کراچی: (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن کی سرپرستی میں،کوکا کولا کمپنی نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ساتھ ملکر،لیاری ندی کی صفائی کیلئے ایک اتحاد کی تشکیل کی غرض سے ملک بھر سے متعلقہ رہنماؤں پر مشتمل ایک گول میز ااجلاس کا انعقاد کیا۔
#SeeingTheUnseenکے ورلڈ واٹر ویک تھیم کے تسلسل میں ہونے والے اس گول میز اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان نے کی،جس میں وفاقی وزیر برائے بحری امور سید فیصل علی سبزواری نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ گول میزاجلاس کی قیادت کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین ایس ایم طارق ہدیٰ نے کی۔ان سب نے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اداروں کی نمائندگی کی،جہاں رپورٹ کے مطابق گزشتہ بیس برسوں میں فضلہ جمع ہونے کی تباہ کن سطحوں کا انکشاف کیا گیا ہے اور جس میں سے محض2فیصد سے بھی کم کو ہی ہٹایا جاسکا ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن نے لیاری کلین اپ پراجیکٹ کی نگرانی کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیوں کے لئے سب سے زیادہ خطرہ سے دوچار ملک کے طور پر نشاندہی کی گئی ہے،جیسا کہ ملک کو درپیش موجودہ سیلاب کی صورتحال سے بھی واضح ہوتا ہے۔یہ وسیع البنیاد شراکت داری اس بات کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرنے جارہی ہے کہ ہم ایسے حل تلاش کریں جن کو ٹیکنالوجی کے استعمال سے بڑھایا جاسکے۔“
کوکا کولا کمپنی پاکستان کے نائب صد،فہد اشرف نے کہا کہ ”ہم ہمیشہ سے یہ جانتے ہیں کہ کراچی کے ہاربر ایریا میں صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات کے باعث یہان رہنے والے افراد بری طرح متاثر ہوتے ہیں،لیکن یہ ذمہ داری کسی ایک ادارے پر عائد نہیں کی جاسکتی،کیونکہ یہ مسئلہ بہت بڑا ہے،یہ ہر اس شخص کیلئے قدم بڑھانے کا وقت ہے جو پاکستا ن کی واٹر سیکورٹی کی فکر رکھتا ہے۔“
عوامی پالیسی کے ماہر مشرف زیدی کی نظامت میں اس تقریب کا مقصد ایسے حل کی تلاش تھا،جن کا استعمال پائیدار مداخلتوں کو بڑھانے اورمقامی و بین الاقوامی مہارتوں پر زور دینے کیلئے کیا جاسکے۔اس موقع پر گلوبل این جی او،دی اوشین کلین اپ،ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان،یونی لیور،نیسلے،اینگرو اور پیکیجنگ الائنس COREکے نمائندے بھی موجود تھے۔
دنیا بھر کے دریاؤں میں پلاسٹک کے فضلہ کی روک تھام کیلئے دی اوشین کلین اپ اور کوکا کولا کی عالمی شراکت داری کے طور پر،ایک ایسا اتحاد بنانے کی کوشش کی جارہی ہے،جس کے نتیجہ میں لیاری ہاربر کے علاقے کی صفائی کے لئے حل تلاش کیا جاسکے۔
اس منصوبے کو حقیقی عملی جامہ پہنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے چیئرمین طارق ہدیٰ نے کہا کہ ”یہ بندرگاہ پاکستا ن کے شمالی صوبوں اورپاکستان کی مجموعی معیشت کو دنیا سے جوڑتی ہے،اس لئے واٹر سیکورٹی قومی سلامتی کا ایسا مسئلہ ہے،جس سے ہمیں انکار نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی اس کے حل میں تاخیر کرنی چاہیئے۔“
انوائرمنٹل اسکوپنگ اسٹڈی سے پتہ چلتا ہے کہ لیاری ہاربر کا وہ علاقہ،جو سیلابی پانی کے بہاؤکو روکنے کیلئے اسپل وے تھا،اب جمع شدہ ملبہ سے دب گیا ہے۔ہر ماہ 9ہزار ٹن ملبہ اس ندی میں داخل ہوتا ہے،جو تقریباً مکمل طورپر آلودہ ہے۔
ملک بھر میں تقریباً33ملین افراد سیلاب اور متوقع غذائی تحفظ کے مسائل سے متاثر ہوئے ہیں،اس بروقت رپورٹ میں کراچی جیسے گنجان آباد شہروں میں فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے،جو شہری سیلاب کے مستقل خطرے سے دوچار ہیں۔
اس وسیع البنیاد اتحاد سے مختلف سفارشات طلب کی گئی ہیں،خاص طور پر یہ عہد لیا گیا ہے کہ نہ صرف اس مسئلہ کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے،بلکہ طویل مدتی پچھلے اور اگلے روابط قائم کئے جائیں،تا کہ بندرگاہ کا علاقہ آنے والے سالوں میں دوبارہ پھل پھول سکے۔





































