Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • بشریٰ انصاری کی حمایت نہ کرنے کا معاملہ زارا نور عباس کا مؤقف سامنے آگیا
    • مارچ کی تیاری مکمل، عمران خان کی رہائی سمیت 3 مطالبات ہیں: پی ٹی آئی
    • سونے کی قیمت میں پھر اضافہ 10 گرام سونا 3 لاکھ 80 ہزار کے قریب
    • رونالڈو کے حق میں پیئرز مورگن بول پڑے، ہیری کے انکل کو خبردار کردیا
    • پی ایس ایکس میں زبردست سیل آف، 1332 پوائنٹس کی کمی
    • نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا نام تبدیل کر کے سائبر پولیس رکھنے کی تجویز
    • لاہور ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کی بھرتی کے نتائج کا اعلان
    • راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ 30 ارب اضافی خرچ ہونے کے باوجود مکمل نہ ہوسکا
    • وزیراعلیٰ پنجاب کے دھی رانی پروگرام ، چکوال میں اجتماعی شادیوں کی تقریب
    • زکریا ضیا نے آئی سی سی آئی کے صدر کا عہدہ سنبھال لیا
    • چکوال شہری میں بیوٹیفکیشن پلان کے تحت راستوں کی بندش سے تاجر، شہری پریشان
    • CDA چیئرمین کا ڈپلومیٹک انکلیو کا دورہ، ترقیاتی کاموں کی پیش رفت کا جائزہ
    • علیمہ خانم کے خلاف تھانہ صادق آباد میں درج مقدمے کا فیصلہ ایک بار پھر موخر
    • اسلام آباد پولیس کے اہلکار نفیس اقبال کو ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی دیدی گئی
    • وزارت مذہبی امور نے لیبر کوٹہ کی درخواستوں کیلئے حج پورٹل فعال کر دیا
    • ہم پر تنقید کریں یا تعریف، میڈیا آزاد ہے: چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ
    • میونسپل کارپوریشن کی غفلت، راولپنڈی ایک بار پھر "تجاوزات سٹی” بن گیا
    • 3 گینگز کے 5 ملزمان گرفتار، 6 مسروقہ موٹر سائیکل و رقم اور اسلحہ برآمد
    • جوبلی لائف انشورنس اور یونی کرو سولیوشنز کی شراکت داری
    • اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سیدہ زینب حسین سے صحافیوں کے وفد کی ملاقات
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    نئی ٹیرف پالیسی تجارتی خسارے میں اضافے اور صنعتکاری میں رکاوٹ بن سکتی ہے: پی آر اے سی کا انتباہ

    By Khabrain Newsستمبر 10, 2025
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈوائزری کونسل (PRAC) کے چیئرمین محمد یونس ڈاگھا نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی نئی نیشنل ٹیرف پالیسی 2025–2030 بیرونی شعبے کو غیر مستحکم کر سکتی ہے اور ملک میں صنعتوں کے قبل از وقت زوال کا باعث بن سکتی ہے۔ 

    جولائی اور اگست 2025 کے دوران تجارتی خسارہ 29 فیصد بڑھ کر 6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ صرف اگست میں برآمدات میں 12.5 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

    کونسل کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی آزاد تجارت کے ایسے نظریے پر مبنی ہے جو اب دنیا کے بدلتے معاشی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ آج عالمی تجارت حکمتِ عملی پر چل رہی ہے، جہاں ترقی یافتہ ممالک اپنی صنعتوں کو بچانے اور ان کی برتری بڑھانے کے لیے ٹیرف، سبسڈیز اور حفاظتی اقدامات استعمال کرتے ہیں۔

    نئی ٹیرف پالیسی کے مطابق پاکستان اوسط شرح ٹیرف کو 10.4 فیصد سے کم کرکے 2030 تک 6 فیصد سے نیچے لے آئے گا، جبکہ ٹیرف سلیب کو 5 سے کم کرکے 4 کر دیا جائے گا۔ زیادہ سے زیادہ شرح ٹیرف 20 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد کر دی جائے گی۔

    دوسری جانب بھارت اور بنگلا دیش جیسے ممالک اضافی ڈیوٹیز برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن پاکستان نے انہیں پانچ برسوں میں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ہماری مقامی مارکیٹ غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔

    محمد یونس ڈاگھا نے کہا کہ "آزاد تجارت اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ملک میں مضبوط صنعتی انفراسٹرکچر اور عالمی سطح پر سازگار حالات ہوں۔ پاکستان کے پاس 25 کروڑ افراد کی بڑی مارکیٹ ہے جو سرمایہ کاروں اور تجارتی شراکت داروں کے لیے پرکشش ہے، لیکن اس کے لیے ہمیں باہمی رعایتی معاہدے (ایف ٹی اے/پی ٹی اے) کرنے ہوں گے۔

    انہوں نے کہا کہ اگر ہم یکطرفہ طور پر ٹیرف ختم کر دیں تو اپنا مؤثر مؤقف کھو بیٹھیں گے اور دوسرے ممالک کے پاس اپنی مارکیٹ کی رسائی فراہم کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔”

    کونسل نے نشاندہی کی ہے کہ ماضی میں بھی بڑے پیمانے پر ٹیرف میں کمی کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا بلکہ تجارتی خسارہ بڑھ گیا۔ 1996 سے 2005 کے دوران ٹیرف 46.6 فیصد سے کم ہو کر 14.3 فیصد تک آیا، لیکن برآمدات جمود کا شکار رہیں اور تجارتی خسارہ 3.1 ارب ڈالر سے بڑھ کر 12.1 ارب ڈالر تک جا پہنچا، جبکہ 2021–22 میں یہ خسارہ 48.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

    پچھلے 30 برسوں میں پاکستان کی برآمدات صرف 3.7 گنا بڑھ سکیں، جبکہ بھارت کی برآمدات 14.3 گنا اور بنگلہ دیش کی 12.6 گنا بڑھیں۔ اسی دوران پاکستان کی درآمدات 80 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں، مگر صنعتی ترقی کی رفتار خطے کے دوسرے ممالک سے کافی پیچھے رہی۔

    کونسل نے تجویز پیش کی ہے کہ 2025–2030 کی ٹیرف پالیسی پر نظرِ ثانی کی جائے۔

    پی آر اے سی نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو نئی پالیسی حالیہ معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہے، صنعتوں کو مزید کمزور کر سکتی ہے اور طویل المدتی ترقی کو محدود کر دے گی۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      چین کی بڑی خلائی کامیابی، زمین پر راکٹ کی پہلی کامیاب واپسی

      سام سنگ دنیا کی سب سے زیادہ منافع بخش کمپنی بننے کے قریب

      پاؤنڈ کی قدر میں کمی، 365 روپے تک گر گیا، یورو 380 روپے پر مستحکم

      تازہ ترین

      بشریٰ انصاری کی حمایت نہ کرنے کا معاملہ زارا نور عباس کا مؤقف سامنے آگیا

      مارچ کی تیاری مکمل، عمران خان کی رہائی سمیت 3 مطالبات ہیں: پی ٹی آئی

      سونے کی قیمت میں پھر اضافہ 10 گرام سونا 3 لاکھ 80 ہزار کے قریب

      رونالڈو کے حق میں پیئرز مورگن بول پڑے، ہیری کے انکل کو خبردار کردیا

      پی ایس ایکس میں زبردست سیل آف، 1332 پوائنٹس کی کمی

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.