لاہور(کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے ایڈیشنل سیکرٹری صحت پنجاب کے بیان کی روشنی میں پنجاب میں ڈی ایچ کیو ہسپتالوں کے لیے سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کیخلاف درخواست نمٹا دی، سیکرٹری صحت پنجاب نے موقف اپنایا کہ خریدی جانے والی سی ٹی سکین مشینیں دل کے امراض کے لیے بھی استعمال ہوں گی، انہوں نے کہا کہ یہ الزام غلط ہے کہ یہ مشینیں دل کے امراض کے لیے کارآمد نہیں ہیں اور خریداری سے قبل انہیں ماہرین سے چیک کروایا جا رہا ہے،درخواست گزار کے وکیل ہارون دوگل نے موقف اختیار کیا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے 13 اگست کو 24 سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کا اشتہار دیا گیا جس کے لیے بولی کی تاریخ 17 اگست مقرر کی گئی، مجوزہ مشینیں کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری یونٹس میں استعمال کے لیے بھی مطلوب ہیں جبکہ صرف سی ٹی سکینر میں 32 سلائسز کی تعداد کارڈیک صلاحیت ثابت نہیں کرتی، مشینوں کی تکنیکی شرائط پنجاب سی ٹی پروکیورمنٹ رولز کے خلاف ہیں اور پی سی ون کی منظوری سے تجاوز کرتے ہوئے خریداری کا عمل شروع کیا گیا، استدعا ہے کہ 17 ستمبر کو سی ٹی سکین مشینوں کی خریداری کے لیے بولی کے عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔
