اسلام آباد (عادل عباسی) پاکستان تحریک انصاف
کے27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب اعلان کردہ لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کے معاملے پر پارٹی کے اندر اور اپوزیشن اتحاد میں طویل مشاورت کے بعد نئی حکمت عملی سامنے آگئی ہے۔ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کو موخر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نئی تاریخ اکتوبر کے آغاز میں رکھنے کا عندیہ دیا ہے جبکہ دستیاب اطلاعات کے مطابق نئی تاریخ4 یا5 اکتوبر کے درمیان زیر غور رہی۔ بعض تازہ رپورٹس میں 5 اکتوبر کی تاریخ پر اتفاق کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ اچانک سامنے نہیں آیا بلکہ اس سے قبل تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے پارٹی رہنمائوں کے درمیان کئی گھنٹوں تک مشاورت جاری رہی۔ ذرائع کے مطابق اجلاسوں میں لانگ مارچ کی تیاریوں، راستوں کی بندش، کارکنوں کی گرفتاریوں، وسائل اور عملی حکمت عملی سمیت مختلف امور پر آرا میں اختلاف پایا گیا۔ بعض رہنمائوں کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ موجودہ حالات میں27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کرنا مشکل ہوسکتا ہے اور اس کے بجائے سیاسی رابطوں اور مزید تیاری کے بعد اگلا قدم اٹھایا جائے۔ ذرائع کے مطابق معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوگیا جب اپوزیشن اتحاد کے اہم رہنمائوں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کی جانب سے27 ستمبر کی کال آگے بڑھانے پر تحفظات سامنے آئے۔ دونوں رہنمائوں کی جانب سے مبینہ طور پر یہ موقف اختیار کیا گیا کہ اگر لانگ مارچ کی تاریخ تبدیل کرنی ہے تو اس معاملے پر مکمل مشاورت ضروری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے محمود اچکزئی سے متعدد مرتبہ رابطہ کیا گیا تاہم ابتدائی طور پر معاملہ طے نہ ہوسکا۔ بعدازاں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے سہیل آفریدی کا اہم پیغام لے کر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس سے ملاقات کی، جس کے بعد لانگ مارچ کو موخر کرنے کے معاملے پر اتفاق رائے کی راہ ہموار ہوئی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں بھی لانگ مارچ کے معاملے پر رہنمائوں کے درمیان مختلف آرا سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں کبھی لانگ مارچ کے لیے درکار مالی وسائل اور انتظامات زیر بحث رہے تو کبھی 27 ستمبر کی کال برقرار رکھنے یا اسے آگے بڑھانے پر بحث ہوتی رہی۔ بعض رہنمائوں نے موجودہ حالات میں مارچ کی کامیابی، راستوں کی بندش اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے امکانات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ اس سے ایک روز قبل خیبر پختونخوا کے بعض ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے بھی لانگ مارچ موخر کرکے اکتوبر کے آغاز میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور حکومت سے مذاکرات کی تجاویز سامنے آئی تھیں۔ اجلاس میں یہ موقف بھی سامنے آیا کہ اگر لانگ مارچ کے نتیجے میں بڑی تعداد اسلام آباد نہ پہنچ سکی تو سیاسی نقصان تحریک انصاف کو برداشت کرنا پڑے گا۔
