سابق آسٹریلوی فاسٹ بولر گلین میک گرا نے پاکستان کے لیجنڈری فاسٹ بولر وسیم اکرم کو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کا عظیم ترین بائیں ہاتھ کا فاسٹ بولر قرار دیا ہے۔ یہ رائے میک گرا نے ایک پوڈکاسٹ میں اپنے ہم وطن سابق فاسٹ بولرز جیسن گلیسپی اور ڈیمین فلیمنگ کے ساتھ گفتگو کے دوران دی۔ تینوں سابق آسٹریلوی بولرز نے اپنی آل ٹائم ٹاپ فائیو لیفٹ آرم ٹیسٹ پیسرز کی فہرست میں وسیم اکرم کو پہلے نمبر پر رکھا۔
میک گرا نے وسیم اکرم کی غیر معمولی بولنگ ایکشن، رفتار اور گیند کو دونوں جانب سوئنگ کرنے کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اکرم کا ایکشن انتہائی منفرد تھا۔ انہوں نے یاد کیا کہ جب انہوں نے پہلی مرتبہ وسیم اکرم کا سامنا بطور بلے باز کیا تو انہیں سمجھ ہی نہیں آیا کہ گیند کہاں سے گزری اور وکٹ کیپر کے دستانوں میں پہنچ گئی۔
میک گرا نے وسیم اکرم کی مہارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وسیم کی چھوٹی انگلی میں بھی ان کے پورے جسم سے زیادہ مہارت تھی۔
جیسن گلیسپی نے بھی اکرم کو اپنی فہرست میں نمبر ایک رکھا، جبکہ ڈیمین فلیمنگ نے بھی وسیم اکرم کو دیگر عظیم لیفٹ آرم بولرز پر ترجیح دی۔ فلیمنگ نے راولپنڈی میں وسیم اکرم کی ایک گیند کو اپنے ٹیسٹ کیریئر کی مشکل ترین گیند قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر کیا۔
وسیم اکرم نے پاکستان کی جانب سے 104 ٹیسٹ میچز میں 414 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ون ڈے کرکٹ میں ان کے نام 502 وکٹیں ہیں۔ وہ 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستانی ٹیم کا بھی اہم حصہ تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دسمبر 2025 میں مچل اسٹارک نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے لیفٹ آرم پیسر کے طور پر وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑ دیا تھا، تاہم اکرم آج بھی عظیم ترین بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولرز میں شمار ہوتے ہیں۔

