پاکستانی کرکٹ میں ایک بار پھر شفافیت اور احتساب کے سوالات نے جنم لے لیا ہے۔ اسپورٹس صحافی ثناء اللہ خان نے کرکٹرز کے حوالے سے میچ فکسنگ کے سوالات اٹھاتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے نظام اور نگرانی کے طریقۂ کار پر بھی سوالات کیے ہیں۔ تاہم دستیاب مستند معلومات کے مطابق کسی موجودہ پاکستانی کرکٹر کے خلاف میچ فکسنگ کا کوئی حتمی ثبوت سامنے نہیں آیا، اس لیے معاملے کو الزام کے بجائے سوال اور تحقیقات کے تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ ثناء اللہ خان اس سے قبل بھی چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی انتظامی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پی سی بی کے مالی اور انتظامی معاملات میں شفافیت ہونی چاہیے، جبکہ ان کے مطابق بورڈ کی جانب سے مالی بیانات کے اجرا کے معاملے پر بھی سوالات موجود ہیں۔
ثناء اللہ خان اور پی سی بی کے درمیان اختلافات اس وقت مزید نمایاں ہوئے جب صحافی کے مطابق انہیں بورڈ کی جانب سے میچز کی کوریج اور پریس کانفرنسز میں شرکت سے روکا گیا۔ بعدازاں انہوں نے چیئرمین محسن نقوی کو براہِ راست پیغام بھیجنے اور اس پیغام کے پی سی بی کے میڈیا حکام تک پہنچنے پر بھی سوال اٹھایا۔ دوسری جانب ان تمام معاملات میں پی سی بی کا مؤقف اور متعلقہ ریکارڈ بھی سامنے آنا ضروری ہے تاکہ حقائق واضح ہو سکیں۔
اسپورٹس صحافی ثناء اللہ نے ڈائریکٹر میڈیا پی سی بی کی کلاس لے لی

