سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر ان دنوں ایک چونکا دینے والا دعویٰ تیزی سے وائرل ہورہا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نے مبینہ طور پر 70 پاؤنڈ ’’بچوں کا گوشت‘‘ کھایا۔
یہ انکشاف حال ہی میں جاری ہونے والی جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلز میں ہوا ہے۔ بعض پوسٹوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اداکار نے فلمساز ووڈی ایلن کے ساتھ ای میلز میں خود کو آدم خور قرار دیا۔
یہ سنسنی خیز دعوے دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین میں تشویش اور حیرت کی لہر دوڑ گئی، تاہم دستیاب دستاویزات اور مستند رپورٹس کا جائزہ لینے سے ایک بالکل مختلف حقیقت سامنے آئی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی لاکھوں دستاویزات، جو ایپسٹین کے نیٹ ورک اور روابط سے متعلق ہیں، ان میں لیونارڈو ڈی کیپریو کا نام صرف چند مواقع پر سامنے آتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ایک ای میل میں سابق برطانوی سفارتکار پیٹر مینڈلسن نے ایپسٹین سے ڈی کیپریو کے ممکنہ برانڈ اینڈورسمنٹس کے بارے میں رابطہ کیا تھا، جبکہ ایک اور ای میل میں 2016 کے دوران اداکار کے ساتھ ممکنہ ڈنر میٹنگ کا ذکر کیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ ان دستاویزات میں کہیں بھی آدم خوری، ’’چائلڈ میٹ‘‘ یا کسی بھی نوعیت کی مجرمانہ سرگرمی کا کوئی ذکر موجود نہیں۔
وائرل ہونے والے سنگین الزامات دراصل چند غیر مصدقہ ویب سائٹس اور سازشی نظریات پر مبنی رپورٹس سے پھیلے، جن میں مبہم اصطلاحات کو غلط انداز میں پیش کرکے عالمی شخصیات کے خلاف سنسنی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
سوشل میڈیا کے کمیونٹی فیکٹ چیکس اور آزاد تحقیق کے مطابق ڈی کیپریو کا نام فائلز میں صرف اس لیے آیا کیونکہ ایپسٹین مختلف مواقع پر بااثر شخصیات کا نام لے کر اپنے تعلقات بڑھا چڑھا کر بیان کرتا تھا۔
عدالتی ریکارڈ اور گواہیوں سے بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ اداکار نہ تو ایپسٹین کی کسی پراپرٹی پر دیکھے گئے اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قسم کی بدعنوانی یا غیر قانونی سرگرمی کا کوئی الزام ثابت ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا ہے اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن مہم کا حصہ ہے۔ فیکٹ چیک کے نتیجے میں واضح ہوا ہے کہ ایپسٹین دستاویزات میں لیونارڈو ڈی کیپریو کے خلاف آدم خوری یا کسی بھی سنگین جرم کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔




































