برطانیہ کا اسرائیلی غیر قانونی بستیوں پر پابندی کا اعلان
برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد ہونے والی اشیا پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ حکومت ایک جامع پابندیوں کا نظام متعارف کرائے گی، جس کے تحت بستیوں سے آنے والی مصنوعات کی درآمد روک دی جائے گی۔
برطانوی حکومت کے مطابق اسرائیلی بستیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں اور ان کی مسلسل توسیع فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ برطانیہ سمیت 12 ممالک نے بھی بستیوں سے متعلق تجارتی پابندیوں کی حمایت یا ان پر عمل درآمد کا اعلان کیا ہے۔
نئی پابندیوں کے تحت صرف اشیا ہی نہیں بلکہ تعمیرات، انفراسٹرکچر، فنانسنگ اور رئیل اسٹیٹ کے ذریعے غیر قانونی بستیوں کی توسیع میں مدد دینے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔
برطانیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اسرائیل کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بستیوں کی توسیع روکنا اور دو ریاستی حل کے امکانات کو محفوظ رکھنا ہے۔ تاہم اسرائیل نے اس فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ کے خلاف سفارتی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرنا بھی شامل ہے۔
برطانوی پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ پابندیوں کے عملی نفاذ میں چھ سے نو ماہ لگ سکتے ہیں۔

