(ملک اشرف)لاہور ہائیکورٹ نے کرکٹر بابر اعظم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کرکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت عالیہ نے بابر اعظم کی اندراج مقدمہ کے خلاف دائر درخواست منظور کرلی،بابر اعظم نے درخواست میں جسٹس آف پیس کے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو چیلنج کیا تھا،جسٹس آف پیس نے خاتون حمیزہ مختار کی درخواست پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی تھی،خاتون نے درخواست گزار بابر اعظم پر شادی کا جھانسہ دے کر تعلقات قائم کرنے کا الزام لگایا تھا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے بابر اعظم کی درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیاجو8 صفحات پر مشتمل ہے،درخواست گزار بابر اعظم کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت پیش ہوئے۔
تحریری فیصلے میںکہاگیاہے کہ خاتون کے مطابق دونوں کے درمیان طویل عرصے تک تعلقات رہے،خاتون نے مؤقف اختیار کیا کہ تعلقات تقریباً آٹھ سال تک جاری رہے ،خاتون کے مطابق اس دوران وہ 2015 میں حاملہ بھی ہوئی،خاتون نے الزام لگایا کہ بعد میں اس کا حمل ضائع کروا دیا گیا،خاتون کے مطابق درخواست گزار نے اس سے بڑی رقم بھی حاصل کی۔
تحریری فیصلہ کے مطابق خاتون کا مؤقف تھا کہ بعد میں درخواست گزار نے شادی سے انکار کر دیا، جسٹس آف پیس نے خاتون کی درخواست منظور کرتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا،درخواست گزار نے جسٹس آف پیس کے حکم کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا، عدالت نے فریقین کے وکلاء کے تفصیلی دلائل سنے، مقدمہ کا ریکارڈ بھی تفصیل سے دیکھا، خاتون کے الزامات بظاہر قابلِ یقین نہیں، آٹھ سال تک خاموش رہنا غیر معمولی صورتحال ہے۔





































