پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے دورے کے دوران قومی ٹیم میں نظم و ضبط اور کھلاڑیوں کے طرزِ عمل سے متعلق رپورٹس کے بعد اندرونی انکوائری شروع کردی ہے۔ اس معاملے میں سابق ٹیسٹ کھلاڑیوں امام الحق اور محمد رضوان کے حوالے سے بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
پی سی بی کے میڈیا ڈائریکٹر عامر میر نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ نے نظم و ضبط اور طرزِ عمل سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد اندرونی انکوائری شروع کی ہے اور معاملے کا جائزہ پی سی بی کے قواعد و ضوابط کے مطابق لیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کے دوران تمام متعلقہ افراد کے مؤقف کو بھی مدِنظر رکھا جائے گا۔
اس سے قبل جیو نیوز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امام الحق اور محمد رضوان کے موبائل فونز سے ڈیٹا حاصل کیا گیا اور انگلینڈ میں قیام کے دوران ان کی سرگرمیوں اور رابطوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی 194 رنز سے شکست کے بعد ٹیم کے سیکیورٹی افسر نے دونوں کھلاڑیوں کے فون اپنی تحویل میں لیے، جنہیں چند گھنٹوں بعد واپس کردیا گیا۔
تاہم پی سی بی نے فون ضبط کرنے یا موبائل ڈیٹا حاصل کرنے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ بورڈ کے ترجمان نے غیر مصدقہ اور قیاس پر مبنی رپورٹس کو حتمی حقیقت سمجھنے سے گریز کرنے کا کہا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب انگلینڈ کے خلاف پہلے دو ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد پی سی بی نے ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں۔ محمد رضوان، امام الحق اور سلمان علی آغا سمیت 7 کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا جبکہ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو بھی ذمہ داریوں سے فارغ کردیا گیا۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکوائری کا دائرہ کھلاڑیوں کی سرگرمیوں اور رابطوں تک بڑھایا گیا ہے، تاہم تاحال امام الحق یا محمد رضوان کے خلاف کسی غیر قانونی سرگرمی یا میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا کوئی مصدقہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔

