راولپنڈی(عرفان چوہان سے)چکلالہ کینٹ بورڈ کے شعبہ فوڈ کنٹرول سیل کے افسران اور اہلکاروں کی مبینہ نااہلی، ملی بھگت اور چشم پوشی کے باعث چکلالہ کینٹ کے مختلف علاقوں میں ناقص، مضرِ صحت اور غیر معیاری خوراک کی کھلے عام فروخت جاری ہے، جس سے شہریوں کی زندگیاں شدید خطرات سے دوچار ہو چکی ہیں۔ شہریوں نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس بورڈز اور ایگزیکٹو افیسر چکلالہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چکلالہ کینٹ بورڈ کے مختلف علاقوں سکیم 3،جھنڈا چیچی، لال کرتی،ڈھیری حسن اباد،ٹاہلی موری، جھاورا اور دیگر علاقوں میں گندے اور پرانے تیل میں تیار کردہ کھانے، ناقص مصالحہ جات، بیمار اور بدبودار گوشت، گندا چکن، پاڈر ملا دودھ،پیکٹوں میں دہی اور دیگر غیر معیاری کھانے پینے کی اشیا بلا روک ٹوک فروخت کی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ اہلکار فرضی کارروائیوں تک محدود دکھائی دیتے ہیں۔ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کی دکانوں پر مضرِ صحت کھانے شہریوں کو کھلائے جا رہے ہیں۔متعدد ہوٹلوں کے کچن نہایت گندے، غیر معیاری اور صفائی کے بنیادی اصولوں سے محروم ہیں۔ جگہ جگہ ہوٹلوں کے باہر کوڑے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جبکہ چکن اور گوشت کی دکانوں، ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں شدید بدبو اور مکھیاں بھنبناتی دکھائی دیتی ہیں۔بیشتر مقامات پر پکوڑے، سموسے اور دیگر اشیا گندے اور کئی دن پرانے تیل میں تیار کی جا رہی ہیں، جو انسانی صحت کے لیے نہایت مضر ہیں۔ متعدد ہوٹل مالکان بغیر کسی ایس او پیز کے کاروبار کر رہے ہیں، جبکہ کام کرنے والے عملے کے نہ تو میڈیکل سرٹیفیکیٹس موجود ہیں اور نہ ہی کئی دکانوں اور ہوٹلوں کے پاس لائسنس یا رجسٹریشن سرٹیفیکیٹس موجود ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ چکلالہ کینٹ بورڈ کے اہلکار فیلڈ میں نظر نہیں آتے، اور مبینہ طور پر اپنا حصہ وصول کر کے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری مختلف معدے، جگر، جلد اور دیگر خطرناک بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔شہروں نے ڈائریکٹر جنرل ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹس بورڈز اور ایگزیکٹو افیسر چکلالہ سے مطالبہ کیا ہے کہ چکلالہ کینٹ کے تمام ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، دودھ اور گوشت کی دکانوں کے لیے مثر مانیٹرنگ کا نظام بنایا جائے اور ناقص خوراک فروخت کرنے والوں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تا کہ شہری مختلف بیماریوں سے محفوظ رہیں۔
