اسلام آباد(آئی این پی)وزیر اعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ فیصل واوڈا کی گفتگو سے ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کا مقصد صرف اور صرف دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے، اور حکومت اپنے مقصد کے حصول تک اسے جاری رکھ سکتی ہے، خواہ یہ ایک سال کے لیے ہو یا 2029 تک تاہم، مقصد حاصل ہونے پر پارلیمنٹ جب چاہے ایمرجنسی ختم کرنے کا اختیار رکھتی ہے کیونکہ ہمیشہ کے لیے کوئی بھی چیز نافذ نہیں رکھی جا سکتی۔ایمرجنسی کے نفاذ اور سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیصل واوڈا کی گفتگو سے ہمارا کوئی سروکار نہیں ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑی ہوتی تو یہ سخت اقدام اٹھانے کی نوبت نہ آتی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اب یہ وہ روایتی دہشت گردی نہیں رہی جس کا ملک کو گزشتہ 40 سال سے سامنا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ معرکہ حق میں دشمن دیکھ چکا ہے کہ وہ کھلی عالمی جنگ نہیں لڑ سکتا، اس لیے اس نے مختلف پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا ارادہ کیا ہے۔ اسی لیے ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے متفقہ فیصلہ کیا ہے کہ اب دہشت گردی کا پوری قوت سے خاتمہ کیا جائے گا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ کالعدم تنظیمیں اور پی ٹی آئی کے بعض عناصر بھتہ خوری اور منشیات کے دھندے میں ملوث ہیں، اور جو شخص پاکستان کے دشمنوں کی پناہ میں بیٹھا ہو اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔سابقہ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے انکشاف کیا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کرنے والے افراد انتہائی سینئر اور معاملے کا مکمل ادراک رکھنے والے تھے۔ تاہم، جب مذاکراتی ٹیم سہیل آفریدی سے بات کرتی تھی تو وہ پیچھے کسی اور سے ہدایت لیتے تھے۔انہوں نے دعوی کیا کہ پسِ پردہ مراد سعید موجود تھے جو ان مذاکرات کو کامیاب نہیں ہونے دیتے تھے، کیونکہ ان کے ذہن میں ایک جھوٹا تصور تھا کہ وہ اسلام آباد جا کر اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایمرجنسی کے باوجود صوبے کی تعمیر و ترقی کے تمام تر کام معمول کے مطابق اور ساتھ ساتھ جاری رہیں گے۔
