سمندر کے بیچوں بیچ ایک خاموش جزیرہ، جسے دنیا ’پیڈوفائل آئی لینڈ‘ یا عیاشی کا جزیرہ کہتی آئی ہے۔ ایک اسپیثل چارٹرڈ پلین جس کا نام ’لولیتا ایکسپریس‘ رکھا گیا اور جس کے مسافر دنیا کے طاقتور ترین سیاستدان، ارب پتی بزنس مین اور ہالی ووڈ کے ستارے تھے۔
اس جزیرے کے بند کمروں میں معصومیت کا سودا ہوتا تھا، جہاں غریب گھرانوں کی 14 سے 17 سال کی لڑکیوں کو ایک سوچے سمجھے نیٹ ورک کے ذریعے اسمگل کیا جاتا۔ یہاں ہوس کا کھیل کھیلا جاتا، طاقت کی نمائش ہوتی اور قانون کی دھجیاں اڑائی جاتیں۔ یہ وہ مکروہ دھندہ تھا جس نے برسوں تک دنیا کی سب سے بااثر اشرافیہ کو اپنے جال میں جکڑے رکھا، اور اس پورے کالے نیٹ ورک کا ماسٹر مائنڈ تھا جیفری ایپسٹین۔
ایپسٹین کی کہانی کسی فلمی ولن سے کم نہیں، جس نے ایک عام اسکول ٹیچر سے دنیا کے بااثر ترین شخص بننے تک کا سفر بڑی تیزی سے طے کیا۔ نیویارک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہونے والے ایپسٹین نے اپنی عملی زندگی کا آغاز ریاضی کے استاد کے طور پر کیا، لیکن اس کی منزل ایوانِ اقتدار تھے۔ بغیر کسی ڈگری کے وال اسٹریٹ کی بلندیوں کو چھونا اور پھر عالمی سیاستدانوں کا یار بن جانا، آج بھی ایک معمہ ہے۔
اس کی اس پراسرار زندگی میں سب سے اہم کردار اس کی ساتھی غسلین میکسویل کا تھا، جو برطانوی میڈیا ٹائیکون اور مبینہ اسرائیلی ایجنٹ رابرٹ میکسویل کی بیٹی تھی۔ رابرٹ میکسویل کی موت کے بعد، غسلین نے ایپسٹین کے لیے وہ تمام دروازے کھول دیے جو صرف عالمی اشرافیہ کے لیے کھلے ہوتے تھے، اور یوں ہوس اور بلیک میلنگ کا ایک ایسا جال بچھا جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
جیفری ایپسٹین کے تعلقات ہالی ووڈ اسٹارز سے لے کر سابق امریکی صدور بل کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ، مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے بڑے سائنسدان تک پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن اس چمکتی دمکتی دنیا کے پیچھے حقیقت یہ تھی کہ ایپسٹین ایک خطرناک جنسی درندہ تھا، جس کی ہوس کا یہ عالم تھا کہ وہ چند گھنٹے کے فضائی سفر کے دوران بھی خود پر قابو نہیں رکھ پاتا تھا۔
ایپسٹین کا قانون سے بچنے کا فن بھی کمال تھا۔ 2008 میں جب اس کے خلاف ٹھوس ثبوت ملے، تو اس نے اپنے طاقتور وکلا اور تعلقات کے ذریعے عمر قید کی سزا کو محض 13 ماہ کی معمولی قید میں بدلوا لیا۔ لیکن 2019 میں جب وہ دوبارہ گرفتار ہوا، تو ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہی وہ جیل میں مردہ پایا گیا۔ سرکاری طور پر اسے خودکشی قرار دیا گیا، مگر دنیا آج بھی مانتی ہے کہ اسے قتل کیا گیا تاکہ وہ طاقتور لوگوں کے نام نہ اگل سکے۔
ایپسٹین کی موت کے بعد متاثرہ لڑکیوں کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں وہ دستاویزات منظرِ عام پر آئیں جنہیں آج ہم ’ایپسٹین فائلز‘ کہتے ہیں۔ ان فائلوں میں برطانوی شہزادے اینڈریو پر براہِ راست سنگین الزامات لگے، جبکہ سابق صدور کے علاوہ مشہور بھارتی فلم ساز میرا نائر یعنی نیویارک کے موجودہ مئیر ظہران ممدانی کی والدہ، مائیکل جیکسن اور جادوگر ڈیوڈ کاپرفیلڈ جیسے ناموں کا تذکرہ بھی ملا۔
تحقیقات کے دوران ایک سنسنی خیز انکشاف ’’Baal‘‘ نامی بینک اکاؤنٹ کے بارے میں بھی ہوا، جس کا نام ایک ایسے قدیم شیطانی دیوتا سے منسوب ہے جس کے نام پر بچوں کی مبینہ قربانی دی جاتی تھی۔ اگرچہ اس کا باقاعدہ ثبوت نہیں ملا، لیکن ایپسٹین کے جزیرے پر بنے عجیب و غریب معبد اور پیچیدہ مالیاتی نظام نے ان شکوک کو جنم دیا کہ یہ نیٹ ورک شاید کسی شیطانی گروہ کا حصہ تھا۔
ایپسٹین فائلوں میں شامل 150 سے زائد ناموں میں سے ہر نام مجرم نہیں، لیکن قانونی ماہرین کے مطابق یہ دستاویزات اس بات کا ٹھوس ثبوت ہیں کہ کس طرح ’نان ڈسکلوژر ایگریمنٹس‘ یا (NDAs) اور لاکھوں ڈالرز کی خاموش ادائیگیوں کے ذریعے سچ کو دبایا جاتا رہا۔
دنیا اب جان چکی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ریکارڈز کسی طور مٹائے نہیں جا سکتے۔ اب سوال یہ نہیں کہ ’کون بچے گا‘، بلکہ سوال یہ ہے کہ ’کب تک بچے گا؟‘ کیونکہ ایپسٹین فائلز کا کھلنا اس بھیانک سچائی کی صرف شروعات ہے۔




































