سابق پاکستانی آل راؤنڈر عماد وسیم نے انگلینڈ کے دورے پر موجود قومی ٹیسٹ ٹیم کی کارکردگی اور پاکستان کے کرکٹ سسٹم پر شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو پاکستانی کرکٹ کے لیے شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو میدان میں مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔
عماد وسیم کے مطابق پاکستان کرکٹ میں اس وقت نہ مناسب نظام موجود ہے، نہ کھلاڑیوں کی تربیت کے لیے واضح کلچر اور نہ ہی مستقبل کی ٹیم تیار کرنے کا مؤثر طریقہ کار۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑی ملک کے لیے لڑنے اور اپنی پوری کوشش کرنے کا جذبہ ضرور رکھتے ہیں، لیکن صرف جذبہ کافی نہیں، کامیابی کے لیے بنیادی کرکٹنگ اسکلز بھی ضروری ہیں۔
انہوں نے خاص طور پر پاکستان کے فاسٹ باؤلنگ اٹیک پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی پاکستانی فاسٹ باؤلرز 125 سے 135 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کر رہے ہیں، جبکہ انگلینڈ کے کئی باؤلرز 140 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ رفتار سے گیند کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس فرق نے دونوں ٹیموں کی کارکردگی میں واضح فرق پیدا کیا ہے۔
عماد وسیم نے پاکستانی ٹیم میں محمد عباس کو واحد ایسا باؤلر قرار دیا جس کے پاس مطلوبہ معیار کی مہارت اب بھی موجود ہے۔ انہوں نے لارڈز ٹیسٹ میں عباس کی شاندار باؤلنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پاکستان کے لیے اس سے کہیں زیادہ ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔ عباس نے لارڈز میں دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
سابق آل راؤنڈر نے پاکستان کی بیٹنگ پر بھی سخت تنقید کی اور کہا کہ بیٹنگ لائن اتنی کمزور ہے کہ ایک تجربہ کار باؤلر کی بہترین کارکردگی کے باوجود ٹیم ٹیسٹ میچ جیتنے کی پوزیشن میں نہیں پہنچ پاتی۔ انہوں نے اسپن باؤلنگ کے شعبے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیم میں ایسا کلاسیکل یا مؤثر اسپنر موجود نہیں جو میچ کا رخ تبدیل کر سکے۔
عماد وسیم نے طویل المدتی کامیابی کے لیے دوسرے کھیلوں سے سبق لینے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق سینئر کھلاڑیوں کے گرد ٹیم تیار کرکے نوجوانوں کو بتدریج مواقع اور تربیت دینی چاہیے تاکہ وہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے مکمل طور پر تیار ہوسکیں۔
عماد وسیم نومبر 2023 میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے 55 ون ڈے اور 66 ٹی20 انٹرنیشنل میچز کھیلے اور 2017 کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ رہے۔
عماد وسیم کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ کو وقتی تبدیلیوں کے بجائے مضبوط نظام، بہتر تربیت اور حقیقی ٹیلنٹ ڈویلپمنٹ کی ضرورت ہے۔

