اسلام آباد ( نیوز ایجنسیاں) سکیورٹی فورسز نے بلوچستان میں کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی سرپرستی یافتہ 33 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا جبکہ دوسری کارروائی میں ایک اور دہشت گرد مارا گیا۔ وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان وزارت دفاع کی جانب سے اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چیک پوسٹ کو تباہ کرنے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وضاحت کردی۔جبکہ افغان طالبان رجیم تمام شواہد کے باوجود دہشت گردوں کی سرپرستی سے مسلسل انکار کر رہی ہے۔ بلوچستان میں بھارتی سرپرستی یافتہ فتنہ خوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ان کارروائیوں میں 21ستمبر سے اب تک 33خوارج دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق 24ستمبر کو آپریشن شعبان کے تسلسل میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے مزید ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں سرگرم 5خوارج ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق خوارج کے ٹھکانوں سے ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکا خیزمواد بھی برآمد کیا گیا۔دوسری کارروائی جمعہ کو ضلع نوشکی میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی، آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو موثر انداز میں نشانہ بنایا جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11دہشت گرد ہلاک کردیے گئے۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔ ملک سے غیرملکی سرپرستی اور حمایت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جائے گا۔دریں اثناء سکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے مزابند رینج میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کا ایک دہشتگرد ہلاک کردیا گیا۔سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ فورسزنے مصدقہ اطلاعات پرپاک ایران سرحد کے قریب دہشت گردوں کی نقل وحرکت کا پتہ لگایا، سکیورٹی فورسزنے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کی ایران فرارہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔سکیورٹی فورسز بلوچستان سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم،آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ادھر وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان وزارت دفاع کی جانب سے اسپن بولدک کے قریب پاکستانی چیک پوسٹ کو تباہ کرنے کے دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وضاحت کردی۔وزارت اطلاعات و نشریات نے افغان وزارت دفاع کے دعوے کو جعلی اور من گھڑت قرار دینے کا فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے بتایا کہ افغان وزارت دفاع نے اسپن بولدک کے قریب پاکستانی پوسٹ تباہ کرنے کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ وزارت اطلاعات کا کہنا تھا کہ گلستان سیکٹر میں 24اور 25ستمبر کی درمیانی شب افغان جارحیت کی کوشش ناکام بنائی گئی، جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی چوکیوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران کم از کم 13افغان طالبان اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے اور افغان دعوے کے برعکس سرحدی جھڑپ اور جوابی کارروائی کے شواہد ویڈیوز اور تصاویر میں موجود ہیں۔وزارت اطلاعات نے بتایا کہ افغان وزارت دفاع کی جانب سے واقعے سے متعلق حقائق مسخ کرنے کی کوشش کی گئی اور افغان وزارت دفاع کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔دوسری جانب افغان طالبان رجیم تمام شواہد کے باوجود دہشت گردوں کی سرپرستی سے مسلسل انکار کر رہی ہے۔ پاکستان میں مارے گئے 260افغان دہشت گردوں کی نام ،پتے و خاندانی تفصیلات کے ساتھ شناخت ہو چکی ہے، غیر شناخت شدہ اور فعال دہشت گرد اس اعدادوشمار میں شامل نہیں۔ہلاک افغان دہشت گردوں کے جنازے ان کے آبائی علاقوں میں ہوئے اور طالبان رجیم کے عہدیدار بھی جنازوں میں شریک ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دراندازی کرنے والے فتنة الخوارج کے گروپس میں 70 فیصد تک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان سے ہے، طالبان رجیم نے چھوڑا گیا امریکی و نیٹو اسلحہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد وں کو فراہم کیا۔امریکی ساختہ M-4 رائفلیں، ریمنگٹن، سنائپر رائفلیں اور نائٹ وژن ڈیوائسز اب دہشت گردوں کے زیرِ استعمال ہیں۔خیال رہے کہ 2026 میں افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی میں 1,327 پاکستانی شہید اور 2,484 زخمی ہو چکے ہیں، بھارت کی پشت پناہی سے فتن الخوارج اور فتنہ الہندوستان افغانستان سے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی میں سرگرم ہیں۔
دہشت گرد
