مقبوضہ بیت المقدس – مرکزاطلاعات فلسطین
غزہ میں فلسطینی مزاحمت کے قبضے میں موجود اسرائیلی قیدیوں کے اہل خانہ نے تل ابیب میں وزارت دفاع کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ احتجاج اس وقت کیا گیا جب صہیونی کابینہ نے غزہ شہر پر قبضے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد اہل خانہ نے ایک مکمل اقتصادی ہڑتال کی اپیل بھی کی۔
یہ مظاہرہ تل ابیب اور دیگر قابض اسرائیل کے شہروں میں جاری احتجاجی لہر کے ساتھ منسلک تھا، جہاں لوگ جنگ کے خاتمے اور حماس کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے مطالبے کر رہے ہیں۔
قیدیوں کے اہل خانہ کی نمائندہ اور ایک اسرائیلی قیدی کی والدہ نے قابض وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے غزہ کے حصوں پر قبضہ کیا اور یرغمالیوں کو قتل کیا تو ہم تمہارا پیچھا ہر چوک، ہر انتخابی مہم اور ہر جگہ کریں گے۔ ہم دن رات اسرائیلی عوام کو یاد دلائیں گے کہ تم قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کر سکتے تھے مگر تم نے انہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ تمہارے ہاتھ ان کے خون سے رنگے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جمعرات کے روز کابینہ نے قیدیوں کے مقدر کا فیصلہ کر دیا ہے، زندہ قیدی مار دیے جائیں گے اور مقتولین کی لاشیں ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گی۔ جو باتیں اس اجلاس سے باہر آئیں وہ ثابت کرتی ہیں کہ یہ کوئی سیاسی سکیورٹی کابینہ نہیں بلکہ "ڈیتھ اسکواڈ” ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس راستے کو عوامی حمایت حاصل نہیں اور زیادہ تر عوام جنگ کے خاتمے اور سب کو گھروں کو واپس لانے کے خواہاں ہیں۔ نیتن یاھو کو چاہیے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک سنجیدہ اور قابل عمل معاہدہ پیش کرے مگر اس نے ان کے قتل کا انتخاب کیا اور ہم پر ایک نہ ختم ہونے والی جنگ مسلط کر دی۔
اہل خانہ کی نمائندہ نے کہا کہ قابض اسرائیل کو قیدیوں کے قتل کا سلسلہ بند کرنا چاہیے۔ ریاست حکومت نہیں بلکہ عوام ہوتی ہے، اس لیے سب کو یرغمالیوں، فوجیوں اور ریاست کو بچانے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے صہیونی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جب چیف آف اسٹاف خود کہتا ہے کہ فوجیوں کو موت کے جال میں بھیجا جا رہا ہے تو زندگی نہ قیدیوں کے لیے اور نہ فوجیوں کے لیے معمول کے مطابق جاری رہ سکتی ہے۔ ہمارے ساتھ سڑکوں پر نکلو اور ریاست و معیشت کو روک دو۔
اہل خانہ نے اعلان کیا ہے کہ کل اتوار دوپہر ایک پریس کانفرنس کی جائے گی جس میں اقتصادی ہڑتال کے باضابطہ آغاز کا اعلان ہوگا۔ اس میں نجی کمپنیاں، ادارے، نقابات اور عام لوگ شریک ہوں گے۔ اس موقع پر نئے مشترکہ احتجاجی اقدامات بھی پیش کیے جائیں گے جن کا نعرہ ہوگا "خاموشی قتل ہے – ریاست کو روک دو تاکہ یرغمالیوں اور فوجیوں کو بچایا جا سکے”۔
واضح رہے کہ جمعہ کی صبح کابینہ نے ایک طویل اجلاس کے بعد غزہ پر قبضے کا منصوبہ منظور کیا، جس کی مخالفت چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے کی اور اجلاس کے دوران سنگین انتباہات دیے۔
اجلاس کے بعد نیتن یاھو کے دفتر نے بیان جاری کیا کہ کابینہ نے وزیراعظم کی تجویز منظور کر لی ہے تاکہ حماس کو زیر کیا جا سکے۔ فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غزہ شہر پر قبضے کی تیاری کرے اور جنگی علاقوں سے باہر شہریوں کو انسانی امداد فراہم کرے۔
اس منصوبے کے تحت قابض اسرائیل غزہ کی سکیورٹی کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے گا اور ایک ایسی متبادل سول انتظامیہ قائم کرے گا جو نہ حماس سے وابستہ ہو گی نہ فلسطینی اتھارٹی سے۔
منصوبے کا پہلا مرحلہ غزہ شہر پر قبضے کا ہے جس میں تقریباً دس لاکھ شہریوں کو جنوب کی طرف جبری طور پر بے دخل کیا جائے گا، پھر شہر کو گھیر کر رہائشی علاقوں میں گھسائو کی کارروائیاں ہوں گی۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ وسطی غزہ کے مہاجر کیمپوں پر قبضے کا ہے جن کے بڑے حصے کو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کی 87 فیصد زمین پہلے ہی قابض اسرائیل کے قبضے یا جبری انخلا کے احکامات کے تحت ہے اور ادارے نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی عسکری توسیع کے نتائج "انتہائی تباہ کن” ہوں گے۔

