لاہور (نیوز ایجنسیاں) بانی پاکستان تحریک انصاف کی تینوں بہنوں نے جیل میں مبینہ طور پر بنیادی حقوق کی عدم فراہمی کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر دی،اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی نے کہا کہ علیمہ خان، نورین خانم اور عظمیٰ خان کو اہلخانہ سے ملاقات، کپڑوں اور ادویات کی فراہمی کی اجازت نہیں دی جا رہی۔انہوں نے ایکس پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہم حماد اظہر کی انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں پیشی کے موقع پر موجود تھے جہاں فلک جاوید بھی کوٹ لکھپت جیل سے آئی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کو جیل میں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کے خلاف انہوں نے بطور احتجاج بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔انہوں نے کہا کہ تینوں بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ، صنم جاوید، فلک جاوید اور دیگر خواتین نے بھی بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔ فلک جاوید کے مطابق دیگر خواتین قیدی بھی بھوک ہڑتال میں شامل ہونا چاہتی تھیں تاہم علیمہ خان نے انہیں منع کر دیا۔معین قریشی نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بارہا کہہ چکی ہیں کہ خواتین ان کی ریڈ لائن ہیں، تو پھر یہ کیسی ریڈ لائن ہے کہ عمران خان کے خاندان کی خواتین پابند سلاسل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی بہنوں نے کبھی کسی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیا، نہ ہی کسی سیاسی یا کور کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی بہنوں نے بطور اپوزیشن لیڈر انہیں بھی کبھی کوئی سیاسی مشورہ نہیں دیا بلکہ ان کا ہمیشہ کہنا تھا کہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، وہ صرف بہن ہونے کے ناطے اپنے بھائی سے ملاقات کے لیے آتی ہیں۔اپوزیشن لیڈر نے آئی جی جیل خانہ جات اور ہوم سیکرٹری سے مطالبہ کیا کہ تینوں بہنوں کو جیل مینوئل اور انسانی حقوق کے تحت حاصل حقوق فراہم کیے جائیں، ان کی اہلخانہ سے ملاقات کرائی جائے اور انہیں ادویات و کپڑے فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس صورتحال کو پرامن طریقے سے برداشت کر رہے ہیں تاہم پنجاب حکومت کا رویہ قابل قبول نہیں۔
بھوک ہڑتال
