نیپال، چین سرحد پر تباہ کن سیلاب —
نیپال اور چین کی سرحدی علاقے میں 26 اگست 2026 کو گلیشیئر کے اچانک ٹوٹنے اور اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب اور مٹی کے تودوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ سیلابی ریلے نے کئی آبادیوں، سڑکوں اور ہائیڈرو پاور منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔
تازہ رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً 1,410 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 5,650 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ ان میں نیپال اور چین کے تبت کے علاقے میں متاثر ہونے والے افراد شامل ہیں۔
ریسکیو ٹیموں کی توجہ اس وقت خاص طور پر ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں پر مرکوز ہے، جہاں متعدد کارکنوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ حکام کے مطابق کم از کم تین بڑے منصوبوں کی سرنگوں میں تلاش جاری ہے، جبکہ آکسیجن اور خصوصی آلات بھی اندر پہنچائے جا رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اب تک چند افراد کو سرنگوں اور ملبے سے زندہ نکالا جا چکا ہے، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقہ، خراب موسم اور مواصلاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے باعث امدادی کارروائیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اس تباہی کے نتیجے میں ہزاروں مکانات تباہ یا ناقابلِ رہائش ہو گئے ہیں۔ نیپالی حکام نے اندازہ لگایا ہے کہ تقریباً 20 ہزار مکانات دوبارہ تعمیر کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ نیپال اور چین دونوں نے گلیشیئر کے اس واقعے کو موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی جوڑا ہے۔

