Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • لاہور: درباروں کے نذرانوں اور چندوں میں ’بڑے پیمانے پر گھپلے‘، متعدد سرکاری افسران اور اہلکاروں کو سزائیں
    • انڈوں کا زیادہ استعمال یادداشت کی کمزوری کے خطرے کو کم کر سکتا ہے: نئی تحقیق
    • یکم جولائی سے پاسپورٹ گھروں تک پہنچیں گے، ہوم ڈیلیوری سروس مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ
    • صارفین کے تحفظ کیلئے واٹس ایپ میں ایک بہترین فیچر کا اضافہ
    • ہمارے علاوہ کوئی جماعت گلگت کو حقوق نہیں دے سکتی، عوام کو ’جیالا وزیراعلیٰ‘ منتخب کرنا ہوگا، بلاول بھٹو
    • سکیورٹی خدشات کے باعث سندھ سیکرٹریٹ میں آم کی پیٹی لانے پر پابندی لگادی گئی
    • پاکستان جیت کے لئے پر عزم 157 رنز کا حدف
    • کیا مومنہ اقبال برائیڈل میک اپ کے دوران سگریٹ نوشی کر رہی تھیں؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی
    • سونے کی قیمت میں دوسرے روز بھی بڑی کمی
    • تیسرا ون ڈے ،معاذ صداقت بال پکڑنے کی کوشش میں زخمی
    • ناسا کا مریخ کے گرد گردش کرنے والا خلائی جہاز ناکارہ ہو گیا
    • گلگت بلتستان میں انتخابی مہم 5 جون کی رات 12 بجے ختم، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہ
    • بجٹ میں متعدد اشیاء پر رعایتی جی ایس ٹی ختم ہونے کا امکان ، قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
    • نور مقدم قتل: ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی کی درخواست مسترد، سزائے موت برقرار
    • نئے ہجری سال کا آغاز، متحدہ عرب امارات میں عام تعطیل کا اعلان
    • ڈیموکریٹس مجھے مزید فتوحات دلوانے کی بجائے ملک کو ہی ناکام کردیں گے: ٹرمپ
    • صدر ٹرمپ کو یت اور بحرین پر حملوں کے باوجود ایران سے مذاکرات کے لئے تیار
    • حزب اللہ ہتھیار ڈال دے تو اسرائیل لبنان میں سیز فائر ممکن
    • شر پسند عناصر کی وجہ سے سی پیک تقریب تاخیر کا شکار:خرم دستگیر
    • سٹریلین کپتان کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    سزا کالعدم قرار، نواز شریف العزیزیہ ریفرنس سے بری

    By Khabrain Newsدسمبر 12, 2023
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس دوبارہ احتساب عدالت کے لیے بھیجنے کی قومی احتساب بیورو (نیب) کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انہیں بری کردیا۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ سابق وزیراعظم کی العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں سزا کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنایا۔

    عدالت میں پیشی کے لیے قائد ن لیگ نے جاتی امراء سے اسلام آباد پہنچ کر منسٹرز انکلیو اسحاق ڈار کی رہائش گاہ میں تھوڑی دیر قیام کیا اور قانونی ٹیم سے مشاورت کی، اس کے بعد نواز شریف اپنی لیگل ٹیم کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوگئے۔

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ زیر کفالت کے ایک نکتے پر صرف بات کرنا چاہتا ہوں، اسٹار گواہ واجد ضیا نے اعتراف کیا تھا کہ زیر کفالت پر کوئی شواہد نہیں۔ امجد پرویز نے بے نامی مقدمات سے متعلق 13 عدالتی فیصلے پیش کردیے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے نواز شریف کے زیر کفالت سے متعلق کچھ ثابت کیا یا کوئی ثبوت دیا کہ اپیل کنندہ کے زیر کفالت کون تھے؟

    وکیل امجد پرویز نے کہا کہ بے نامی کی تعریف سے متعلق مختلف عدالتی فیصلے موجود ہیں، ہم نے ٹرائل کورٹ کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے تھے، ٹرائل کورٹ نے تین چیزوں پرانحصارکیا اور پانامہ کیس میں دائر سی ایم اے کو بنیاد بنایا، تینوں سی ایم اے حسن، حسین اور مریم نواز نے جمع کرائیں۔

    لیگی قائد کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی جانب سے ایک بھی سی ایم اے جمع نہیں کرائی گئی، ٹرائل کورٹ نے فیصلےمیں کہا یہ جمع کرائی گئی سی ایم ایز مجرمانہ مواد ہیں جب کہ ایک بھی سی ایم اے ثابت نہیں کرتی نواز شریف ان اثاثوں کے مالک ہیں۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ یہ جو سی ایم ایز دائر کی گئی تھیں ان میں کیا تھا؟ جواب میں امجد پرویز کا کہنا تھا کہ سی ایم ایزکو ریکارڈ پر رکھا ہی نہیں گیا بلکہ اس کے ساتھ منسلک دستاویز کو ریکارڈ پر رکھا گیا، البتہ ان سی ایم ایزمیں کہیں نہیں لکھا نواز شریف کی ملکیت تھی لکہ یہ لکھا گیا تھا کہ نوازشریف کا تعلق نہیں، خصوصی طور پر جب دونوں مقدمات کی نوعیت الگ الگ ہو۔

    نواز شریف کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ حسین نواز کے انٹرویو اور ان کی قومی اسمبلی میں تقریر پر انحصار کیا گیا جب کہ عدالتی فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں ملزم کو معصوم سمجھا جاتا ہے، فیصلے میں کہا گیا مقدمات میں استغاثہ کو الزام ثابت کرنا ہوتے ہیں، فیصلوں کے مطابق بار ثبوت استغاثہ پر ہوتا ہے، نہ کہ ملزم پر، ملزم کو اپنی معصومیت ثابت کرنے کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور یہی قانون اثاثوں کے مقدمات میں بھی لاگو ہوا ہے۔

    امجد پرویز نے مزید کہا کہ کوئی ایسا کیس نہیں جس میں منطقی ثبوت موجود ہوئے بغیرملزم کو سزا دی گئی، استغاثہ اس کیس میں ایک بھی ثبوت نہ لاسکا لہذا بار ثبوت ملزم پر منتقل نہیں ہو سکتا، یہی میرا سارا کیس ہے جوکہ بریت کیلئے بہترین کیس ہے۔

    نواز شریف کے وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب پراسیکیوٹر نے دلائل کا آغاز کردیا۔

    نیب پراسیکیوٹر کے دلائل

    عدالت نے نیب کے پراسیکوٹر سے استفسار کیا، کیا العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں آپ کے پاس ثبوت ہیں کہ اپیل کندہ یعنی نواز شریف نے سرمایہ کاری کی اور اس کے کوئی ثبوت ہیں؟

    جس کے جواب میں نیب کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ براہ راست تو ان کے پاس شواہد نہیں ہیں، لیکن مختلف مالیاتی اداروں نے تصدیق کی تھی کہ نواز شریف کے مختلف بینکوں میں اکاؤنٹس ہے۔

    نیب وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر احتساب عدالت میں ریفرنسز دائر کیے، نیب ریفرنسز میں تفتیش کیلئے سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنائی تھی، عدالتی فیصلے کے بعد نیب نے بےنامی اثاثوں کی تفتیش کی۔

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اس کیس میں فرد جرم احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے عائد کی تھی۔

    نیب وکیل نے نیب نے ریفرنس کی چارج شیٹ پڑھتے ہوئے کہا کہ نیب نے اپنی تفتیش کی، اثاثہ جات کیس میں تفتیش کے 3،2 طریقے ہی ہوتے ہیں، ہم نے جو شواہد اکٹھے کیے وہ ریکارڈ کا حصہ ہیں، اس میں 161 کے بیانات بھی ہیں۔

    نیب پراسیکیوٹر کا مزید کہنا تھا کہ ’فرد جرم عائد کرتے ہوئے عدالت نے ملزمان معلوم ذرائع لکھے، نواز شریف پر کرپشن اور کرپٹ پریکٹس کے الزام کے تحت فرد جرم عائد کی گئی، ایس ای سی پی، بنک اور ایف بی آر کے گواہ عدالت میں پیش ہوئے۔‘

    جس پر چیف جسٹس عامر فاروق کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس کیس میں العزیزیہ اور ہل میٹل کے الزامات ہیں، العزیزیہ میں پہلے بتائیں کتنے پیسے بھیجے کیسے بھیجے کب فیکٹری لگی؟

    عدالت کے اس سوال کے جواب میں نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ’یہ وائٹ کالر کرائم کا کیس ہے، پاکستان میں موجود شواہد اکٹھے کئے ہیں اور بیرون ملک شواہد کے حصول کے لیے ایم ایل اے لکھے گئے۔‘

    جس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آپ (نیب پراسیکیوٹر) یہ بتائیں وہ کون سے شواہد ہیں جن سے آپ ان کا تعلق کیس سے جوڑ رہے ہیں، جائیدادوں کی مالیت سے متعلق کوئی دستاویز تو ہوگا؟ آپ بتائیے العزیزیہ کب لگائی گئی اور اس کا نواز شریف کے ساتھ کیا تعلق ہے؟

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ثبوت میں دستاویز ان کی اپنی ہے۔

    چیف جسٹس نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس کے حوالے سے دستاویز ہے؟ آپ نے پچھلی سماعت پر کہا تھا کہ جج کے حوالے سے تعصب کا معاملہ موجود ہے۔

    نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ جج کی برطرفی کے بعد اس فیصلے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔

    چیف جسٹس نے اس پر کہا کہ ہم نے جج ارشد ملک سے متعلق درخواست پر گزشتہ سماعت پر کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا تھا۔

    اس پر نیب کی جانب سے یہ استدعا کی گئی کہ ’العزیزیہ ریفرنس کو ریمانڈ بیک کردیا جائے۔‘

    چیف جسٹس اور نواز شریف کے وکیل کے درمیان اس دوران مکالمہ ہوا جس میں چیف جسٹس نے کہا کہ ’یہ تو آپ نے کہا تھا کہ آپ اس درخواست پر مزید کارروائی نہیں چاہتے۔‘

    چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’نیب وکیل کی بات درست ہے کہ سپریم کورٹ کے ارشد ملک کیس کے فیصلے میں آبزرویشنز کافی مضبوط ہیں، وہ درخواست اگر نہ بھی ہوتی، تب بھی اگر وہ فیصلہ ہمارے سامنے آجاتا تو ہم اس کو ملحوظ خاطر رکھتے‘۔

    جس پر عدالت نے اس مقدمے کو دوبارہ احتساب عدالت میں بھیجنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اپیل کو میرٹ پر سن کر فیصلہ کریں گے۔

    نیب کے پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ حسین نواز کے پاس پیسے نہیں تھے اور نواز شریف نے کرپٹ پریکٹسز سے یہ پیسے حسین نواز کو بھیجے جس پر عدالت نے نیب پراسیکوٹر سے سوال کیا کہ کیا آپ کے پاس کرپٹ پریکٹسز کے شواہد موجود ہیں؟

    جس پر پراسیکوٹر کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر ہوا جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ محض مفروضوں کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی انھوں نے کہا کہ سورس ڈکومینٹس عدالتوں میں قابل قبول نہیں ہوتے۔

    گزشتہ سماعت میں کیا ہوا؟

    واضح رہے کہ گزشتہ سماعت پر نوازشریف کے وکیل امجد پرویز نے اپنے دلائل مکمل کیے تھے۔

    گزشتہ سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ کیس میں نوازشریف کی اپیل پر میرٹ پر سماعت کا فیصلہ کیا اور احتساب عدالت کو معاملہ واپس بھیجنے کی نیب کی استدعا مسترد کردی تھی۔

    Khabrain News

    Keep Reading

    لاہور: درباروں کے نذرانوں اور چندوں میں ’بڑے پیمانے پر گھپلے‘، متعدد سرکاری افسران اور اہلکاروں کو سزائیں

    یکم جولائی سے پاسپورٹ گھروں تک پہنچیں گے، ہوم ڈیلیوری سروس مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ

    ہمارے علاوہ کوئی جماعت گلگت کو حقوق نہیں دے سکتی، عوام کو ’جیالا وزیراعلیٰ‘ منتخب کرنا ہوگا، بلاول بھٹو

    تازہ ترین

    لاہور: درباروں کے نذرانوں اور چندوں میں ’بڑے پیمانے پر گھپلے‘، متعدد سرکاری افسران اور اہلکاروں کو سزائیں

    یکم جولائی سے پاسپورٹ گھروں تک پہنچیں گے، ہوم ڈیلیوری سروس مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ

    ہمارے علاوہ کوئی جماعت گلگت کو حقوق نہیں دے سکتی، عوام کو ’جیالا وزیراعلیٰ‘ منتخب کرنا ہوگا، بلاول بھٹو

    سکیورٹی خدشات کے باعث سندھ سیکرٹریٹ میں آم کی پیٹی لانے پر پابندی لگادی گئی

    کیا مومنہ اقبال برائیڈل میک اپ کے دوران سگریٹ نوشی کر رہی تھیں؟ سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی

    Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    • کالم
    • صحت
    • دلچسپ و عجیب
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • بزنس
    • شوبز
    • کھیل
    • انٹر نیشنل
    • پاکستان
    © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.