بنکاک، اسلام آباد(نیوز ایجنسیاں )وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے موڈیز کے نمائندوں
سے اہم ملاقات کی ہے، جس کے بعد ملکی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کے امکانات ہیں۔ ملاقات میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ، معاشی اشاریوں اور عالمی سرمایہ منڈیوں تک رسائی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ورلڈ بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہونے والی اس ملاقات میں پاکستان کے معاشی منظرنامے اور خودمختار کریڈٹ پروفائل کا جائزہ لیا گیا۔اس موقع پر فریقین نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری، مالیاتی اور بیرونی شعبوں کے اشاریوں میں پیش رفت اور بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک دوبارہ رسائی کے امکانات پر گفتگو کی۔وزیر خزانہ نے آگاہ کیا کہ پاکستان بیرونی قرضوں کے مجموعی حجم میں اضافہ کیے بغیر مہنگے اور قلیل مدتی قرضوں کی جگہ طویل مدتی مالی وسائل حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ملاقات میں قرضوں کے انتظام اور مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے طویل مدتی وسائل کے حصول سے متعلق اقدامات بھی زیر بحث آئے۔دریں اثناء عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں استحکام اور اقتصادی جائزہ مکمل ہونے کے بعد سٹاف لیول معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، ملاقات بنکاک میں آئی ایم ایف اور ورلڈبینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ہوئی۔ملاقات میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحاتی اقدامات اور اقتصادی اہداف پر عملدرآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف حکام کو ملکی معیشت کی تازہ صورتحال اور مقررہ اہداف کے حصول کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔ملاقات کے دوران آئی ایم ایف کی سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان معاشی استحکام کے ساتھ پائیدار ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کیلئے قرض پروگرام کی شرائط پر موثر عملدرآمد یقینی بنائے، انہوں نے بجٹ میں مقرر کردہ محصولات کے اہداف حاصل کرنے اور معاشی اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔قبل ازیںوفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ رواں مالی سال ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، پاکستان کی واضح سمت امداد سے تجارت اور سرمایہ کاری کی جانب منتقلی ہے،حکومت عالمی شراکت داری مضبوط بنانے اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔نیوز ایشیا چینل کو انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان خلیجی ممالک، چین، امریکا اور دیگر دیرینہ شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی روابط مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے، چین اور امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک دوسرے کے متبادل کے بجائے بیک وقت آگے بڑھانا ہے، چین پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے اور سی پیک، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کا اہم حصہ ہے۔وفاقی وزیرخزانہ نے بتایا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں سڑکوں، بندرگاہوں اور بجلی گھروں سمیت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پرتوجہ دی گئی، دوسرے مرحلے میں موجودہ بنیادی ڈھانچے سے معاشی فوائد حاصل کرنے، کاروباری مواقع بڑھانے اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر کام کیا جارہا ہے، چین کے ساتھ بعض مشترکہ منصوبوں میں برآمدات کیلئے مصنوعات بھی تیار کی جا رہی ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا کہ پاکستان امریکا کیساتھ بھی اقتصادی تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے، پاکستانی قیادت کے امریکی انتظامیہ کیساتھ اچھے تعلقات کو اقتصادی تعاون آگے بڑھانے کیلئے بروئے کارلایا جائے گا، امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار جبکہ یورپی یونین کو دوسرے نمبر پر ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے باعث مختلف خطوں کے درمیان تعاون کی اہمیت بڑھ رہی ہے، پاکستان خلیجی ممالک، وسطی ایشیائی ریاستوں اور آسیان ممالک کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کر رہا ہے۔
وزیر خزانہ
