تازہ تر ین

عمر بڑھنے کے باوجود جوان رہنا چاہتے ہیں؟ تو ایک عادت آج ہی اپنالیں

عمر میں اضافہ ایسا عمل ہے جس کو روکنا کسی کے لیے ممکن نہیں اور ہر گزرتے برس کے ساتھ بڑھاپے کے آثار قدرتی طور پر نمایاں ہوتے ہیں۔

مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ ایک عادت سے آپ بڑھاپے کی جانب سفر کی رفتار سست کر سکتے ہیں؟

جی ہاں واقعی اس عادت کو اپنانے سے عمر میں اضافے کے باوجود کو جوان رکھنے اور اچھی صحت کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

اس کے لیے بس سیاحت کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیں۔

یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ سیاحت اور سفر کا مثبت تجربہ جسم اور ذہن دونوں کی صحت کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اس سے بڑھاپے کی علامات کی رفتار کو سست کرنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق کے مطابق سیاحت سے بڑھاپے کو مکمل طور پر تو نہیں روکا جاسکتا مگر معمولات زندگی سے کچھ دنوں کی دوری سے جسم کے لیے توازن برقرار رکھنا آسان ہو جاتا ہے جبکہ جسم کی اندرونی مرمت کا عمل بھی تیز ہو جاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ بڑھاپا ایسا عمل ہے جسے ریورس نہیں کیا جاسکتا مگر اس کی رفتار کو سست کرسکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سیاحت سے شخصیت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ سماجی میل جول بڑھتا ہے جس سے بھی جذباتی صحت بہتر ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سفر کرنے سے لوگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج جرنل آف ٹریول ریسرچ میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل نومبر 2023 میں امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ 8 عادات کو اپنا کر آپ جسمانی عمر میں اضافے کی رفتار کو سست کر سکتے ہیں۔

جسمانی وزن، بلڈ شوگر، کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے جبکہ اچھی نیند اور غذائی عادات کو اپنانے سمیت جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنانے اور تمباکو نوشی سے گریز کرکے جسمانی عمر کی رفتار سست کی جا سکتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ان عادات سے دل کی صحت کو فائدہ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں حیاتیاتی عمر میں اضافے کی رفتار سست ہو جاتی ہے۔

اس تحقیق میں ساڑھے 6 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 47 سال تھی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کی دل کی صحت بہترین ہوتی ہے، وہ حیاتیاتی عمر کے لحاظ سے 6 سال زیادہ جوان ہوتے ہیں۔

خیال رہے کہ ویسے تو ہر فرد کی عمر کا تعین تاریخ پیدائش (کرانیکل ایج) سے کیا جاتا ہے مگر طبی لحاظ سے ایک حیاتیاتی عمر (بائیولوجیکل ایج) بھی ہوتی ہے جو جسمانی اور ذہنی افعال کی عمر کے مطابق ہوتی ہے۔

جینز، طرز زندگی اور دیگر عناصر اس حیاتیاتی عمر پر اثرات مرتب کرتے ہیں اور یہ عمر جتنی زیادہ ہوگی مختلف امراض کا خطرہ بھی اتنا زیادہ بڑھ جائے گا۔

محققین نے بتایا کہ نتائج سے کرانیکل ایج اور حیاتیاتی عمر کے درمیان تعلق کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہنتائج سے یہ ثابت ہوا ہے کہ طرز زندگی کی صحت مند عادات لمبی زندگی کے حصول میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔


اہم خبریں





   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain