دنیا بھر میں لوگ اسمارٹ فونز استعمال کرتے ہیں اور اکثر اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ ڈیوائس ہر طرح کے جراثیموں اور گرد کا ہدف بن جاتی ہے۔
گرد ڈیوائس کی پورٹس میں اکٹھی ہو جاتی ہے جبکہ جراثیم اسکرین پر گھومتے رہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ فونز کی صفائی کو معمول بنانا ضروری ہوتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ صفائی کا عمل ڈیوائس کے پرزوں کے لیے محفوظ ہو۔
اینڈرائیڈ فونز کے ساتھ اکثر کیس بھی استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کی صفائی کا عمل کا انحصار اس پر ہوتا ہے کہ آپ کیسا کیس استعمال کر رہے ہیں۔
آپ کو اس کے لیے مائیرکو فائبر کلاتھ یا کپڑوں اور صفائی کے سلوشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
پلاسٹک کیس پر آپ صابن اور گرم پانی یا ایمونیا فری کلینر اسپرے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔
تو فون کی اسکرین کیسے صاف کریں؟
جب کیس صاف ہو جائے تو پھر آپ کو اسکرین کی صفائی کرنی چاہیے۔
مختلف کمپنیوں کی جانب سے نرم اور دھاگوں سے پاک کپڑے اسکرین کی صفائی کے لیے استعمال کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
مائیکرو فائبر کلاتھ اس کے لیے بہترین قرار دیا جاتا ہے جو اسکرین سے گرد اور دیگر کچرے کو نکال دیتا ہے۔
آپ کو اسکرین پروٹیکٹر کے حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور صفائی کے لیے اسے ہٹانے سے گریز کرنا چاہیے۔
کسی کلینر سلوشن سے معمول نم کپڑے سے اسکرین پر موجود نشانات کو صاف کیا جاسکتا ہے۔
ڈسپلے کے لیے اکثر اسکرین وائپس یا آئی گلاسز کلینر کے استعمال کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
جراثیموں کے خاتمے کے لیے الکحل پر مبنی وائپس استعمال کیے جاسکتے ہیں مگر اس کے لیے کمپنیوں کی ہدایات کو پہلے جاننا ضروری ہے۔
کبھی بھی اسکرین پر اسپرے یا سلوشن کو براہ راست گرانے سے گریز کرنا چاہیے۔
کب آپ کو اپنے فون کی صفائی کرنا چاہیے؟
اگر آپ چارجنگ پورٹ یا ہیڈ فون پورٹ (اگر فون میں موجود ہو) تو اس پر توجہ مرکوز کرکے آپ گرد کو دیکھ سکتے ہیں۔
اسی طرح فون چارج نہیں ہو رہا یا فون کی آڈیو اچانک پہلے جیسی نہیں رہی تو اس کا مطلب ہے کہ فون کو صفائی کی ضرورت ہے۔
ماہرین کی جانب سے اسکرین کو ہفتے میں 2 سے 3 بار صاف کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ جراثیم اکٹھے نہ ہوسکیں۔



































