جیسن گلیسپی کا انکشاف، PCB اب بھی ہزاروں ڈالر کا مقروض
پاکستان کے سابق ٹیسٹ ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) ان کے اب بھی ہزاروں ڈالر کا مقروض ہے، حالانکہ انہیں قومی ٹیم سے الگ ہوئے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں۔
گلیسپی نے یہ انکشاف دی ٹیلی گراف سے گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ کرکے محض عہدہ اور تنخواہ برقرار رکھنے والے شخص نہیں تھے۔ ان کے مطابق، "PCB اب بھی میرے ہزاروں ڈالر کا مقروض ہے، لیکن میں کبھی ہاں میں ہاں ملانے والا نہیں بننے والا تھا۔”
جیسن گلیسپی نے اپریل 2024 میں پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کی ذمہ داری سنبھالی تھی اور دسمبر 2024 میں عہدے سے الگ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے دورِ کوچنگ کے دوران سابق چیف سلیکٹر عاقب جاوید پر انہیں کمزور کرنے اور فیصلہ سازی میں ان کا کردار محدود کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔
گلیسپی کے مطابق عاقب جاوید کی تقرری کے بعد صورتحال بنیادی طور پر بدل گئی اور وہ ٹیم، کھلاڑیوں اور اسٹاف کے معاملات میں اپنی سابقہ ذمہ داریوں اور اثر و رسوخ سے محروم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر متاثر کیا اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ آیا وہ کوچنگ جاری رکھنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔
انہوں نے موجودہ پاکستان کوچ مائیک ہیسن کو بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہیں، اپنی جبلت پر اعتماد کریں اور محض ہر فیصلے پر "ہاں” کہنے والے شخص نہ بنیں۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق PCB کا مؤقف رہا ہے کہ گلیسپی نے مطلوبہ نوٹس مدت پوری کیے بغیر استعفیٰ دے کر اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کی تھی، جبکہ گلیسپی اپنے واجبات کی ادائیگی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
گلیسپی نے پاکستان کرکٹ میں بار بار ہونے والی انتظامی اور کوچنگ تبدیلیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ٹیم کو کامیابی کے لیے مستحکم نظام، مضبوط قیادت اور بااختیار کوچنگ اسٹاف کی ضرورت ہے۔

