اسلام آباد ، لاہور ، پشاور ( نیوز ایجنسیاں) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی۔ جبکہ مشیر وزیر اعظم رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ موخرکیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت میں اس وقت مسائل ختم کرنے کی سوچ نہیں ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی اور پی ٹی آئی قیادت بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن انہیں پتا ہے کس سے بات کرنی ہے ، بدقسمتی سے ابھی بات نہیں ہورہی۔انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج سے پہلے ہی خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگا ہوا ہے۔دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجا ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروا کر ملک کو مسائل سے نکالا جاسکتا ہے ، بانی سے ملاقات کا کوئی پیغام دیا بھی گیا تو ان تک نہیں پہنچا۔بعد ازاں بیرسٹر گوہر علی خان نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک کے مختلف حصوں سے تقریباً 1500پارٹی ورکرز، متعدد اراکینِ قومی اسمبلی، صوبائی قانون سازوں اور ایک سینیٹر کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں اور فیملی کے چار افراد کی گرفتاری خالصتاً سیاسی انتقام ہے۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق، مینٹی ننس آف پبلک آرڈر یعنی ایم پی او کے تحت قومی اسمبلی کے اہم اراکین عادل بزنجو، میاں احسن جمال، اور ثنا اللہ مستی خیل سمیت سینیٹر سیف اللہ نیازی اور دیگر علاقائی رہنماؤں کو تحویل میں لیا گیا ہے۔اس حراستی کارروائی میں پولیس نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خاندانی افراد کو بھی شامل کیا ہے۔ لاہور اور پنجاب کے دیگر علاقوں میں کی جانے والی ان کارروائیوں کے دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں باقاعدہ نوٹیفکیشن کے بغیر ہی عملاً گورنر راج نافذ کر دیا گیا ہے، صوبے میں ارکان ہمارے ہیں لیکن اختیار کسی اور کا چلتا ہے، یہ صورتحال جمہوریت کے لیے انتہائی خطرناک ہے اور پورے صوبے کا کنٹرول سنبھالا ہوا ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پشاور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنے صوبے کی ابتر حالت پر توجہ دینے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کرنا چاہتی ہے، ان کے اپنے صوبے میں آگ لگی ہے اور یہ لاہور پہنچ گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ٹک ٹاک اور صرف سوشل میڈیا کی سیاست کر رہی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیر افضل مروت نے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے بغیر کسی تیاری کے قدم اٹھا کر خود کو بند گلی میں کھڑا کر دیا ہے اور کارکنوں کو بھی نہیں معلوم کہ مارچ کس مقصد کے لیے کیا جا رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت انا اور تکبر کا شکار ہے، جبکہ اگر وزیراعظم باہر سے بیرسٹر گوہر کو ایک فون کر لیں تو پی ٹی آئی کو فیس سیونگ مل سکتی ہے۔ادھر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ مخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ ایک ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ شہر میں کنٹینر کو حفاظتی اقدامات کے طور پر رکھا گیا ہے، کنٹینرسڑک کنارے پڑے ہیں اور سڑکیں کھلی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت سے بیک ڈور رابطے اب بھی ہیں، لانگ مارچ موخر کیے جانے تک ان سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، لانگ مارچ سے متعلق صرف بیانات دیئے جارہے ہیں، عملی طورپرمارچ نہیں ہوگا۔رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کسی کو بھی چڑھ دوڑنے کی اجازت نہیں۔
بیرسٹر گوہر
