Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پھر بیٹنگ فلاپ، انگلینڈ کے خلاف پاکستان مشکلات کا شکار
    • جوہر ٹاؤن کی نئی سڑک میں اچانک بڑا گڑھا بن گیا
    • سعودی عرب کی اردن پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت
    • نیپال، چین سرحد پر سیلاب:ہلاکتیں 1,410تک پہنچ گئیں، 5,065سے زائد لاپتا
    • سونا مہنگا ہوگیا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 50 ہزار کے قریب
    • 7 اکتوبر حملے سے پہلے اماراتی وارننگ کا دعویٰ غزہ پر حملے کا جوازاور ایران اسرائیل جنگ،نیتن یاہومشکل میں
    • بین شیلٹن کا بڑا اپ سیٹ، دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز کو ہرا کر یو ایس اوپن سیمی فائنل میں پہنچ گئے
    • فاطمہ ثنا: سیمی فائنل میں پہنچ گئے مگر بیٹنگ بہتر کرنا ہوگی
    • جو روٹ: ایجبسٹن میں پاکستان سخت مقابلہ دے گا
    • حیدرآباد، ملتان، لاہور، فیصل آباد اور کراچی موسمیاتی خطرات میں دنیا کے کمزور ترین شہروں میں شامل
    • ایران کا اردن میں امریکی اڈے پر حملہ ہرمز میں جنگی بحری جہاز پہنچ گئے
    • نئے صوبے ،شہبازشریف متحرک ‘ممتاز صنعت کاروں,کاروباری شخصیات سے طویل ملاقات
    • خان کی جیل منتقلی بارے نیا دعویٰ منیب فاروق کا انکشاف
    • آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آبدوز پکڑنے کا ایرانی دعویٰ
    • ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں سے میرا کوئی تعلق نہیں: بابر اعظم
    • پاکستان کی ملائیشیا کو 5-2 سے شکست جونیئر ایشیا کپ کے سیمی فائنل میں رسائی
    • عاقب جاوید پاکستان کرکٹ ٹیم مسائل کی بڑی وجہ،منفی پروپیگنڈہ بند کریں:جیسن گلیسپی
    • عمران خان کیلئے وسیم اکرم بھی بول پڑے
    • اقوام متحدہ کا اسرائیل کو جنوبی شام پر حملے روکنے کا مطالبہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    اتوار کو ووٹنگ میں ملکی سمت کا فیصلہ ہو گا: وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار

    By Khabrain Newsمارچ 31, 2022
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد:(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خود داری ایک آزاد قوم کی نشانی ہوتی ہے۔ پاکستان کے لیے فیصلہ کن وقت ہے۔ میں کسی کے سامنے جھکا اور نہ اپنی قوم کو جھکنے دوں گا۔ سات مارچ کو بیرون ملک سے پیغام آیا،دھمکی آمیز خط لکھنے والوں کو تحریک عدم اعتماد کا پہلے سے علم تھا، کہا گیا تحریک کامیاب نہ ہوئی تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا،تھری اسٹوجز کےا ن لوگوں سے رابطے تھے۔ میں کسی صورت استعفیٰ نہیں دو ںگا۔ اتوار کو عدم اعتماد پر ووٹنگ میں ملکی سمت کا فیصلہ ہوگا۔
    قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم زمین پر چیونٹیوں کی رینگ رہے ہیں، میں نے ہمیشہ کہا تھا نہ میں کبھی کسی کے سامنے جھکوں گا اور نہ کسی کے سامنے جھکنے دوں گا۔ 25 سال سے یہی میرا موقف تھا، جب اقتدار مجھے ملا تو فیصلہ کیا خارجہ پالیسی آزاد ہو گی، خارجہ پالیسی پاکستانیوں کے لیے ہو گی۔ اس کا مقصد کسی کا ساتھ دینا نہیں تھا۔ میں بھارت، امریکا اور برطانیہ کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں، بھارت میں بہت کرکٹ کھیلی، امریکا میں سیاستدان میرے بہت دوست ہیں جبکہ برطانیہ میں میری ابتدائی زندگی گزری۔ پرویز مشرف دور میں مجھ سمیت تمام سیاستدانوں کو بریفنگ دی جس میں کہا گیا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نہ گئے تو امریکا ہمیں پتھر کے دور میں بھیج دے گا لیکن میں نے اس وقت بھی اس جنگ کے خلاف بیان دیا تھا۔ کیا ہم اپنے لوگوں کو قربان کروائیں۔ 80ء کی دہائی میں ساری جہاد قبائلی علاقوں میں لڑی گئی۔ ہمیں بتایا گیا کہ افغانستان میں غیر ملکی قبضہ ہو رہا ہے جس کے لیے ہم انہیں بچانا چاہتے ہیں، جنگ ہارنے کے بعد امریکا نے ہم پر پابندیاں لگا دیں۔ اس دوران پاکستانیوں نے بہت قربانیاں دیں، اس دوران کسی بھی ملک نے اتنی قربانیاں نہیں دیں۔ قبائلی علاقہ پاکستان میں سب سے زیادہ پر امن علاقہ تھا، وہاں پر جرائم نہیں ہوتے تھے، وہاں پر دہشتگردی کیخلاف جنگ شروع کی گئی، ہمارے لوگ مارے گئے۔ ہمارے لوگوں نے جہاد سمجھ کر پاکستان کیخلاف جنگ لڑنا شروع کر دی۔ پرانا جہادی بھی پاکستان کیخلاف ہو گئے۔ نائن الیون میں کوئی پاکستانی شامل تھا۔ ہمیں کہا گیا کہ پاکستان کی دوغلی پالیسی کی وجہ سے امریکا افغانستان نہیں جیت پا رہا، ڈرون اٹیک ہوئے بہت نقصان ہوا، باجوڑ میں مدرسے کے بچوں پر ڈرون اٹیک ہوئے جس میں 80 بچے شہید ہوئے، دیگر علاقوں میں شادیوں پر بھی ڈرون حملے کیے گئے۔ میں جب کہتا تھا یہ جنگ ہماری نہیں تو لوگ ہمیں طالبان خان کہتے تھے، میں نے وزیرستان مارچ کیے، امریکا سمیت باہر سے لوگوں نے میرے مارچ کی حمایت کی۔ ہماری حکومتوں نے امریکا کا ساتھ دیا جس کے باعث وہ ہم پر حملہ کرتے تھے، مجھے حکومت ملی تو میں نے پہلے دن کہا تھا پاکستان کی پالیسی عوام کے مفاد میں ہو گی اور یہ پالیسی آزاد ہو گی۔ میری پالیسی، بھارت سمیت کسی کے خلاف نہیں۔
    خطاب کے دوران وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے ’امریکا‘ کا نام لے لیا۔
    عمران خان نے قوم سے براہ راست خطاب کیا اور اس دوران انہوں نے خارجہ پالیسی پر بات کی۔
    وزیراعظم نے قوم سے خطاب میں مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے ’امریکا‘ کا نام لیا اور پھر غلطی کا احساس ہونے پر رکے اور کہا کہ نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سے۔
    مراسلے والے ملک کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ابھی ہمیں 8 مارچ کو یا اس سے پہلے 7 مارچ کو ہمیں امریکا نے (نہیں باہر سے ملک کا نام مطلب کسی اور ملک سے باہر سے) میسج آتی ہے، میں یہ اسی لیے آپ کے سامنے میسج کی بات کرنا چاہ رہا ہوں۔
    عدم اعتماد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ تحریک جمع کروانے سے قبل ہمیں پتہ چل گیا تھا، ایک ملک کی طرف سے کہا گیا عدم اعتماد کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان کو معاف کر دیتے ہیں۔ اگر یہ فیل ہو جاتی ہے یا وزیراعظم عمران خان کی حکومت برقرار رہتی ہے تو پاکستان کو ایک مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میرا پاکستانیو سے سوال ہے کہ کوئی باہر کا ملک ہمارا فیصلہ کرے گا۔ تھری سٹوجز خط لکھنے والے ملک کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ میرے ملک کا سودا کیا جا رہا ہے، میں اپنے لوگوں کو کہتا ہوں ہمیشہ کے لیے آپ کے اوپر مہر لگنی لگی ہے، لوگ آپ کو معاف نہیں کریں گے، ہینڈل کرنے والوں کو بھی لوگ معاف نہیں کریں گے۔ بیرونی سازش کے تحت آپ نے ہماری حکومت گرائی۔
    خط کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ نیشنل سکیورٹی کی کمیٹی میں یہ خط رکھا گیا، اپوزیشن والے کیوں نہیں آئے، مجھے کہا گیا کہ یہ جعلی ہے، میں نے ٹاپ فورم پر یہ معاملہ رکھا، نیشنل سکیورٹی کی میٹنگ میں سروسز چیفس کے سامنے رکھے، پارلیمنٹ کی میٹنگ میں لے کر گیا، سینئر صحافیوں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کیا۔ عوام کو اُکسا نہیں رہا، جو چیزیں ہیں وہ عوام کو نہیں بتا رہا۔ وہ بہت خوفناک ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ جن کے اوپر اربوں روپے اور نیب کے کیسز ہوں کیا ان کو ملک کا اقتدار دیں گے۔ جنرل (ر) مشرف کے دور میں انہوں نے اپنا قرض معاف کروائے، باہر کے ممالک والوں کو پتہ ہے ملکی رہنماؤں کے پیسے کہاں پڑے ہیں۔ باہر کے ملک والوں کو ان کی کیا خاصیت ہے جو انہیں پسند ہے ، پرویز مشرف کے دور میں 11 ڈورن حملے ہوئے، مسلم لیگ ن اور پی پی کے دور میں چارسو ڈرون اٹیک ہوئے۔ یہاں کوئی مذمت نہیں ہوتی تھی، افغانستان میں جب ڈرون ہوتے تو افغانستان کے صدر حامد کرزئی مذمت کرتے تھے۔ بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ بہت ذلت آمیز تعلق رکھا جاتا تھا۔
    انہوں نے کہا کہ روس کا دورہ سول اور عسکری قیادت سے مشاورت کر کے گیا، اس لیٹر میں لکھا تھا یہ فیصلہ عمران خان نے کیا ہے۔ ہم کسی کے نوکر نہیں، یورپی یونین کے لوگ بھی روس گئے ان کے خلاف کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔
    مولانا فضل الرحمان سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وکی لیکس میں لکھا ہے پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن سے ملاقات کر کے کہتے ہیں مجھے موقع دیں میں وہیں خدمات کروں گا جو باقی لوگ کرتے ہیں۔ برکھا دت نے کتاب میں لکھا نواز شریف ہندوستانی رہنماؤں سے نیپال میں ملاقات کرتا تھا۔ اس ملاقات میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو برا بھلا کہا گیا، میرے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو کوئی برا بھلا کہے تو میں بالکل برداشت نہیں کروں گا۔
    شہباز شریف سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لیگی صدر کہتے ہیں میں نے ایبسلوٹلی ناٹ کہہ کر بہت بڑی غلطی کی، میں نے کہا تھا امن میں آپ کے ساتھ ہیں جنگ میں کسی کے ساتھ نہیں، افغانستان میں ڈرون اٹیک سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ایبسلوٹلی ناٹ کہا تھا۔
    ان کا کہنا تھا کہ میرے پاکستانیو میں نے آپ سے بہت اہم بات کرنی ہے، پاکستان اس وقت فیصلہ کن وقت پر ہے، ہمارے پاس دو راستے ہیں، ہمارے پاس ہے کہ کونسے راستے پر جانا ہے۔، سیاستدانوں کی زندگی دیکھیں تو ان کو پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، قائداعظم محمد علی جناحؒ بہت بڑے سیاستدان تھے، سارے ہندوستان میں سب سے بڑے وکیل سمجھے جاتے تھے، ان کی حیثیت تھی سیاستدان میں آنے کی، ہمارے ہاں سیاستدانوں کو ماضی میں کوئی نہیں جانتا تھا، مجھے اللہ نے سب کچھ دیا، شہرت دی، ضرورت سے زیادہ پیسہ دیا، لیکن میں پاکستان کی پہلی نسل تھا، پاکستان مجھ سے صرف پانچ سال بڑا ہے۔ میرے والدین غلامی کے دور میں پیدا ہوئے تھے، میرے والدین مجھے احساس دلاتے تھے کہ تم بہت خوش قسمت ہو۔ میرے ملک وہ ملک نہیں بن سکتا جس کا خواب قائداعظم ؒ اور علامہ اقبال ؒ نے دیکھا۔
    عمران خان نے کہا کہ میں نے پچیس سال پہلے سیاست شروع کی تو تین چیزیں منشور میں رکھیں، انصاف، انسانیت میرے دو خواب تھے اور میرا تیسرا خواب خودداری تھا۔ پاکستان کا مطلب لا الہ اللہ تھا، اس کا مطلب کسی کے آگے جھک جانا شرک ہے۔ پیسے کی غلامی اور خوف کی غلامی شرک ہے۔ لا الہ اللہ انسان کو خوف سے آزاد کرتا ہے۔ میرے اندر ایمان نہ ہوتا تو میں سیاستدان میں نہ آتا۔ سیاست میں آنے سے پہلے 14 سال میرے ساتھ محض چند لوگ تھے، میں سیاست میں نظریہ کے لیے آیا تھا۔ ریاست مدینہ مسلمانوں کیلئے رول ماڈل ہے، طاقتور اور غریب کیلئے الگ الگ قانون ہو تو وہ قوم تباہ ہوجاتی ہے، ریاست مدینہ میں قانون کی حکمرانی تھی، جہاں انصاف نہ ہو وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      جوہر ٹاؤن کی نئی سڑک میں اچانک بڑا گڑھا بن گیا

      سونا مہنگا ہوگیا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 50 ہزار کے قریب

      حیدرآباد، ملتان، لاہور، فیصل آباد اور کراچی موسمیاتی خطرات میں دنیا کے کمزور ترین شہروں میں شامل

      تازہ ترین

      نئے صوبے ،شہبازشریف متحرک ‘ممتاز صنعت کاروں,کاروباری شخصیات سے طویل ملاقات

      آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آبدوز پکڑنے کا ایرانی دعویٰ

      عمران خان کیلئے وسیم اکرم بھی بول پڑے

      امام الحق اور محمد رضوان کے خلاف انکوائری شروع، فون ضبط

      حماداظہرگرفتارہوہوئےیا گرفتاری دی؟

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.