تازہ تر ین

چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا نظارہ کیسا ہوتا ہے؟

زمین پر سورج اور چاند کو طلوع ہوتے تو آپ نے دیکھا ہوگا مگر چاند پر زمین کے طلوع ہونے کا نظارہ کیسا ہوتا ہے؟

ناسا کے آرٹیمس 2 مشن میں سوار خلا بازوں نے اس تصویر کو شیئر کیا ہے۔

ناسا کی جانب سے چاند کے مدار پر کامیابی سے چکر لگانے کے بعد آرٹیمس 2 مشن کی چند تصاویر کو شیئر کیا گیا ہے جس میں چاند سے زمین کے طلوع ہونے، چاند کی سطح اور چاند سے سورج کو ڈھانپنے جیسی تصاویر شامل ہیں۔

یہ تصاویر اورین اسپیس کرافٹ کی کھڑکیوں سے خلا بازوں نے کھینچی تھیں۔

ان میں سے ایک تصویر میں چاند سے زمین کے طلوع ہونے کی تھیں اور بالکل ایسا نظارہ تھا جیسا زمین سے چاند کے طلوع ہونے پر نظر آتا ہے۔

اس سے قبل 1968 میں اپولو 8 مشن میں جانے والے خلا باز نے ارتھ شائر کے نام سے مشہور تصویر کھینچی تھی۔

ایک تصویر میں دکھایا گیا کہ چاند کی سطح کیسی ہے جو زمین سے نظر نہیں آتی۔

چاند کے اس حصے کے گرد گھومتے ہوئے اورین اسپیس کرافٹ کا زمین پر ناسا کے کمانڈ کنٹرول سے رابطہ 40 منٹ تک منقطع رہا۔

چاند کے مدار کے گرد چکر لگانے کے بعد یہ چاروں خلا باز اب زمین کی جانب واپس آرہے ہیں اور 10 اپریل کو امریکی وقت کے مطابق رات 8 بجے (پاکستانی وقت کے مطابق 11 اپریل کی صبح 5 بجے) اورین اسپیس کرافٹ سان ڈیاگو کے قریب بحر الکاہل میں اترے گا۔

چاند کے مدار میں جانے والی پہلی خاتون کرسٹینا کچ نے چاند کی سطح کو دیکھنے کے بعد کہا کہ ‘چاند کو اتنے قریب سے دیکھنے پر میرے جذبات بے قابو ہوگئے، کچھ لمحات کے لیے تو مجھے لگا تھا کہ میں ایسا نہیں کر سکوں گی مگر اب یہ حقیقت بن چکا ہے’۔

ان کے ساتھی خلا باز اور پہلے سیاہ فام فرد وکٹر گلوور نے کہا کہ اورین اسپیس کرافٹ کی کھڑکی سے باہر دیکھنا بہت زیادہ متاثر کن تھا۔

آرٹیمس 2 مشن کا سفر یکم اپریل کو شروع ہوا تھا اور وہ 6 اپریل کو چاند کے مدار پر پہنچا۔

خلا بازوں کے مطابق اس سفر کا حیران کن لمحہ وہ تھا جب چاند سورج کے سامنے آگیا اور ہم نے مکمل تاریک چاند کو اس سورج گرہن کے دوران دیکھا، اس موقع پر ہم نے مریخ اور دیگر سیاروں کی پتلی قطار کا مشاہدہ بھی کیا۔

خیال رہے کہ آرٹیمس 2 مشن پر سوار خلا بازوں نے زمین سے خلا میں سب سے زیادہ فاصلے تک سفر کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

آرٹیمس 2 مشن کے اورین اسپیس کرافٹ میں 4 خلا باز موجود ہیں جنھوں نے اپریل 1970 میں اپولو 13 میں سوار افراد کے 2 لاکھ 48 ہزار 655 میل فاصلے تک خلائی سفر کے ریکارڈ کو توڑا اور چاند کے اس حصے کا مشاہدہ کیا جو زمین سے نظر نہیں آتا۔

ان خلا بازوں نے 2 لاکھ 52 ہزار میل سے زائد کا فاصلہ کیا۔

مشن میں سوار افراد نے چاند پر نظر آنے والے 2 گڑھوں کا نام بھی رکھا جن میں سے ایک کا نام Integrity رکھا جو کہ اورین اسپیس کرافٹ کے کیپسول کا نام ہے جبکہ دوسرے کا نام کیرول رکھا جو کہ مشن کمانڈر ریڈ وائزمین کی 2020 میں کینسر سے انتقال کر جانے والی اہلیہ کا نام ہے۔

اس سے قبل نومبر 2022 میں آرٹیمس 1 مشن چاند پر جاکر زمین پر واپس آنے میں کامیاب رہا تھا، مگر اس مشن میں کوئی انسان موجود نہیں تھا۔

2028 میں آرٹیمس 3 مشن کو روانہ کیا جائے گا جس میں سوار خلا باز چاند کی سطح پر قدم رکھیں گے۔

آرٹیمس 3 مشن میں سوار خلا باز چاند کے قطب جنوبی پر اتریں گے، جہاں اب تک کبھی انسانوں نے قدم نہیں رکھا۔


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain