امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ امریکا ایران کے پِک ایکس ماؤنٹین پر بہت جلد حملہ کرسکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہی۔
پِک ایکس ماؤنٹین ایران کی نطنز یورینیم افزودگی تنصیب کے قریب واقع ایک انتہائی مضبوط زیرِ زمین کمپلیکس ہے، جہاں دو گہرائی میں موجود سرنگوں کے نظام قائم ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ مقام ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام کو پِک ایکس ماؤنٹین کے اطراف ہونے والی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات حاصل ہیں اور اگر حالات خراب ہوئے تو امریکا سخت کارروائی کرے گا۔ تاہم انہوں نے ممکنہ حملے کی کوئی مخصوص تاریخ یا وقت نہیں بتایا۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری فوجی محاذ آرائی کو مکمل جنگ کہنے کے بجائے ’’فوجی تنازع‘‘ قرار دیا اور اس کی شدت کو کم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے لیے یہ کوئی بڑا معاملہ نہیں۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کیا ہے اور تہران کو جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پِک ایکس ماؤنٹین پر ممکنہ امریکی حملے کے اعلان سے خطے میں جاری کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں اور جوابی حملے دوبارہ شدت اختیار کرچکے ہیں۔

