رپورٹر کی ڈائری
مہران اجمل خان
پنجاب اس وقت پولیو کے خلاف ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ 2025 کی پانچویں اور آخری قومی انسداد پولیو مہم 15 دسمبر سے شروع ہو رہی ہے جس کا مقصد صوبے بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 17 ملین سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔ یہ ایک وسیع، حساس اور اہم مہم ہے جس میں 2 لاکھ سے زیادہ پولیو ورکرز، سپروائزرز، ایریا انچارجز اور ٹرانزٹ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ ان کی کوششیں نہ صرف ایک مہم، بلکہ ایک ایسی جنگ کی مانند ہیں جس کا مقصد پاکستان کی آئندہ نسلوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ رکھنا ہے۔
پنجاب ایمرجنسی آپریشن سینٹر (EOC) کے مطابق اگرچہ 2025 کے دوران پنجاب میں صرف ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا لیکن وائرس کی ماحولیاتی نگرانی ایک مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ وائرس کی مثبتیت جون میں 43 فیصد تھی جو اگست تک کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی لیکن یہ شرح 2023 کی صرف 2 فیصد مثبتیت کے مقابلے میں اب بھی تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ 2025 میں سامنے آنے والے مثبت نمونوں میں سے 78.72 فیصد جینیاتی طور پر صوبے کے اندرونی ذرائع سے جڑے ہوئے تھے، یعنی وائرس کا پھیلاؤ بیرونی درآمد کے بجائے اب اندرونی سطح پر زیادہ ہو رہا ہے، جس کے مرکز میں لاہور نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔ پنجاب کے 16 اضلاع اس وقت بھی وائرس کے خطرے سے دوچار ہیں، جن میں لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور جنوبی پنجاب کے اہم شہر شامل ہیں۔
یہ صورتحال صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ آنے والے وقت کا ایک سخت انتباہ ہے کہ وائرس اب نئی قوت کے ساتھ گردش کر رہا ہے اور اس کے خلاف زیادہ سخت اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔ میں نے بطور ہیلتھ رپورٹر شہر لاہور میں فیلڈ کا دورہ کیا تاکہ اس مہم کے عملی پہلو، والدین کے رویّے، علما کا کردار اور ورکرز کے چیلنجز کو براہ راست دیکھا جا سکے۔
فیلڈ میں کیے گئے سروے میں 71 والدین سے بات کی گئی جن میں سے 64 والدین نے پولیو ٹیموں کو خوش آمدید کہنے اور بچوں کو ویکسین پلوانے میں مکمل تعاون کا اظہار کیا۔ پانچ والدین نے کچھ ہچکچاہٹ کا اظہار کیا جبکہ دو نے غلط معلومات یا عدم موجودگی کی وجہ سے انکار کیا۔ زیادہ تر والدین نے بتایا کہ اب انہیں پولیو کے قطرے محفوظ محسوس ہوتے ہیں کیونکہ انہیں بار بار مہم کا مقصد سمجھایا گیا ہے۔ ایک والد نے کہا، “میرے بچے کی صحت میری ذمہ داری ہے، اگر بار بار قطرے پلانے سے یہ بیماری رکتی ہے تو یہ ہمارے لیے بہتر ہے۔” ایک خاتون نے بتایا کہ پہلے وہ سنی سنائی باتوں سے خوفزدہ تھیں مگر اب انہیں اعتماد ہے کہ پولیو ویکسین ان کے بچوں کے لیے محفوظ اور ضروری ہے۔
پولیو ورکرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج غلط معلومات اور سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی افواہیں ہیں، جن کی وجہ سے چند گھرانے اب بھی ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ ایک سپروائزر نے بتایا کہ جب والدین کو صحیح معلومات دی جائیں تو ان کا خوف دور ہو جاتا ہے، لیکن بعض اوقات غلط پروپیگنڈے کی وجہ سے ٹیموں کو مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود ورکرز اپنی ذمہ داری پوری محنت اور حوصلے کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔
پولیو کے خاتمے کے لیے علما کرام کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ علما کا کہنا ہے کہ “اسلام میں انسانی جان کا تحفظ بنیادی حکم ہے۔ اگر ویکسین بچوں کو معذوری سے بچاتی ہے تو اس کا استعمال ایک دینی فریضہ ہے۔” انہوں نے والدین پر زور دیا کہ پولیو ورکرز کی حوصلہ افزائی کریں اور بچوں کو لازمی قطرے پلائیں کیونکہ یہ نہ صرف ان کے اپنے گھر بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔
پنجاب حکومت نے پولیو کے خطرے کو روکنے کے لیے ٹرانزٹ پوائنٹس پر خصوصی اقدامات کیے ہیں جہاں صوبے میں داخل ہونے والی ہائی رسک موبائل آبادی کو قطرے پلائے جاتے ہیں۔ راوی پل، موٹروے انٹرچینجز، ریلوے اسٹیشنوں اور بس ٹرمینلز پر قائم ان مراکز پر روزانہ ہزاروں بچوں کو ویکسین دی جاتی ہے۔ ایک ٹرانزٹ ورکر نے بتایا، “لوگ جلدی میں ہوتے ہیں مگر پھر بھی زیادہ تر والدین رک کر بچوں کو قطرے پلواتے ہیں۔”
مواصلاتی حکمت عملی میں بھی اب زیادہ سائنسی اور شواہد پر مبنی طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ پنجاب ای او سی نے ڈیجیٹل میڈیا، کمیونٹی انگیجمنٹ، علما سے رابطہ، والدین کی رہنمائی اور موبائل آبادیوں کی پروفائلنگ پر خصوصی توجہ دی ہے تاکہ کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔ پنجاب میں روٹین امیونائزیشن اور پولیو مہمات کی کوریج بھی مضبوط ہے جس کی وجہ سے شدید پولیو کیسز کی تعداد کم رہی ہے، لیکن وائرس کی مسلسل گردش اس بات کی یاددہانی ہے کہ ایک بھی بچہ پیچھے رہ گیا تو یہ بیماری دوبارہ زور پکڑ سکتی ہے۔
اس فیلڈ تحقیق کے دوران ایک بات واضح ہوئی کہ پولیو کے خلاف یہ جدوجہد صرف حکومتی مہم نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ والدین کا اعتماد بڑھ رہا ہے، علما مثبت پیغام دے رہے ہیں، پولیو ورکرز دن رات محنت کر رہے ہیں اور حکومت بہتر نگرانی اور حکمت عملی کے ذریعے وائرس کی رفتار روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لیکن وائرس کی بدلتی ہوئی شکل اور اندرونی ٹرانسمیشن کے بڑھتے رجحان کو دیکھتے ہوئے ہمیں کہیں زیادہ احتیاط، یکجہتی اور ذمہ داری کی ضرورت ہے۔
پاکستان نے 2026 کو پولیو کے خاتمے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں بشرطیکہ ہم سب اپنا کردار ادا کریں۔ جب پولیو ٹیم آپ کے دروازے پر آئے تو دروازہ اس نیت سے کھولیں کہ آپ اپنے بچے کی صحت کے محافظ ہیں۔ کیونکہ پولیو کے قطرے صرف ویکسین نہیں، آنے والی نسلوں کی ضمانت ہیں۔ اگر ہم نے آج یہ جنگ جیت لی تو کل پاکستان ایک ایسے مستقبل کی طرف بڑھے گا جہاں پولیو، صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گا۔




































