نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب کے دوران ایک اسکول کے پرنسپل نے بروقت فیصلہ کرتے ہوئے 900 سے زائد بچوں کی جانیں بچا لیں۔ نیوواکوت ضلع کے شہر بیدور میں واقع تری بھون تریشولی سیکنڈری اسکول میں تقریباً 900 طلبہ موجود تھے جب اچانک سیلاب کی وارننگ موصول ہوئی۔
اسکول کے پرنسپل راجیندر داؤدی کو سیلاب کے خطرے سے متعلق یکے بعد دیگرے کئی اطلاعات ملیں۔ خطرے کی شدت کا اندازہ ہوتے ہی انہوں نے اسکول کی گھنٹی بجائی اور طلبہ و عملے کو فوری طور پر عمارت خالی کرکے محفوظ اور بلند مقام کی طرف منتقل ہونے کا حکم دیا۔
پرنسپل کے پاس فیصلہ کرنے کے لیے تقریباً 14 منٹ تھے۔ اس دوران اساتذہ نے بچوں کو بسوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل محفوظ مقامات تک پہنچایا۔ مجموعی طور پر 900 سے زائد طلبہ اور 16 اسٹاف ممبران محفوظ مقام پر پہنچ گئے۔
طلبہ کے انخلا کے چند ہی لمحوں بعد شدید سیلابی ریلے نے اسکول کی عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ یہ اسکول 2015 کے تباہ کن زلزلے کے بعد دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا اور دریائے تریشولی اور ایک ہائیڈرو پاور نہر کے قریب واقع تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ سیلاب ہمالیہ میں گلیشیئر کے ٹوٹنے کے نتیجے میں آنے والے شدید فلیش فلڈ سے پیدا ہوا، جس نے نیپال کے تریشولی وادی سمیت کئی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ ملک میں درجنوں اسکول تباہ یا متاثر ہوئے اور ہزاروں بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی۔

