اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی ) کاروباری حلقوں نے اسلام آباد میں پی ای ٹی بوتلوں میں پیک مصنوعات کی فروخت پر پابندی کے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس نوعیت کی مکمل پابندی سے معاشی سرگرمیاں متاثر، ری سائیکلنگ کی موجودہ صنعت کمزور اور سرکاری محصولات میں کمی ہو سکتی ہے۔چیف
کمشنر/چیئرمین کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے دفتر کی ہدایات پر اسلام آباد میں دکانداروں اور روزمرہ استعمال کی اشیا بنانے والی کمپنیوں کو مختلف مصنوعات کی پی ای ٹی بوتلوں میں فروخت بند کرنے کی زبانی ہدایات دی گئی ہیں۔ تاجروں کے مطابق گزشتہ رات سے انتظامیہ نے کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور بعض دکانوں کو سیل بھی کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات سے کاروباری سرگرمیوں اور سرکاری آمدن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔کاروباری حلقوں کے مطابق پی ای ٹی بوتلوں پر مکمل پابندی کے لیے سائنسی بنیادیں واضح نہیں اور اس سے ماحول کو فائدے کے بجائے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئی سی ٹی سنگل یوز پلاسٹکس ریگولیشنز 20233 کے قواعد کے مقاصد سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔پی ای ٹی ایک ہلکا مواد ہے جو کھانے پینے کی اشیا کی پیکنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اسے دوبارہ قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ استعمال شدہ بوتلوں سے ریشے، پیکنگ کا سامان اور نئی بوتلیں تیار کی جاتی ہیں۔ اس شعبے سے کچرا جمع کرنے، چھانٹی کرنے اور ری سائیکلنگ کے کام سے وابستہ لوگوں کو روزگار بھی ملتا ہے۔ مکمل پابندی سے یہ کاروبار اور روزگار متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق پیکیجنگ کے ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لیتے وقت خام مال کی تیاری، نقل و حمل، استعمال کے بعد کچرا جمع کرنے اور اسے دوبارہ استعمال کرنے کے تمام مراحل کو دیکھنا ضروری ہے۔ پی ای ٹی کی جگہ شیشے یا ایلومینیم کا استعمال لازما ماحول کے لیے بہتر نہیں ہوتا۔ بھاری مواد کی نقل و حمل سے ایندھن کا استعمال اور کاربن کا اخراج بڑھ سکتا ہے، جبکہ بعض دوسرے مواد کی تیاری میں بھی زیادہ توانائی اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ قابلِ ری سائیکل بوتلوں پر مکمل پابندی لگانے کے بجائے کچرا جمع کرنے، اسے الگ کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ پلاسٹک ماحول میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔یورپی یونین سمیت کئی عالمی نظاموں میں بھی قابلِ ری سائیکل پیکیجنگ کے استعمال، کچرا جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔ ان نظاموں میں کمپنیوں کو بھی پیکیجنگ کے فضلے کو جمع کرنے اور دوبارہ استعمال کرنے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت اسلام آباد میں پلاسٹک کے استعمال سے متعلق 2023 کے قواعد پہلے ہی نافذ ہیں۔ کاروباری حلقوں کے مطابق ان قواعد پر مثر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے کمپنیوں کے تعاون سے استعمال شدہ بوتلیں جمع کرنے اور ری سائیکلنگ کا نظام بہتر بنایا جائے، کچرے کو شروع ہی میں الگ کیا جائے اور ری سائیکلنگ کی سہولتوں میں سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔
