ملتان،مظفرگڑھ ،خان گڑھ (کرائم رپورٹر،کورٹ رپورٹر،تحصیل رپورٹر،نامہ نگار،نمائندہ خصوصی) تھانہ ڈی ایچ اے کے علاقہ نجی کالونی میں گاڑی کی ٹکر سے قتل کردئے جانے والے 15 سالہ نوجوان وسیم عباس کی نماز جنازہ ادا کردی گئی نماز جنازہ اسکے آبائی علاقہ مظفرگڑھ میں ادا کی گئی جس میں اہل علاقہ نے شرکت کی اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار رہی۔دوسری جانب پولیس نے افسوسناک واقعہ کا مقدمہ قتل کی دفعات تحت درج کرلیا ہے تھانہ ڈی ایچ اے میں درج مقدمہ نمبر 990/26 پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا جسکے متن کے مطابق مظفر گڑھ کا رہائشی وسیم عباس ملتان میں ایک یتیم خانے میں رہائش پزیر تھا جو توقیر نامی ٹھیکدار کے پاس بطور الیکٹریشن کام کرتا تھا وسیم عباس کے چچازاد مختار کے مطابق وسیم عباس کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا اور باندھ کر رکھا جاتا تھا جس نے بھاگنے کی کوشش کی تو توقیر نے اس پر گاڑی چڑھا دی اور اسے قتل کردیا مقدمے میں توقیر اور اسکے ساتھ گاڑی میں سوار امجد کو نامزد کیا ہے توقیر کو گزشتہ روز افسوسناک واقعے کے وقت ہی گرفتار کرلیا گیا گیا جبکہ امجد تاحال فرار ہے۔ 15 سالہ یتیم بچے وسیم کو مبینہ طور پر جبری ملازمت سے انکار پر گاڑی سے کچل کر ہلاک کرنے کے مقدمے میں گرفتار مرکزی ملزم توقیر نذیر کو عدالت میں پیش کرنے کیلئے لایا گیا، جہاں موجود وکلا مشتعل ہو گئے اور انہوں نے پولیس کی موجودگی میں ملزم پر لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کیا،عدالت میں پیشی کے موقع پر وکلا نے ملزم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک یتیم بچے کو قتل کرتے ہوئے شرم نہیں آئی اور واقعے کے بعد بھی وہ بے حسی کے ساتھ وہاں کھڑا رہا وکلا شہباز خان بلوچ اور دیگر کا کہنا تھا کہ وہ مقتول بچے کو انصاف دلانے اور ملزم کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے قانونی جدوجہد کریں گے۔دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ نے مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے پولیس کے حوالے کر دیا۔سی پی او ملتان اختر فاروق نے گزشتہ روز ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس میں پولیس کو مدعی بنایا گیا ہے تاکہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے انہوں نے بتایا کہ مرکزی ملزم توقیر گرفتار ہے جبکہ اسکے ساتھی امجد کی لوکیشن فیصل اباد کی آرہی ہے جسکی گرفتاری کے لئے پولیس ٹیمیں فیصل آباد موجود ہیں جلد گرفتار کرلیا جائے گا دوسری جانب گرفتار ملزم کو عدالت پیش کیا گیا جہاں سے پولیس نے اس کا پانچ روز کا ریمانڈ حاصل کرلیا ہے جبکہ عدالت پیشی کے دوران افسوسناک واقعے پر شدید غم و غصہ میں مبتلا وکلا برادری نے توقیر کو تشدد کا نشانہ بھی ںنایا تاہم پولیس اس کو حفاظت میں لے کر واپس تھانہ روانہ ہوگئی پولیس کی جانب سے فرار ملزم کی گرفتاری کے لئے تاحال چھاپے جاری ہیں جبکہ افسوسناک واقعے پر ملتان کی فضا تاحال سوگوار ہے۔گاڑی کے نیچے کچل کر جاں بحق ہونے والا بچہ وسیم عباس نظم کلاس کا طالب علم، بہن بھائی کے ساتھ یتیم خانے میں مقیم تھا ، ٹھیکیدار کے پاس بغیر معاوضہ کام کرنے کا انکشاف بھی ہوا ہے، ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وہ مظفر گڑھ کے علاقے چوک قریشی کا رہائشی تھا، اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور وہ اپنے ایک بھائی علی سجاد اور بہن کے ساتھ ادارہ خودی کے تحت چلنے والے ہمدرد ہاؤس نامی یتیم خانے میں پانچ سال سے رہ رہا تھا، یہ خود نویں کلاس میں پڑھ رہا تھا جبکہ اس کا بھائی پہلی کلاس اور بہن بھی زیر تعلیم ہے ، اس یتیم خانے میں 150 بچے بچیاں مزید بھی قیام پذیر ہیں، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بچہ بغیر معاوضے کے اس ٹھیکیدار توقیر نذیر کے پاس کام کر رہا تھا ، یتیم خانے کے انچارج علی فراز کے مطابق بچہ خود کام سیکھنا چاہتا تھا جس پر اسے الیکٹریشن کے پاس کام کے لیے بھیجا گیا تھا۔محنت کرکے اپنے خاندان کا سہارا بننے کے خواب دیکھنے والے معصوم وسیم کی المناک موت نے بیوہ ماں کی امیدوں کا چراغ گل کردیا اہل علاقہ کی بڑی تعداد سوگوار خاندان سے اظہارِ تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچ رہی ہے جبکہ ہر آنکھ اشک بار ہے اہل علاقہ نے اس دلخراش واقعے پر شدید دکھ، افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک یتیم اور بے سہارا بچے کی جان کا ضیاع انتہائی سنگین معاملہ ہے جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جے یو آئی مظلوم خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے تمام حقائق قوم کے سامنے لائے جائیں اور جرم ثابت ہونے پر ذمہ دار ملزم کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے اہل علاقہ نے وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، متاثرہ بیوہ ماں اور اس کے کمسن بیٹے کو مکمل قانونی تحفظ، سرکاری معاونت اور انصاف فراہم کیا جائے غریب اور بے سہارا خاندان کی داد رسی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ معصوم وسیم اب واپس نہیں آسکتا لیکن اس کی مظلوم ماں کو انصاف دلانا پنجاب حکومت اور معاشرے کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے اور یتیم کی آہ اور مظلوم کی فریاد کو طاقت اور اثرورسوخ کے نیچے دبنے نہیں دیا جانا چاہیے۔
وسیم عباس سپرد خاک
