Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ٹیکسلا:ملک وسیم شہزاد کوآرڈینیٹر بیرسٹر عقیل ملک اور ملک عبدالسلام ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر فہیم ارشد سے ملاقات کرتے ہوئے۔
    • ملک فہیم ارشد کی بطور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر راولپنڈی تعیناتی
    • 17 غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو پناہ دینے والا مالک مکان گرفتار، مقدمہ درج
    • جنوبی کوریا’ جاپان کی امریکا کیساتھ مشترکہ فوجی مشقیں خطے میں جنگ کے نئے خطرات پیدا کر رہی ہیں:شمالی کوریا
    • فتح جنگ:غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کو پناہ دینے والا مالک مکان محمد خان تھانہ نہو ایئر پورٹ پولیس کی حراست میں ۔
    • سعودی پاک بزنس کونسل پائیدار تجارت کا بڑا فورم:شہزادہ منصور آل سعود
    • اسلام آباد،سوتیلی بیٹی سے زیادتیکرنے والے سفاک شخص کوسزائے موت دینے کا حکم
    • 3مسلح نقاب پوش ڈاکو سٹور میں داخل نوجوان سے گن پوائنٹ پر ہزاروںنقدی موبائیل فون قیمتی اشیا چھین کر فرار
    • راولپنڈی نالہ لئی پر تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن شروع
    • سوذوکی پک اپ اور رکشہ میں تصادم، 1 شخص شدید زخمی
    • گورنر راج ‘ بنوں سمیت جنوبی خیبرپختونخوا میں ترقی کی امیدیں بڑھ گئیں
    • لاہور فیصل آباد ریلوے ٹریک کی بندش، متعدد ٹرینوں کا شیڈول متاثر
    • 10 گینگز کے 18 ملزمان گرفتار،منشیات کیخلاف کریک ڈان کے دوران25منشیات سپلائرز گرفتار
    • راولپنڈی :ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز عمر وقار ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں ۔
    • یڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاسنگ اتھارٹی اور FDHL کے درمیان شراکت داری
    • پنجاب اور کنٹونمنٹ بورڈز انتخابات انعقاد یقینی بنانے کیلئے سماعت 28اکتوبر مقرر
    • ڈائریکٹر واٹر سپلائی کا کشمیر پوائنٹ فلٹریشن پلانٹ کا دورہ
    • راولپنڈی منشیات فروشوں کیخلاف کارروائیاں،43ملزمان گرفتار مقدمات درج
    • تھانہ مندرہ کے علاقے میں ڈکیتی اور چوری کی دو وارداتیں
    • سوڈان میں بازار پر ڈرون حملہ خواتین سمیت بچوں 53 افراد جان بحق
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    قصور وار کون؟

    By Daily Khabrainاگست 22, 2021
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    نعیم ثاقب
    ٹوکیو جاپان کا درالحکومت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کا مشہور اور مصروف ترین شہر بھی ہے یہاں روزانہ لاکھوں کی تعداد میں مرد و خواتین مسافر زیر زمین تیز رفتار ٹرینوں میں سفرکرتے ہیں۔ 2017میں ٹوکیو کی پولیس کو خواتین مسافروں کی طرف سے دوران سفر جسمانی چھیڑ چھاڑ(groping)اور جنسی ہراسگی کے تقریبا 900 واقعات کی باقاعدہ شکایت کی گئی۔جاپانی ماہرین کے مطابق حقیقت میں ان واقعات کی سالانہ تعداد کہیں زیادہ تھی کیونکہ بہت سی خواتین نے پولیس کو ایسے واقعات کی اطلاع نہیں دی۔ اس پر ٹوکیو پولیس نے متاثرہ خواتین کو تحفظ دینے اور ایسے مردوں کو نکیل ڈالنے کے لیے ڈیجی پولیس ایپ متعارف کروائی۔ ٹوکیو نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق جب کسی خاتون کو گروپِنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو خاتون ایپ ایکٹیویٹ کر دیتی ہے۔اور فون سے احتجاجی لہجے میں بہت اونچی آواز میں یہ جملہ سنائی دیتا ہے: سٹاپ اِٹ!۔ یا ایپ اس کے موبائل فون کی پوری اسکرین پر بڑا پیغام بھیج دیتی ہے جو متاثرہ خاتون فوراً دیگرمسافروں کو دکھا کر مدد لے سکتی ہے۔ یہ طریقہ کار گروپِنگ کے مرتکب افراد کو ڈرانے میں اتنا مؤثر ثابت ہو رہا ہے کہ اس ایپ کو اب تک ٹوکیو میں ایک ملین سے زائد خواتین اپنے اسمارٹ فونز پر ڈان لوڈ کر چکی ہیں۔اور ماہانہ اوسطا ًمزید 10 ہزار خواتین یہ ایپ اپنے اپنے موبائل فونز پر انسٹال کر رہی ہیں۔ جب کوئی خاتون اس ایپ کو اپنے فون پرایکٹیویٹ کرتی ہے، تو اس کے فون کی اسکرین پر دوسروں کے لیے یہ پیغام بھی لکھا ہوانظر آتا ہے: یہ شخص مجھے تنگ کر رہا ہے، میری مدد کیجیے۔
    یہ تو تھی جاپانی ڈیجی پولیس ایپ کی بات۔اب پیش خدمت ہے دنیا کے دیگر مہذب بور ترقی یافتہ ممالک سے groping کے حوالے کچھ تازہ خبریں۔
    9 اگست کوگورنر نیویارک کے معاون کے خلاف خاتون کی جانب سے گروپنگ کی شکایت کی گئی۔
    گیارہ اگست کینیڈا کے شہر وینکور میں پولیس نے خواتین کے ساتھ(groping)دست درازی پر ہائی الرٹ جاری کیا۔یہ واقعہ سہ پہر2:30 کریک فالس کے علاقے میں واک کرتی ہوئی دو گیارہ سالہ لڑکیوں کے ساتھ پیش آیا۔
    ولیمزبرگ، بروکلین(ڈبلیو اے بی سی)پولیس /بروکلین میں پرتشدد اور جنسی ہراسگی میں ملوث ملزم کو تلاش کر رہی ہے۔اس شخص نے پندرہ اگست اتوار صبح 2:15پرایک چھبیس سالہ خاتون سے دست درازی کی۔
    18اگست کو ساؤتھ ونڈسر میں سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی چھیڑ چھاڑ کا واقعہ پیش آیا۔
    3اگست کو فرنٹیر ایئرلائن میں ائرہو سٹس کے ساتھ گروپنگ کا پولیس کیس بناآیا۔
    29جنوری کو انڈیا میں بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر بمبئی ہائی کورٹ نے کپڑے اتارے بغیر چھیڑ چھاڑ کو جنسی ہراسگی کے زمرے سے نکال دیا۔ جس پر پوری دنیامیں اس فیصلے پر تنقید ہوئی۔
    مارچ 2021ء کو یو این۔یوکے کی ایک تحقیق کے مطابق انگلینڈ میں 18-24 سال کی97 فیصد خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا گیا ہے، جبکہ 96 فیصد نے اس کی شکایت اس لیے نہیں کی کہ انہیں یقین ہے اس سے کچھ نہیں بدلے گا۔
    پاکستان سمیت دنیا کے تقریباً سبھی ممالک کی خواتین ایسے نفسیاتی مریضوں، درندوں اور ذہنی اوباشوں کے ہاتھوں جنسی ہراسگی کا شکار ہوتی رہتی ہیں۔ ایسے نفسیاتی بیمار جو خواتین کے جسم کو ہاتھ لگا کر لذت محسوس کرتے ہیں ہر معاشرے کے گلی محلوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ان بھیڑیوں کی حمایت میں نہ تو کوئی دلیل دی جاسکتی ہے نہ ہی کوئی توجیح پیش کرنی چاہیے۔ گریٹر اقبال پارک میں لڑکی کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا وہ قابل مذمت ہی نہیں قابل ندامت بھی ہے۔ قصور واروں کو سزا ہرحال میں ملنی چاہیے۔ لیکن سوشل میڈیا پر اس ایشو کو اچھالتے ہوئے ہم میں سے کسی نے یہ بھی سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے کہ دنیا بھر میں ایسے واقعات ہونے کے باوجود صرف پاکستان میں ہی ان کو اتنا کیوں اچھالا جاتا ہے۔ سمجھ لیں دشمن گھات لگائے بیٹھا اور پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ہم انجانے میں دشمن کے ہاتھوں اپنی ریاست، اپنے وطن اور اپنے لوگوں کے خلاف استعمال ہورہے ہوتے ہیں۔یہ ففتھ جنریشن وار کا ایک بڑا ہتھیار ہے جس میں اپنے ہی لوگوں کوایک دوسرے کے خلاف بھڑکا کر ملک میں انتشار پیدا کیا جاتاہے اور ریاست کو کمزورکرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسری بات کیا کسی نے یہ بھی سوچا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث ذہنی مریضوں کی تربیت کا ذمہ دار اور قصور وار کون ہے۔ والدین،معاشرہ، تعلیمی ادارے، مریض خود، بڑھتی ہوئی بے راہ روی، حد سے زیادہ آزادی،سال دو سال کی پوسٹنگ والا پولیس افسر یا نئی حکومت؟
    (کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
    ٭……٭……٭

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ہاکی کھلاڑیوں کو یومیہ 110ڈالر دیے جا رہے ہیں: صدر پی ایچ ایف

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      تازہ ترین

      سعودیہ جانیوالے مسافروں کیلئے لازمی ویکسی نیشن کی مدت میں ایک ماہ کی توسیع

      پانی ہماری ریڈلائن، روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگی اقدام تصور ہوگی: وزیراعظم شہباز شریف

      سعودی عرب پر حملہ پوری امت مسلمہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے، فضل الرحمان

      باجوڑ میں موبائل سروس و انٹرنیٹ بند شہریوں کو مشکلات کا سامنا

      گورنر راج اور ایمرجنسی مسئلے کا حل نہیں حکومت کا چراغ بجھنے والا ہے:حافظ نعیم

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.