اسلام آباد: (ویب ڈیسک) نیشنل انکیو بیشن سینٹر(این آئی سی) اور کوکا کولا نے 8مارچ کو اس روز کی تھیمEmbracing Equityپر توجہ مرکوز کرتے ہوئے خواتین کا عالمی دن منایا۔
اس تقریب میں پانی کی تقسیم و دستیابی کے مسئلے پر خاص زور دیا گیا کہ یہ پاکستان میں خواتین اور بچوں کو کس طرح سے متاثر کرتا ہے۔ یہ بات نوٹ کی گئی کہ پاکستان کی تقریباً 40 فیصد آبادی پینے کے صاف پانی تک رسائی سے محروم ہے۔گزشتہ برس کے سیلاب نے اس صورتحال کو مزید خراب کر دیا، اور آلودہ ہو کر پینے کے صاف پانی کی مزید قلت پیدا کر دی۔اس صورتحال سے دیہی خواتین خاص طور پر متاثر ہوئیں، جنہیں اپنے اہل خانہ کے لیے پینے کے صاف پانی کے حصول کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑا۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، کوکا کولا نے انڈس ارتھ ٹرسٹ اور بوند شمس کے ساتھ شراکت داری کی اور ٹھٹھہ کے علی محمد جوکھیو گاؤں میں شمسی توانائی سے چلنے والا واٹر فلٹریشن سسٹم نصب کیا، جو یومیہ 10,000 لیٹر صاف پانی پیدا کرتا ہے۔مزید برآں، خواتین کو پانی کے آسان حصول میں مدد کے لیے جدید واٹر وہیلز فراہم کیے گئے۔ علی محمد جھوکیو گاؤں کی خواتین صفیہ اور آسیہ نے اس تقریب میں شرکت کی اورسامعین سے بات چیت کرتے ہوئے
خواتین کے درمیان اہم تعلق اور پینے کے صاف پانی تک رسائی کے بارے میں اپنے نقطہ نظر اور تجربہ شیئر کیا۔
تقریب سے سینیٹر اور وزیر مملکت برائے پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے خو اتین، پانی، بجلی اور ترقی کے درمیان تعلقات کے حوالے سے کلیدی خطاب کیا۔
کوکا کولا کی عالمی پائیداری کی ترجیحات کے مطابق، کوکا کولا کمپنی کی ڈائریکٹر پبلک افیئرز، کمیونیکیشن، اور پائیداری عائشہ سروری نے صنف اور موسمیاتی کارروائی پر ایک پینل مباحثہ کی سربراہی کی۔اس پینل مباحثہ میں صحافی منیزے جہانگیر، ڈبلیو ڈبلیو ایف-پاکستان میں پالیسی اینڈ گورننس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران خالد اور پاکستان بزنس کونسل کے پروگرام منیجر راجہ بخاری کے نقطہ نظر کو پیش کیا گیا۔پینل مباحثہ
نے پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے میں صنفی مساوات اور صاف پانی اور صفائی ستھرائی کی اہمیت کو اجاگر کیا جن میں صنفی مساوات
(SDG 5) اور صاف پانی اور صفائی ستھرائی (SDG 6) کوکا کولا کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔
کوکا کولا کی ڈائریکٹر پبلک افیئرز، کمیونیکیشن، اور پائیداری عائشہ سروری نے کہا کہ ”پاکستان میں خواتین کو نظامی خرابیوں کا سامنا ہے اور ہم سب سے پہلے بنیادی باتوں کو ٹھیک کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ پینے کے صاف پانی تک رسائی ایک گیم چینجر ہے، اور خاص طور پر اس وقت جبکہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلی کی تباہ کاریوں کا سامنا ہو۔“
کوکا کولااپنے کاروبار اور جہاں وہ کام کرتی ہے،ان کمیونٹیز میں خواتین کے لیے مساوی مواقع پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔خواتین نے موسمیاتی تبدیلی کے غیر متناسب اثرات کو برداشت کیا، جیسا کہ پاکستان میں سیلاب سے ظاہر ہوتا ہے،اور اس نے انٹر نیشنل فنانس کارپوریشن(آئی ایف سی)،اور پاکستان بزنس کونسل(پی بی سی) کے Climate2Equal Call to Actionپر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پانی کے تحفظ سے متعلق مشاورت میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانے اور انہیں موسمیاتی توجہ مرکوز کرنے والی مداخلتوں میں اہم اسٹیک ہولڈر بنانے کا عہد کیا۔
اس تقریب میں، نیشنل انکیوبیشن سینٹر اور کوکا کولا بھی اسٹارٹ اپ WeCamp کے ساتھ شریک ہوئے، یہ پلیٹ فارم گھریلو کاروباری خواتین کی حمایت کے لیے وقف ہے۔WeCampنے ”افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت“پر ایک پینل مباحثہ کا انعقاد کیا۔
WeCampکی سی ای او لائبہ اقبال کی نظامت میں ہونے والے اس پینل مباحثہ میں معروف صحافی اور MM Editکی بانی ماریہ میمن،Milma Tripsکی سی ای او اقصیٰ خان اورگھریلو کاروباری خاتون فوزیہ عاصم شامل تھیں۔پینل مباحثہ میں شریک افراد نے
اپنے تجربات شیئر کئے اور کام کی جگہ پر خواتین کو درپیش چیلنجوں کے ساتھ ساتھ افرادی قوت میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے بہترین طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔
این آئی سی پاکستان کے پراجیکٹ ڈائریکٹر پرویز عباسی کا کہنا تھا کہ ”خواتین کے اس دن پر، ہم دنیا بھر کی خواتین کی ہمت اور عزم کو سراہتے ہیں، کیونکہ وہ مختلف چیلنجوں پر قابو پا رہی ہیں۔ این آئی سی کو فخر ہے کہ ہماری بانیوں میں سے 24فیصد خواتین ہیں۔ اس کا موازنہ سلیکون ویلی سے کیا جاتا ہے جہاں یہ تناسب بہت کم ہے، اور ابھی ہمیں بہت طویل سفر طے کرنا ہے!
کوکا کولا اور این آئی سی کے زیر اہتمام خواتین کے عالمی دن کے موقع پر تقریب کا انعقاد
