اسلام آباد ، راولپنڈی(نیوز ایجنسیاں) پی ٹی آئی کے 27ستمبر کے لانگ مارچ سے نمٹنے کی
تیاریاں حتمی مراحل میں داخل ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں راولپنڈی ڈویژن میں 43 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ پولیس کی معاونت کے لیے رینجرز بھی طلب کی گئی ہے۔علاوہ ازیں اسلام آباد کو کنٹینروں سے بھر دیا گیا۔اس کے ساتھ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیس فل اسمبلی اور پبلک آرڈر ایکٹ کا نفاذ کردیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی کرنے پر 3 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں مظاہرین کو جڑواں شہروں میں داخلے سے روکنے کے لیے اٹک، راولپنڈی، مری، جہلم اور چکوال میں فورس تعینات کی گئی ہے۔ ادھر اٹک میں 30ہزار سے زائد جبکہ راولپنڈی ضلع میں 10ہزار سے زائد پولیس اہلکار لانگ مارچ ڈیوٹی سرانجام دیں گے۔ راولپنڈی میں 26انٹری پوائنٹس اور 73بلاکنگ پوائنٹس پر پولیس تعینات ہوگی۔ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے 500 ریپٹر گنز اور 57 ہزار ربڑ کی گولیوں کی ڈیمانڈ کی گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے 710 آنسو گیس گنز اور ہزاروں اضافی آنسو گیس شیلز بھی طلب کیے گئے ہیں۔ لانگ مارچ کی نگرانی کے لیے 12 کواڈ کاپٹرز اور ان کے آپریٹرز بھی طلب کرلیے گئے ہیں۔ ممکنہ فسادات سے نمٹنے کے لیے 4 ہزار 50 اینٹی رائٹ کٹس اور 4 ہزار لانگ ٹرانسپیرنٹ شیلڈز کی ڈیمانڈ کی گئی ہے، جبکہ پولیس کے لیے 1500 بلٹ پروف ہیلمٹ اور 1500 بلٹ پروف جیکٹس بھی طلب کی گئی ہیں۔ دریں اثنا راولپنڈی اور اسلام آباد کو مارچ کے قریب پہنچنے تک معمول کے مطابق کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام ویٹ اینڈ سی پالیسی کے تحت صورتحال کا جائزہ لے کر ردعمل کا فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ پنجاب کی حدود میں مارچ کے داخلے اور پیش قدمی کے بعد صورتحال کے مطابق کارروائی کا فیصلہ ہوگا۔ راولپنڈی ریجن اور میانوالی میں پولیس کی معاونت کے لیے رینجرز طلب کی گئی ہے۔ہوم ڈیپارٹمنٹ پنجاب نے رینجرز کی تعیناتی کی سفارشات وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کردی ہیں۔ راولپنڈی کے لیے رینجرز کی 3 کمپنیاں اور اٹک کے لیے 5 ونگز تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ٹیکسلا میں رینجرز کی 2 کمپنیاں جبکہ جہلم اور میانوالی کے لیے ایک ایک کمپنی طلب کی گئی ہے۔ رینجرز کی تعیناتی 22 ستمبر سے 5 اکتوبر تک آرٹیکل 245 کے تحت مانگی گئی ہے۔واضح رہے کہ موٹروے ایم ون اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ/ترنول انٹرچینج، سنگجانی/AWT انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج، برہان انٹرچینج، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی انٹرچینج اور چھچھ انٹرچینج تاحکم ثانی ٹریفک کے لیے بند ہیں۔ موٹروے ایم 14 ہکلہ سے کنڈل تک بھی دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ ہکلہ، فتح جنگ، پنڈی گھیپ، کھڑپہ، تراپ، داد خیل، کوٹ بیلیاں، عیسی خیل اور کنڈل انٹرچینجز تاحکم ثانی بند رہیں گے۔جی ٹی روڈ این 5 بھی اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔ موٹروے پولیس ایم ون پر صوابی انٹرچینج سے ٹریفک کو لوکل روڈ پر ڈائیورٹ کروا رہی ہے۔ جی ٹی روڈ پر مارگلہ کے مقام پر دونوں اطراف سڑک کی ایک ایک لین ٹریفک کے لیے کھلی رکھی گئی ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے مختلف راستوں پر ایک ہزار سے زائد کنٹینر لگادیے گئے۔ شہر کے اندر بھی ایک ہزار کنٹینر پہنچا دیے گئے ہیں۔ پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ جب کہ امن امان کے قیام کو یقینی بنانے کے لیے رینجرز طلب کرلی گئی ہے۔ موٹروے ایم ٹو پر اسلام آباد کے لیے مال بردار اور بڑی گاڑیوں کے داخلے پر پابندی لگادی گئی۔ ایم 14 اور پشاور موٹر وے بھی ٹریفک کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پنجاب حکومت نے 27 ستمبر سے موبائل اور انٹرنیٹ سروس سست کرنے کی درخواست بھی کردی ہے۔دوسری طرف وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیس فل اسمبلی اور پبلک آرڈر ایکٹ کا نفاذ’ خلاف ورزی کرنے پر تین سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے، وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی قسم کے اجتماع کی اجازت نہیں ہے۔انتظامیہ کے مطابق پیس فل اسمبلی اور پبلک آرڈر ایکٹ 2024 کے تحت بھی شہر میں اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے پر 3 سال قید کی سزا ہے۔ شہریوں سے گزارش ہے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ مت بنیں۔
سکیورٹی پلان
