واشنگٹن(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان مسابقت کو موثر انداز میں سنبھالنے، تجارت، سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت سمیت اہم امور پر گفتگو کی گئی۔ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کے ساتھ لان میں چینی صدر کے اعزاز میں شاندار استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں فوجی فلائی پاسٹ اور گارڈ آف آنر بھی شامل تھا۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں نے اوول آفس میں مذاکرات کیے، جبکہ شی جن پنگ کے اعزاز میں باضابطہ اسٹیٹ ڈنر بھی دیا گیا۔اس سے ایک روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز پر خود جاکر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پنگ لی یوان کا استقبال کیا تھا۔ امریکی صدر کی جانب سے کسی غیرملکی سربراہ کا ایئرپورٹ پر ذاتی طور پر استقبال ایک غیرمعمولی سفارتی اقدام قرار دیا گیا ہے۔ملاقات میں مصنوعی ذہانت اور سپر انٹیلی جنس سے پیدا ہونے والے چیلنجز بھی زیرِغور آئے۔ چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین پر تاریخی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انسانی ترقی کو آگے بڑھائیں اور مصنوعی ذہانت کی ترقی کو انسانی کنٹرول میں رکھتے ہوئے اسے انسانیت کی بھلائی کے لیے استعمال کریں۔شی جن پنگ نے امریکا میں ایک چڑیا گھر کے لیے پانڈاز کی ایک جوڑی بھی دینے کا اعلان کیا، جسے چین کی روایتی پانڈا ڈپلومیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی ملاقات کا اہم موضوع رہے۔ امریکی اور چینی حکام نے تجارتی جنگ بندی میں مزید توسیع پر اتفاق کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف تنازع کو عارضی طور پر قابو میں رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران سے متعلق زیرِالتوا معاملات پر بھی چینی صدر سے بات چیت کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی، نایاب معدنیات اور علاقائی سکیورٹی بھی اہم موضوعات میں شامل ہیں۔شی جن پنگ کا دورہ جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں چائے کی نشست اور امریکی نیشنل آرکائیوز کے دورے کے بعد اختتام پذیر ہوگا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے وائٹ ہاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے پانچ برسوں میں ایک لاکھ امریکی نوجوانوں کو تعلیمی و ثقافتی تبادلہ پروگراموں کے تحت چین آنے کی دعوت دی جائے گی۔شی جن پنگ نے چین اور امریکا کے درمیان دوستی کی علامت کے طور پر دو پانڈا بھی امریکا بھجوانے کا اعلان کیا۔ یہ پانڈا اٹلانٹا کے زو میں رکھے جائیں گے، تحفے میں پانڈا دینا ایک طویل عرصے سے چین کی سفارتی دوستی اور خیر سگالی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اس موقع پر صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیے اپنے عوام کی توقعات پر پورا اتریں اور تاریخی ذمے داری کا مظاہرہ کریں۔ آئیے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے لیے مسلسل کام کریں اور مل کر ایک بہتر دنیا کی تعمیر کریں۔وائٹ ہاس نے اوول آفس میں ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات کی تصویر جاری کر دی، دونوں رہنما اس تاریخی دفتر میں دو طرفہ ملاقات کر رہے ہیں۔ دونوں رہنماں کے درمیان وفود کے ہمراہ توسیع شدہ دو طرفہ اجلاس بھی ہوں گے۔چینی صدر شی جن پنگ وائٹ ہاس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر چینی صدر نے کہا کہ امریکا اور چین کے تعلقات اسٹریٹجک استحکام پر مبنی رہے ہیں۔ آج امریکا اور چین ایک تاریخی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے موضوع پر چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ امریکا اور چین کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی محفوظ طریقے سے ہو۔ چین کے پاس اے آئی کو اچھے مقاصد کے لیے تیار کرنے اور اس کا انتظام سنبھالنے کی صلاحیت اور ذمہ داری دونوں موجود ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اے آئی کی ترقی ہمیشہ انسانی کنٹرول میں رہے اور عوام کی فلاح و بہبود کا باعث بنے۔
چینی صدر
