اسلام آباد(آئی این پی )روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے وزارت داخلہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے اہم ملاقات کی، جبکہ دونوں رہنمائوں کے درمیان وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات بھی ہوئے۔ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے مشترکہ مفادات کے تمام شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان منظم جرائم کی روک تھام، معلومات کے تبادلے، مجرمان کے تبادلے اور ری ایڈمیشن معاہدے پر جلد عملدرآمد کو حتمی شکل دینے پر اتفاق ہوا، علاوہ ازیں سائبر کرائم کی روک تھام، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دونوں ممالک کی پولیس اکیڈمیز کے مابین اشتراک کار بڑھانے پر بھی مکمل ہم آہنگی ظاہر کی گئی، طے پایا کہ دونوں ممالک کی وزارتِ داخلہ کے ورکنگ گروپس جلد ایک دوسرے کے ملک کے دورے کریں گے۔مذاکرات میں پاکستان سے روس ہنر مند افرادی قوت بھیجنے کے ساتھ ساتھ سیاحوں اور بزنس کمیونٹی کے لیے ویزا کے حصول کو آسان بنانے پر بھی سیر حاصل تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ منظم جرائم کی روک تھام کا معاہدہ باہمی تعاون کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔ویزا رجیم میں آسانی سے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط مزید مضبوط ہوں گے، پاکستان بالخصوص سائبر کرائم کے سدباب کیلئے روس کے تجربات اور جدید تکنیک سے استفادہ کرنا چاہتا ہے، اس وقت 1,300 کے قریب پاکستانی طلبا روس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، اور ہماری خواہش ہے کہ اعلی تعلیم کیلئے مزید پاکستانی طلبا روس جائیں۔روس کے وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف نے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی، منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی مائیگریشن جیسے سنگین مسائل اور تمام منظم جرائم کی روک تھام کے لئے مشترکہ اقدامات انتہائی ضروری ہیں، روس نے موثر اور جامع اقدامات کے ذریعے اپنے ملک میں سائبر کرائم کی شرح میں 33 فیصد تک کمی حاصل کی ہے اور اس سلسلے میں پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔
