سابق پاکستان ٹیسٹ کوچ جیسن گلیسپی نے قومی ٹیم میں حالیہ بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور کھلاڑیوں کی برطرفیوں پر چیئرمین سلیکشن کمیٹی عاقب جاوید کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ گلیسپی نے کہا کہ عاقب جاوید کو دوسروں پر الزام لگانے کے بجائے ”آئینے میں خود کو دیکھنا چاہیے“۔
گلیسپی کے مطابق موجودہ صورتحال میں پاکستانی کھلاڑی خوف کے ساتھ کھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر سلمان علی آغا کی مثال دی، جو انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کر رہے تھے، لیکن اگلے ٹیسٹ سے ڈراپ ہونے کے بعد انہیں وطن واپس بھیج دیا گیا۔ گلیسپی نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ فیصلہ کس حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا۔
انہوں نے عاقب جاوید پر الزام عائد کیا کہ سلیکشن کے حوالے سے کوئی واضح حکمتِ عملی نظر نہیں آتی اور فیصلے بار بار تبدیل کیے جا رہے ہیں۔ گلیسپی نے یہ بھی کہا کہ عاقب جاوید نے حال ہی میں گیری کرسٹن اور خود گلیسپی کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا، حالانکہ عاقب گزشتہ دو سال سے سلیکشن کمیٹی کے سربراہ ہیں۔
گلیسپی نے کھلاڑیوں کے ساتھ برطرفی کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض کھلاڑیوں کو اپنی برطرفی کا علم خاندان، دوستوں یا میڈیا کے ذریعے ہوا۔ ان کے مطابق یہ کھلاڑیوں کے ساتھ انتہائی بے احترامی ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب پی سی بی نے انگلینڈ کے خلاف مسلسل دو ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور باؤلنگ کوچ عمر گل کو ذمہ داریوں سے ہٹا دیا جبکہ سات کھلاڑیوں کو بھی انگلینڈ سے واپس بھیج دیا۔
گلیسپی نے 2024 میں تقریباً آٹھ ماہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی کوچنگ کی تھی اور ان کی زیرِ قیادت پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز 2-1 سے جیتی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے دسمبر 2024 میں عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا، جس کے بعد عاقب جاوید کو عبوری ریڈ بال کوچ مقرر کیا گیا۔
اہم نکتہ: جیسن گلیسپی اور عاقب جاوید کے درمیان اختلافات نئے نہیں ہیں۔ مارچ 2025 میں بھی گلیسپی نے عاقب جاوید پر گیری کرسٹن اور ان کے خلاف پسِ پردہ مہم چلانے کا الزام لگایا تھا۔

