلٹی کی نگرانی کے لیے کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے.اس میں کہا گیا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے پاس اپنا آڈٹ ڈیپارٹمنٹ ہے تاکہ وہ اپنی کارکردگی کی مناسب جانچ اور توازن برقرار رکھ سکے تاہم وہ اپنا مرکزی کردار ادا کرنے میں ناکام رہا اور اس نے صرف پری آڈٹ کا کردار نبھایا. آڈٹ میں پبلک سیکٹر انٹرپرائزز جن میں آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل)، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ شامل ہے، کے صارفین سے مالی سال 2019 میں قابل ادا رقم کی ریکوری نہ کرنے کے 16 بڑے کیسز کا انکشاف کیا گیا جس کی رقم 793 ارب روپے بنتی ہے.








آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain