تازہ تر ین

سب سے پہلے بنگلہ دیش، نومنتخب طارق رحمان کا اسلام آباد اور دہلی کو پیغام

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں بنگلہ دیشی، پاکستانی اور بھارتی صحافی بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات کررہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ 1971 میں بنگلہ دیش ہم سے دور ہوا جس میں پاکستانی غلط پالیسیوں کے ساتھ بھارت نے بھی کردار ادا کیا اب 2024 میں بھارت اپنی غلطیوں سے بنگلہ دیش سے دور ہو گیا ہے اور پاکستان کے راستے ہموار ہو گئے ہیں ، کیا یہ سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔

ایک بنگلہ دیشی نوجوان کی یہ بات حیرت انگیز تھی “ہم پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ یکساں اور بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں ، آپ دونوں نے ہم سے ایک ہی طرح کا سلوک کیا ، ایک 1971 کا ذمہ دار ہے تو دوسرا 2024 میں قتل و غارت گری کا ، ہمیں دونوں زخم لگے ہیں مگر ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔”

عوامی لیگ کی سربراہ شیخ حسینہ کے 5 اگست 2024 کو بھارت چلے جانے سے عام عوام میں بھارت مخالف جذبات ہیں مگر یہ جذبات بھارتی حکومت مخالف ہیں عوام مخالف نہیں ۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان 4096 کلومیٹر لمبی زمینی سرحد ہے اور پدما ، بھراما پترا ، ٹیسٹا سمیت 54 چھوٹے بڑے دریا دونوں ملکوں کو جوڑتے ہیں۔ دونوں ملکوں کی تجارت 14 سے 16 ارب ڈالرز تک کی ہے۔ دونوں کے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

بھارت کو شیخ حسینہ کی عوامی لیگ میں سارے انڈے رکھنے کی پالیسی مہنگی پڑی ہے مگر وہ وآپسی کے راستے بنا رہا ہے۔ بھارت کو احساس ہوگیا ہے کہ اس کی پالیسی ٹھیک نہیں تھی یا کم ازکم بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی بنگلہ دیش کی نئی حقیقت ہے اسے عوام نے مینڈیٹ دیا ہے۔

دوسری طرف وزیراعظم الیکٹ طارق رحمان سے جب اس نمائندے نے پوچھا کہ ڈھاکہ میں لوگ شیخ حسینہ کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کرتے ہیں تو کیا آپ بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ کریں گے۔ اس پر انہوں نے بہت محتاط انداز میں مختصر جواب دیا کہ “ یہ عدالتی عمل پر منحصر ہے”۔

طارق رحمان بہت منجھے ہوئے اور محتاط سیاستدان کے طور پر جواب دے رہے تھے۔ وہ کسی کو ناراض نہیں کرنا چاہتے اور نہ ہی پاپولسٹ طریقہ کار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے عوامی لیگ اور شیخ حسینہ کے بارے میں ایک بھی تنقیدی لفظ نہیں بولا جو ان کے بڑے پن کی علامت کے طور پر واضع ہوا ہے۔

اس سارے عمل میں اچھی بات یہ ہے کہ پاکستان کے لیے دروازے کھلے ہیں ڈھاکہ میں پاکستانیوں کو لوگ دیکھ کر خوشی کا اظہارکرتے ہیں۔

مجھے ڈھاکہ میں ایک پاکستانی ائیر فورس کی 1958 میں راولپنڈی میں پیدا ہونے والی بیٹی افروزہ بیگم ملیں۔ وہ اپنی دو بہنوں اور ایک بھائی کے ساتھ ایک ریستوران میں کھانا کھانے آئیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح بنگلہ دیش کے مطیع الرحمان کی طرف سے پاکستانی طیارہ ہائی جیک کرنے کی کوشش کے بعد ان سب کو پکڑا گیا تاہم اس تلخ یاد کے ساتھ اس کے پاس حسین یادیں بھی تھیں۔ اسے کراچی اور پشاور کے کھانے اور جگہیں یاد تھیں۔

“ ہم 1974 میں پاکستان سے آئے مگر دل آج بھی ادھر ہی ہے، اسی لیے ڈھاکہ میں پشاوری کچن ریستوران کا نام سنا تو یہاں کھانا کھاکر یادیں تازہ کرنے آگئے ۔” بنگلہ دیش میں مشکل وقت میں پاکستانی ہائی کمشنر عمران صدیقی کی طرف سے کیے گئے کام دکھتے ہیں۔

پاکستان کے موجودہ ہائی کمشنر عمران حیدر اور ان کی ٹیم بھی محنت کررہی ہے تاکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کی قربتوں میں اضافہ ہو۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی مجموعی تجارت 865 ملین ڈالرز ہے، پاکستانی سفارتکار سماجی تعلقات کے ساتھ ساتھ اس طرف بھی توجہ دے رہے ہیں ۔

پاکستان میں پالیسی ساز بنگلہ دیش کو بھارت کے لینز سے دیکھنے کی بجائے ایک ایسے بھائی کے طور پر دیکھیں جو آزاد و خودمختار ہے جس کا اپنا کنبہ اور اپنے تعلقات ہیں۔ بھارتی پالیسی سازوں کو بھی بنگلہ دیش کو پاکستانی لینز سے دیکھنے کی بجائے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے جس نے سارک شروع کی اور وہ اسے دوبارہ منظم کرنا چاہتا ہے۔

“ ہم حکومت کی تشکیل کے بعد سارک کو دوبارہ منظم کرنے پر کام کریں گے کیونکہ یہ ہمارا (بنگلہ دیش کا ) اقدام تھا ۔” طارق رحمان نے پریس کانفرنس میں اس نمائندے کے سوال کے جواب میں کہا ۔

بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے سربراہ طارق رحمان کی پہلی ترجیح بنگلہ دیش اور اسکے مفادات ہیں ۔ وہ پاکستان اور بھارت کے موضوعات کی بجائے “ سب سے پہلے بنگلہ دیش” پر توجہ دے رہے ہیں ۔

ان کی اس سوچ میں نفرت نظر نہیں آرہی حالانکہ انکی والد کو قتل کیا گیا اور والدہ طویل جلاوطنی کے بعد وطن وآپس آئیں تو علالت میں وفات پاگئیں وہ خود بھی جلاوطنی کا شکار رہے۔ اتنے مصائب کے بعد بھی مخالفین کے بارے میں ایک لفظ تک نہ بولنا عملی طور پر بڑے دل کی بات ہے۔

داخلی سیاست میں وہ اپنے مخالف جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان کے گھر کھانے پر جارہے ہیں اور شیخ حسینہ واجد کو اقتدار سے نکالنے کی تحریک چلانے والے نوجوانوں کی نمائندہ جماعت نیشنل سیٹزن پارٹی کے نومنتخب رکن پارلیمینٹ اور سرکردہ رہنما ناشاد اسلام سے بھی ملاقات کر رہے ہیں کیونکہ شائد انہیں معلوم ہے کہ کسی ملک کی تعمیرنو کے لیے مخالفین کو عزت دینا پڑتی ہے۔

یہ وہ سبق ہے جو جنوبی ایشیائی ممالک کی تمام سیاسی جماعتوں کو ان سے سیکھنا ہوگا۔ امید ہے کہ وہ سارک کو دوبارہ متحرک کرکے بنگلہ دیش کو پاک بھارت تقسیم کی بجائے محبت کا مرکز بناتے ہوئے باہمی علاقائی مفادات کو یکجا کریں گے تاکہ خطے میں امن کے ساتھ ترقی آسکے ۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain