واشنگٹن، تہران ( نیوز ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور تہران پر عائد
پابندیاں ختم کرنے سے متعلق کوئی پیشکش نہیں کی،ادھر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ، آبنائے ہرمزکھولنے کیلئے ہماری شرائط واضح ہیں۔دوسری جانب امریکی طیارہ بردار جنگی بیڑہ تھیوڈور روز ویلٹ ایرانی ناکہ بندی کیلئے مشرقِ وسطی روانہ ہوگیا جبکہ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں 2چھوٹے بحری جہاز قبضے میں لیکر 50افراد گرفتار کرلئے۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ انہوں نے ایران کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور تہران پر عائد پابندیاں ختم کرنے سے متعلق کوئی پیشکش نہیں کی، امریکی حکام نے ایران کے ثالثوں سے بات چیت کی ہے۔ امریکی میڈیا پر جاری ایک خبر کی تردید کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی غلط خبر کو ہٹائے۔ صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران کو کچھ بھی پیشکش نہیں کی۔ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے اس دعوے کو دہرایا کہ امریکا ایران کے خلاف بہت جلد جنگ جیت جائے گا اور گیس کی قیمتیں تیزی سے کم ہو جائیں گی۔دریں اثناء امریکی طیارہ بردار جنگی بحری جہاز تھیوڈور روز ویلٹ مشرقِ وسطیٰ روانہ ہو گیا۔امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جنگی بحری جہاز تھیوڈور روز ویلٹ کیلیفورنیا سے روانہ ہوا جو پہلے سے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات جنگی بحری جہاز جارج واشنگٹن کی جگہ لے گا۔قبل ازیںامریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کر لیا تو ایران دنیا کو بلیک میل کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔امریکی میڈیا کو انٹرویو کے دوران مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایرانی تیل کے علاوہ خطے سے گزرنے والے تیل کی مقدار ایران پر امریکی اور اسرائیلی جنگ شروع ہونے سے پہلے کی سطح کے تقریبا برابر ہے۔انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی صورت میں ایران آبنائے ہرمز پر کنٹرول حاصل کر کے ٹیکس عائد کر سکتا ہے اور یہ فیصلہ بھی کر سکتا ہے کہ کس ملک کو توانائی فراہم کی جائے گی اور کسے نہیں، یہ صورتِ حال ناقابلِ قبول ایک بڑا خطرہ بن جائے گی۔علاوہ ازیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران اور عراق کے درمیان زائرین کی پروازیں بحال کرنے کیلئے ایران پر عائد پابندیوں میں محدود نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔امریکی محکمہ خزانہ ایک ماہ کیلئے عراقی ایئر ویز کو ایران اور نجف کے درمیان پروازوں کی اجازت دے گا، جبکہ بعد میں مستقل استثنیٰ پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور مذاکرات کار باقر قالیباف نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا تو خطے میں کوئی بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا اور اگر ہماری سکیورٹی یقینی نہ بنائی گئی تو کوئی انفراسٹرکچر محفوظ نہیں رہے گا۔جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ پروپیگنڈا شروع ہوگیاہے، ایران سے کچھ باتیں منسوب کرکے دعوے کئے جارہے ہیں، ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، آبنائے ہرمزکھولنے کیلئے ہماری شرائط واضح ہیں، قطر کے ذریعے ایران کا سات نکاتی منصوبہ امریکہ تک پہنچا دیا گیا ہے اور اب ایران امریکی جواب کا انتظار کر رہا ہے۔دریں اثناء ایران نے آبنائے ہرمز میں جزیرہ قشم اور میناب کے ساحلی پانیوں سے 2چھوٹے بحری جہاز قبضے میں لے کر 50 افراد کو گرفتار کرلیا۔ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ افراد کو ایرانی قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔
ٹرمپ
